متاثرین داسو ڈیم نے مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف احتجاجاً بائے پاس پر بھی کام بند کروا دیا

متاثرین داسو ڈیم نے مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف احتجاجاً بائے پاس پر بھی کام بند کروا دیا

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان(نامہ نگار) کوہستان، متاثرین داسو ڈیم زیرآب نے مطالبات کی عدم منظوری کے باعث داسو ڈیم پر کام مکمل طورپر بند کردیاہے،چار ماہ قبل ڈیم کی سروے بند کرچکے ،آج کے بعد بائی پاسز کا کام بھی بند ہوگا، حکومت ہمیں بالائے طاق رکھ کر ڈیم تعمیر نہیں کرسکتی، حقو ق لیکر رہیں گے ۔کمیٹی ممبران کا جلسے سے خطاب ۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کوہستان کے صدرمقام داسو سے پانچ کلومیٹر بالائی جانب زیر تعمیر 4320میگاواٹ کا پروجیکٹ داسو ڈیم پر متاثرین نے مطالبات کی عدم منظوری کے پیش نظرکام روک دیاہے ۔

برسین کے مقام پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی ممبران میں سے راجہ محمد عارف، حاجی گلاب، حاجی سمندر ،حاجی غلام سیدودیگر نے کہا کہ متعلقہ حکام کو بارہا ڈیڈلائن دینے کے باوجود وہ ٹس سے مست نہیں ہوئے ۔ حکام بالا کو پیش کردہ نو نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر منظوری کیلئے تین ماہ سے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں،چار مہینوں سے تمام علاقوں کی سروے بند کرچکے ہیں مگر متعلقہ حکام کوئی بات ماننے کو تیار نہیں اور اپنی تنخواہوں کو طول دئے بیٹھے ہیں۔ مجبوری کی صورت میں ڈیم پر تعمیراتی کام بند کرناپڑا۔ کمیٹی ممبران نے کہا کہ اُن کے زمینوں پر غیر قانونی قبضہ ہے جبکہ اُن کے ساتھ مشاورت کئے بغیر ریٹ تجویزکئے ہیں،جسے کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے ۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کمیٹی ممبرشمس الرحمن نے بتایا کہ متاثرین خوشی سے سڑکوں پر نہیں آئے ، اُن کے مطالبات انتہائی جائیز ہیں ،متعلقہ حکام راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں اور بیوروکریسی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈال رہی ہے جس کے باعث قومی مفادکا پروجیکٹ تاخیر کا شکارہے ۔

img_2107

انہوں نے بتایا کہ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اُن کی زمینوں کی قمیتوں کا تعین بدنیتی سے تجویز کیاہے اُن کے املا ک واراضیات ہر لحاظ سے سیمی اربن کے مساوی ہے لہذا نہیں بھی سیم اربن جیسا ریٹ دیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں واملاک کی موجودہ ہیت کے مطابق زمینداروں کی مشاورت سے سروے کی جائے جس میں کوئی کیفیت شامل نہ ہو۔ اس موقع پر ایم پی اے عبدالستار خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین داسوڈیم حقیقی کے مطالبات کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ اپنا ذاتی کوئی ایجنڈا نہیں۔متاثرین کے فیصلے کو سرخم تسلیم کرتے ہوئے ایک قدم آگے چلنے کو تیارہوں ۔ ماضی میں معتبرین نے اداروں میں پھول ڈالے جس کا نقصان اجتماعی قوم کو اُٹھانا پڑا۔ انہوں نے واپڈا حکام کو انتباہ کیا کہ فوری طورپر اُن کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر معاہدہ کیا جائے تاکہ مسقبل میں یہ قومی مفادکا عظیم پروجیکٹ تاخیر کا شکار نہ ہو۔ بعدازاں متاثرین نے ایکسز روڈ پر دھرنا دیکر زیر تعمیر کام بند کروادیا متاثرین واپڈا مردبادہ کے نعرے لگارہے تھے ۔متاثرین نے روزانہ کی بنیاد پر زیر تعمیر علاقے کی نگرانی کا بھی اعلان کیا۔

متاثرین کے مطالبات ذیل ہیں ۔

۱۔ واپڈا اور انتظامیہ کی جانب سے خود ساختہ کٹگری Bجس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جس میں مجوزہ ریٹ کٹگری Cسے کم رکھا گیا ہے جس کو کٹگری Cکے برابر تصور کرکے زمین کی صرف دو اقسام بنائی جائے جیسے ملحقہ میگاپروجیکٹ دیامر بھاشا ڈیم میں کیا گیاہے ۔

۲۔ Built-Upپراپرٹی کا ریٹ حالیہ صوبائی شیڈول کے مطابق دیا جائے جبکہ پھلدار پودرختان کا ریٹ دیامر بھاشا ڈیم کے ملحقہ علاقوں داریل اور تانگیر علاقوں کے برابر دیا جائے ۔

۳۔ بغیر ادائیگیوں کے زمینوں پر ناجائیز قبضہ ختم کیا جائے یا فوری طورپر ادائیگیاں یقینی بنائی جائے ۔

۴۔ تمام ڈسٹرکٹ کیڈر پوسٹوں پر بیرونی علاقوں خاص طورپر پنجاب سے بھرتی شدہ لوگوں کو واپس بھیج کر خالی آسامیوں پر مقامی متاثرین کو کو بھرتی کیا جائے اور نان سکل پوسٹوں پر کوہستان کا سو فیصد حق تسلیم کیا جائے ۔جبکہ رینٹ پر لی جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مقامی سطح پر لی جائے اور ایریا ڈویلپمنٹ فنڈ میں ریزروائیر ایریا کو ترجیحی بنادوں پرفنڈدیا جائے۔

۵۔ غیر قانونی طورپر مسمار کئے گئے مکانات کے معاوضے دئے جائیں۔

۶۔ خفیہ اور جدید مشینری کے ذریعے کی جانے والی سروے کو منسوخ تصور کی جائے اور املاک کی موجودہیئت کی سروے کرکے ایوارڈ تیار کیا جائے۔

۷۔ورلڈ بنک کی جانب سے جارہ کردہ کتابچہ کے مطابق متاثرین کو حقوق دئے جائیں ۔

۸۔ متاثرین زیرآب داسو ڈیم کی تعمیر میں ہر قسم کا تعاون کریں گے بشرطیکہ اُن کے قرارداد کی روشنی میں اُن کے ساتھ باہمی تحریری معاہدہ کیا جائے جس میں ضلعی انتظامیہ ، واپڈا اورمتاثرین تینوں فریقوں کے دستخط ہوں ،تاکہ مستقبل میں فریقین کو مسائل کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

۹۔ شاہراہ قراقرم کے اطراف دوکانوں ، ہوٹلوں اور مکانات نیز لنک روڈ ز اور پبلک مقامات پر موجود عمارات و دکانات کو کمرشل قراردیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔