الطاف کی واپسی 

الطاف کی واپسی 

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

سکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے منی لا نڈرنگ کیس میں بری کئے جانے کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ایک بار پھر کراچی کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت کے مالک ہوگئے ہیں کراچی اور حیدر اباد میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے الطاف بھائی کو ایک بار پھر اپنا قائد تسلیم کر لیاہے اور ایم کیو ایم کی ٹارگٹ کلنگ والی پوزیشن ایک بار پھر بحال ہوگئی ہے میڈیا بھی اس کی شہادت دیتا ہے اور کراچی کی گلیوں میں گذرنے والے لوگ بھی اس کی شہادت دیتے ہیں کراچی کے پرامن عوام اور محب وطن حلقے، مزدوری اور محنت کرنے والے لوگ مایوسی کے عالم میں اپنے آپ سے کہتے ہیں

میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

مجھے رات کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا

جس زمانے میں بچوں کے بازاری کھلونے دستیاب نہیں تھے اُس زمانے کی مائیں بچوں کو ڈرانے اور بہلا نے کے لئے چوہے کے نام سے کام لیا کر تی تھیں وہ دیکھو چوہا بل میں گھس گیا، وہ دیکھو چوہا بل سے نکل آیا وہ دیکھو چوہا صند وق کے نیچے ہے وہ دیکھو چوہے کی دُم کتنی لمبی ہے وہ دیکھو چوہے نے کا ن کھڑے کئے وہ دیکھو چوہا اخروٹ کی تلاش میں ہے اس قسم کی خبروں سے بچہ ڈرتا بھی تھا اور بہل بھی جاتا تھا یہ بچے کو ڈرانے اور بہلا نے کے حربے تھے اب وہ زمانے نہیں رہے بچوں کے ہاتھوں میں کھلو نے آگئے ہیں چوہا باہر نکلے یا بل میں گھسے بچے کو اس کے ساتھ سر و کار نہیں رہا کراچی کی سیاست میں 1984 سے ا ب تک الطاف حسین کا نام بچون کو ڈرانے اور بہلا نے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے الطاف حسین گیا،الطاف حسین آیا نائن زیرو گرایا گیا نائن زیر و پھر اُٹھا یا گیا الطاف حسین پر قتل کا مقدمہ چلا یا گیا الطاف حسین کے خلاف ثبوت نہیں ملا الطاف حسین کو لندن پولیس نے پکڑ لیا الطاف بھائی کو لند ن پولیس نے چھوڑ دیا الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ چلا گیا الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بری کیا گیاان باتوں سے عوام تنگ آگئے ہیں الطاف حسین کی مختصر سوانح عمری میں ٹائمز میگزین نے شائع کی ہے اس میں الطاف حسین نے اپنا سیاسی پس منظر بیان کر تے ہوئے ایک چھوٹے سے واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کہتا ہے 1964 میں میری عمر 10 سال تھی اپنی ماں کی ساتھ ماموں کے گھر گیا واپسی پر رکشہ لیا راستے میں بڑا جلوس تھا رکشہ والے نے راستہ بد ل دیا آگے پھر جلوس تھا اُس نے پھر راستہ بدل دیا ایک جگہ پر رکشہ رک گیا رکشہ والے نے ہمیں سمجھا یا مہاجرین نے فاطمہ جناح کو ووٹ دیا تھا صدر ایوب خان جلوسوں کے ذریعے مہاجرین کو ڈرا رہا ہے یہ لوگ ہمیں جان سے مار دینگے میں رکشہ واپس لے جاتا ہوں تم یہاں سے تنگ گلیوں کا رُخ کرو اور پیدل جاؤ تنگ گلیوں میں صدر ایوب خان کا جلوس نہیں آئے گا میں اپنی ماں کو لیکر تنگ گلیوں سے پیدل گذرا تو جگہ جگہ میرے دل میں خیال آیا کہ فاطمہ جناح کو ووٹ دینا اتنا بڑا جرم تو نہیں جس کی پاداش میں مہاجرین کو جان سے مار دیا جائے میں نے اپنی ما ں سے وعدہ کیا کہ میں بڑا ہو کر صدر ایوب خان اور ان کی قوم سے اس ظلم کا بدلہ لے لوں گا خدا نے موقع دیا تو میں نے ایم کیو ایم بنائی یہ پس منظر الطاف حسین نے خود بیا ن کیا ہے یہ سوانح عمری ”آف پرنٹ“ کی صورت میں الگ بھی شائع کی گئی ہے 22 اگست سے 20 اکتوبر تک بمشکل دو مہینے کراچی اور حیدر اباد کے لوگوں کو امن اور سکون کی زندگی نصیب ہوئی تھی 20 اکتو بر کے بعد پھر الطاف حسین کا سو رج نئی آب و تاب کے ساتھ طلو ع ہوا ہے اب معلوم ہوا ہے کہ مصطفی کمال اور فاروق ستار کے کردار جعلی تھے یہ دونوں اس ڈرامے کے اندر مہمان ادا کار تھے کہانی میں ان دونوں کو مہمان کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا اس کہانی کا ڈائر یکٹر پاکستانی نہیں ہے مہمان ادا کار اور بھی ہیں اپنے اپنے وقت پر سٹیج پر آکر ادا کاری کے جو ہر دکھا تے ہیں کہانی میں کراچی پولیس اور رینجر ز کا کوئی کردار نہیں ان دونوں کو باہر سے لاکر خواہ مخواہ کہانی میں داخل کیا جاتا ہے ان کی قربانیوں اور شہادتوں کو کہانی میں جگہ نہیں دی گئی اس لئے دونوں کہانی سے باہر رہ کر اس میں جان ڈال دیتے ہیں یہ المیہ کہانی ہے اس کاا ٓغاز بھی المیہ سے ہوا ہے اس کا انجام بھی ٹر یجڈی ہی ہوگا رینجرز کی کا میاب کاروائیوں کے بعد کراچی اور حیدر آباد کے عوام کو دو مہینے جو ارام اور امن نصیب ہوا تھا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی میں امن آسکتا ہے بشر طیکہ پاکستانی حکومت، امریکہ اور برطانیہ کی غلامی سے باہر آجائے بیرونی دباؤ قبول نہ کرے اور مجرموں کی سر کو بی میں کسی مصلحت سے کا م نہ لے۔فیض احمد فیض کہتا ہے

ہر ایک شب ہر گھڑی گزرے قیامت،یوں تو ہوتا ہے

مگرہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا

گنو سب حسرتیں جو خون ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

میرے قاتل!حساب خون بہا ایسے نہیں ہوتا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments