زلزلہ کو ایک سال گزر گئے، متاثرین کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے

زلزلہ کو ایک سال گزر گئے، متاثرین کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر( رپورٹ : فدا علی شاہ غذریؔ ) 26اکتو بر 2015کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو آج ایک سال مکمل ہورہا ہے، پو رے ملک با لعموم گلگت بلتستان اور چترال میں با لخصو ص بڑے پیما نے پر تبا ہی پھیلی تھی۔ زلز لے کے بعد مُتا ثرین کی بحا لی حکو مت اور دیگر رفا حی اداروں کے لئے کسی آزما ئش سے کم نہ تھی ۔ ضلع غذر میں سب سے زیادہ تحصیل پھنڈ ر کے گردو نواح کے تمام علا قوں میں زلزلے کے بے رحم جھٹکوں نے لوگوں کی ہستی بستی زندگی لمحوں میں آجیرن بنا دی جو سخت سر دی میں آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہو گئے تھے۔ صو با ئی حکو مت گلگت بلتستان مُتا ثرین کی بحا لی میں جہاں معمول کی سست روی اور لا پر واہی کا مظا ہرہ کی وہاں وسا ئل کی کمی کا رو نا دھو تی رہی حد تو یہ ہے کہ صو با ئی حکو مت وزیر اعظم پا کستان کے اعلان کر دہ امدادی رقم ( مکمل نقصان کے لئے دو لاکھ اور جزوی کے لئے ایک لاکھ ) کی قلیل امداد بھی قسطوں میں دیتی رہی ابھی تک دوسری قسط ادا ہو چکی ہے نہ جا نے قسطوں کا سلسلہ کب ختم ہو گا ۔ پہلی قسط میں مکمل نقصان والے متا ثرین کو مبلغ 1 لاکھ40 ہزار جبکہ جزوی والوں کو صرف 70 ہزار رو پے ادا کر د ےئے گئے جبکہ دو سری قسط 12اور 6ہزار پر مشتمل تھی۔

زلزلے کے غا لباً 26دن بعد وزیر اعلی گلگت بلتستان پھنڈر میں متا ثرین سے ملا قات میں ان کی مکمل داد رسی، امداد اور تعا ون کا اعلان ضرو ر کیا تھا لیکن اپنے وعدے سے ایسے مکر گئے کہ مڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی ۔ وادی پھنڈر کے تقر یباً 30گھرا نے وزیر اعلیٰ کے حکم پر ضلعی ہیڈ کو ارٹر گا ہکوچ میں کرا ئے کے مکا نوں میں سر دیاں گزار ے مگر اُن کے لئے اعلان کر دہ کرا ئے کی رقم بھی نہ جا نے کہاں اور کس کی نذر ہو گئی، کسی کو معلوم نہیں۔ پھنڈر جیسے دو ر افتا دہ اور مشکل تحصیل میں بسنے والے غر یب لو گوں کی زندگی قر ضوں میں دب چکی ہے جو قرض لے کر مکا نات کی تعمیر شروع کی500 مکمل تبا ہ شدہ گھروں کی تعمیر کے لئے محتا ط اندازے کے مطا بق کم ازکم 20کرو ڑ رو پے کی خطیر رقم د رکار تھی جوکہ متا ثرین زلزلہ ا پنی مدد آپ کے تحت مختلف ذرا ئع سے حا صل کر کے تعمیر ات کا عمل جا ری رکھے ہو ئے ہیں ۔ اس کے علاوہ1230 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا جس کی لاگت کا اندازہ بھی کروڈوں میں ہے۔

صوبا ئی حکو مت کو چا ہئے تھا کہ اس رقم کے لئے آسان شرا ئط پر قرضہ مہیا کر دیتی لیکن ستم ظریفی دیکھئے حکو مت مُتا ثرین کو قسطوں میں ذلیل کر نے کے ساتھ ساتھ بجلی کی فرا ہمی میں بھی رکا وٹ ڈال رہی ہے۔ تحصیل پھنڈر میں تعمیرات کا سیزن تقر یباً ختم ہو نے ولا ہے لیکن بجلی کی آنکھ مچو لی جا ری ہے جس کی وجہ سے متا ثرین ذہنی کوفت کے شکار ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو صو رت حال کی سنگینی کا نوٹس لینا ہو گا با قی ما ندہ رقم کی ادا ئیگی میں مزید تا خیر اور بجلی کی فرا ہمی میں رکا وٹ متا ثرین کے صبرو تحمل کا امتحان ہو گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔