زلزلہ ۔۔۔۔۔۔۔ زندگی چھین نہ سکا

زلزلہ ۔۔۔۔۔۔۔ زندگی چھین نہ سکا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شمس الحق نوازش غذری

گزشتہ سال بھی گذشتہ کل کی طرح 26 اکتوبر کی تاریخ تھی لیکن دن سوموار کا تھا اور سن 2015 ؁ء کا۔۔۔۔ راقم اپنے دو نو نہالوں عارفین اور ایمل کے ہمراہ ڈسٹرکٹ غذر کی سب سے چھوٹی اور محسور کُن بستی’’ہوپر‘‘(Hooper )سے گزر رہا تھا۔ ہوپر انگریزی میں ’’اناج کی کوٹھی‘‘ کو کہتے ہیں ۔ اردو کی لغت میں اس نام کا کوئی وجود نہیں۔شینا زبان و ادب کے ماہرین اس کی وجہ تسمیۂ سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔لیکن میری تحقیق و جستجو کا دائرہ میری کاہلی اور سستی کی زد میں آگیا یوں تا حال یہ تُشنہ باقی رہا کہ ’’ہوپر‘‘ شینا زبان و ادب کی لغت میں کسے کہتے ہیں۔بچپن سے ابتک بارہا دفعہ یہیں سے گزرنا ہوا لیکن فلک بوس اور سنگلاخ پہاڑوں کی آغوش میں گمنامی کے مزوں میں ڈوبے مختصر سی بستی کے حُسن گلوسوز سے بالکل نا آشنا رہا۔

غالباً جون کے اوآخرکی ایک جُھلسا دینے والی دوپہر تھی۔اچانک ’’ہوپر‘‘ جانے اور ’’ہوپر ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔دن کونسا تھا اور تاریخ کونسی تھی یہ بھی ذہن سے محو ہو گیا لیکن ’’ہوپر‘‘ کی حُسن و دلکشی بُری طرح دل و دماغ سے چپک گیا۔سوچتا رہا اور خود کو کوستا رہا۔غذر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر گاہکوچ کی بغل میں واقع اس قدر دلنشین اور دلفریب وادی سے اجنبیت روئے زمین میں واقع فردوس نُمابقعۂ خاکی سے نا شکری نہیں تو اور کیا ہے۔ سات سمندر پار سے گورے انہی مناظر سے دل آویزی اور دل پزیری کیلئے ان کوہساروں کا خاک چھانتے رہتے ہیں لیکن ہم اس دیس کے باسی اور اس ملک کا شہری ہونے کے باوجود نباتات کی اوجھل میں واقع فردوس بریں کی زیارت سے محروم ہیں۔

انتہائی قدیم طرز کا بنا ہوا دیسی گھر جو صرف ستونوں کے سہارے ایستادہ ہے اپنے اندر دور قدیم کے معماران نقش و نگار کے ماہرین کا بے بہا تاریخ مدفون کر رکھا ہے۔ درِ گھر ہر کسی کے لئے واہ ہے لیکن اس میں دُخول کی ہمت کا سر صرف قوی دل گردوں کے مالکان کے سر سجتا ہے۔ زندگی کی محبت میں گرفتارطبع نازک انسانوں کا اس کے اندر جھانکتے ہی بدن میں لرزاں طاری ہو جاتا ہے۔پر تعیش اور آسودہ زندگی گزر بسر کرنے والے اس گھر کے اندرونی جغرافیہ سے محروم رہتے ہیں۔البتہ پہاڑوں کے ڈسے ہوئے دیوانے بے دھڑک اندر داخل ہو جاتے ہیں لیکن کوہساروں کے باسیوں کے مزاج میں تحقیق و جستجو کا ماد ہ شامل ہی نہیں سو دیکھتے ہیں اور دیکھ کے چلے جاتے ہیں۔ اس گھر کے آس پاس مختلف پھلدار درختوں کے اوپر سیاحوں کے بیٹھنے کے لئے سیٹیں نصب کی گئی ہیں اوپر چڑھنے کے لئے جہاز کے سیڑھی کی طرز کے لکڑی کی سیڑھیاں لگی ہیں، پانی کے آبشار کی مدح سرائی کا تو ساری دنیا قائل ہے لیکن وادی ہوپر کے اوپر دو پہاڑوں کی تنگ گھاٹی میں ” آبشار” (Water Shed) کے بہنے کا انداز اور اس کا آب و تاب دیکھ کر دنیا کی بلند ترین مقام شندور سے چترال کی جانب بہنے والے ” آبشار ” کا بھی آبِ ندامت بہانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔یہاں پہنچ کر اس کے حسن و دلکشی میں کھو جانا فطری ہے ۔ دیسی طرز کا ہوٹل۔۔۔۔ ہوٹل کے صحن میں دودھ کے طرز کے آبِ زلال پر چھوٹا سا معلق پل۔۔۔۔پل کے سامنے پتھر کا ٹیبل۔۔۔۔ٹیبل پر پتھر کا ایش۔۔۔۔سستانے کے لئے پتھر کی کرسیاں سیاحوں کی حیرت افزائی میں اضافے کے لئے رکھی گئیں ہیں۔یوں بے شمار صفات حمیدہ کے متصف ” ہوپر” کو الواداع کہنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔آوارہ خیالات کو نِکل(Nickle) کی طرح مرتکز کرنے کے فن کے جادو گر مناظر سے رہائی ملی نہیں ہوتی ہے یکایک ایک اور دل آویز اور دلنشین بستی نظروں کومرکز مائل قوت کی طرح اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔اس بستی کے حسن و جمال پر نظر پڑتے ہی اس بستی کی یادیں اسپرٹ کی طرح کافور ہو جاتی ہیں۔کوہ ہندو کش کے شمالی دامن میں واقع”جج بارگو”نامی گاؤں کی وجہ شہرت یہ ہے کہ اس کا صرف اکلوتا انسان تن تنہا مالک ہے۔چترال روڈ میں سفر کے دوران یہ دونوں گاؤں سکرین میں سلائیڈ کی طرح گزر جاتے ہیں۔اس بار عارفین اور ایمل کو “جج بارگو”کے دل نشین مناظر سے لطف اندوز کر کے دلجوئی کرتے ہوئے گزرنے کی ٹھان لی۔انہی خیالوں میں مگن تھا اور انہی خیالوں میں ہوپر پیچھے رہ گئی اور ہم آگے نکل گئے۔گاڑی کے موڑ کاٹتے ہی دور سے “جج بارگو”کا فرازی حصہ دیوار میں پنجر شدہ تصویر کی طرح دکھائی دیا۔نظر پڑتے ہی ان کے حسن و جمال میں کھو گیا۔ پہاڑوں کے دامن اور دریاؤں کے لب میں واقع بستیوں اور سبز زاروں کی حسن و دلکشی پر غور کر رہا تھا اور ان خیالوں میں دوسروں کو حصہ دار بنانے کے لئے ان خیالات کے لئے الفاظ کا پیراہن تلاش کر رہا تھا۔اتنے میں ہمارے بالکل سامنے چڑھائی کے اوپر چند فرلانگ کے فاصلے پر پتھر لڑھکتے ہوئے گر پڑے۔آفت کو نازل ہوتا دیکھ کر بھی حسن ظن ہی ظاہر کیا۔شاید پہاڑ کی چوٹی پر بکریوں کا ریوڑ چر رہا ہو۔کیونکہ جن لوگوں کو بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ پہاڑوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے وہ ایسے لڑھکتے ہوئے پتھر دیکھتے ہی تجزیہ کرتے ہیں کہ یہ پتھر کسی شریر بکری کی دوڑ دھوپ کا نتیجہ ہے یا پہاڑ کی چوٹی پر اس وقت اپنی دنیا میں مست کوئی آوارہ ماخور چہل قدمی کر رہا ہے لیکن پتھر پھر گرے۔۔۔ پھر گرے ۔۔۔۔ اور گرتے رہے۔سینکڑوں نہیں ہزاروں پتھر اور ساتھ ہی گردو غبار اٹھایہ دھول دھند کی صورت میں ہماری طرف پھیلنے لگا اس وقت تک ڈرائیور نے بریک لگا دیا تھا یوٹرن لینے کی بچکانہ کوشش کی لیکن بے سود۔۔۔ اور اس وقت تک قیامت کا منظر برپا ہو چکا تھاآگے پیچھے چٹان ہی چٹان گر رہے تھے سراسمیگی اور نفسا نفسی کے عالم میں نظریں اوپر کو اٹھیں تو پتھروں اور چٹانوں کی برسات پر نظر پڑی ، اوسان خطا ہوئے ، بدن پر لرزاں طاری ہوا، زندگی کا چراغ گل ہوتا ہو دکھائی دیا۔چاروں طرف سے موت نے گھیر لیا۔اس عالم اضطراب میں عارفین کو سینے سے لگا لیا اور فرنٹ سیٹ کے نیچے اوندھے منہ گرا ، گاڑی پر پتھروں کی بارش نے اس وہم کو یقین میں بدل دیا ، زندگی کی بازی جیتنا نا ممکن ہے ، سانس اکھڑنے لگا، ایک ہی خدشہ تھا پتھر لگا، چٹان لگی، لیکن کچھ دیر بعد کچھ بھی نہیں لگا پھر سوچا ۔۔۔لگنا تو ہے کب لگے گا۔۔۔کہاں لگے گا۔۔۔دم گھٹے گا۔۔۔بدن کچلے گا۔۔۔ قیمہ بنیں گے۔۔۔ریزہ بنیں گے کیونکہ گاڑی پر مسلسل لگنے والے سنگ برسات کی باز گشت دوسری طرف کی پہاڑ سے بھی سنائی دے رہی تھی۔۔۔پھر سے جینے کی ایک حسرت اور خواہش اندر سے اٹھتی اور اندر ہی دم توڑ دیتی۔۔۔زندگی کی اہمیت اور زندگی کی قیمت کا احساس ہوا۔۔۔تو اس دن۔۔ کاش! ایک بار پھر زندگی ملے تو ایسے گزاروں گا کہ دامن نچوڑے تو فرشتے وضو کریں ۔۔۔لیکن پھر ایک ہولناک خوف۔۔۔ شدت درد کیسے ہوگا۔۔۔ زندگی کیسی چھن جائے گی۔۔۔موت کا منظر کیسا ہوگا۔۔۔موت و حیات کی کشمکش میں اجل کی سمندر میں زندگی کی موتی ڈھونڈنے والے غوطہ زن کو ضمیر نے جھٹکا دیا۔۔۔ نادان! اب بھی وقت ہے کلمہ پڑھنے کا ، بزرگوں سے سنا تھا ۔۔۔ جب تک سانس ہے تب تک چانس ہے۔سو اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر کلمہ پڑھا ، لائف ہسٹری میں پہلی بار عجز و انکساری سے آنسوؤں کے سمندر میں ڈوب کر اللہ سے زندگی کی بھیک مانگ لی۔ کیفیت تو قبولیت کے لئے موزو ں تھا شاید گھڑی بھی قبولیت کی تھی اسی اثناء میں ایک غیبی طاقت نے سر اٹھا کر ڈرائیور کے سیٹ کی طرف دیکھنے کی توفیق دی۔بدستور انہیں بھی موت کا منتظر پایا، اشارے سے انہیں نیچے اترنے کو کہا اور خود عارفین کو سینے سے لگا کر کرالنگ کرتے ہوئے دریا کی جانب روڈ کے کنارے میں گرا۔عارفین کو گاڑی کے نیچے لٹایا، ہوش میں تھا لیٹ گیا، بدقسمتی سے ایمل اور اس کی ماں اب تک گاڑی کے اندر پھنسی ہوئی تھیں۔ڈرائیور کی پچھلی سیٹ والی کھڑکی کا شیشہ کھولنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اسی اثناء میں ایک بے رحم پتھر گاڑی کی چھت چیر کر اندر داخل ہوا شاید یہ پتھر نہیں پتھر کی روپ میں دنیا کی رنگینیوں اور رنجشوں سے بے خبر معصوم شہزادی کے لئے اجل تھی۔ننھی کلی بالآخر اس کا نشانہ بنیں، گاڑی کے اندر سے اس کے چیخنے کی آواز جب میری سماعت سے ٹکرائی تو میری تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن کھڑکیاں نہیں کھل رہی تھیں ، چٹانوں کی شدت نے گاڑی کی چھت کو اندر کی طرف دھنسا دیا تھا، بالآخر کھڑکی کھلی اور ننھی پری ماہی بے آب کی طرح میرے ہاتھ لگی لیکن اجل کا طمانچہ ان کی نازک بدن پر ایسی مہلک ضرب لگائی تھی بالآخر وہی ضرب جان لیوا ثابت ہو گئی جبکہ ہماری خاکی بدن پر پھر سے حیاتِ نو کی کرن پڑا۔

وہ جو کہتے ہیں زندگی معمول پر ہو تو وقت گزرنے کی رفتار کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا لیکن جب کوئی حادثہ زندگی کے پر سکون دریا کی سطح پر شورش پیدا کرے اس وقت ،وقت گزرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اسی طرح شب فرقت کے طول پر افسردہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

دم گھٹتا ہے افسردہ دلی سے یارو

کوئی افواہ ہی اڑا دو کہ کچھ رات کٹے

ہجر میں آہ و بکاء رسمِ کہن ہے لیکن

آج یہ رسم ہی دہراؤ کہ کچھ رات کٹے

آج تک ان کی معصوم شوخیاں اور ان کی شرارت کی یادیں ستا رہی ہیں ، اس حسینہ کی حسین چہرے کا عکس جب بھی دل و دماغ کی سکرین پر نمودار ہوتا ہے تو ایک درد اور ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور اندر ہی اندر ڈستی ہے ۔ بے شک یہ حقیقت ہے افسانہ پارینہ بننا انسانی زندگی کا مقدر ہے ۔80اور90سال کی عمر گزارنے والے راہ حیات کے مسافر بڑے افسوس کے ساتھ کہتے ہیں حیات مستعار ایک ایسا خواب ہے ایک در سے دخول ہو پایا نہیں تھا کہ دوسرے در سے خروج ہوا لیکن یہ کلی تو مکمل کھلی ہی نہیں تھی ، شعور کجا ان کی نصیب میں فہمندگی کی سرحد میں بھی قدم رکھنا نہیں تھا لیکن یہاں تو آنکھ کھلنے سے پہلے ہی اس کا اختتام کا مرحلہ سر ہوا۔

تھا بہت دلچسپ نیرنگِ سیراب زندگی

اتنی فرصت ہی نہ پائی جو ٹھہر کے دیکھے

یہاں نہ تو اپنی مرضی سے آمد ہے اور نہ ہی اپنی خواہش سے رخصت، حیات لائی تھی جب تک حیات ہے حیات رہیں گے لیکن جس دن قضاء لے جائے گی قضاء کی مرضی سے چلیں گے ۔ زندگی کی شمع فروزاں دھیمی دھیمی ہو کر ایک دن دم توڑنا ہے ۔ اس دنیا میں تو ہر نفس کو فنا ہے ، زندگی تو ہے ہی دنیا میں آنے اور جانے کے درمیانی لمحات کا نام۔۔ خواجہ مجذوب نے کیا خوب کہا ہے۔

تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا

جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا

بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا

اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جگہ ہے تماشا نہیں ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔