صوبے کے بلدیاتی انتخابات۔۔۔2017میں

صوبے کے بلدیاتی انتخابات۔۔۔2017میں

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :۔دردانہ شیر

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے گلگت میں صوبے کے کالم نگاروں اورایڈیٹرز فورم کے عہدیدارن سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد رواں سال کو ہی کرنے کی حکومت نے کوشش کی مگر اب موسمی حالات ایسے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات اس سال ممکن نہیں البتہ آگلے سا ل مارچ اور اپریل میں گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائینگے وزیر اعلی نے یہ نہیں کہا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونگے یا غیر جماعتی گلگت بلتستان کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد گزشتہ سات سالوں سے نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں بلدیاتی ادارے بھی غیر فعال نظر آتے ہیں جب علاقے میں بلدیاتی انتخابات ہوتے تھے تو اس دوران ڈسٹرکٹ کونسل اور یونین کونسل کے ممبران سالانہ حکومت کی طرف سے دیا جانے والاترقیاتی بجٹ سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کو ترجعی بنیادوں پر مکمل کرانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے تھے اور یونین سطح پر عوام کو اعتماد میں لیکر گاؤں سطح کے جو بھی مسائل ہو یا مشکلات ہوتے ان کو فوری حل کرتے رابط سڑکیں ہو یا ندی نالوں کی تعمیر چینل بنانا ہو یا حفاظتی بند سب پر عوام کو اعتماد میں لیا جاتا تھا مگر جب سے بلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے خطے میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی کوئی بہتر نظر نہیں آتی یونین سطح پر تو ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے اگر ڈسٹرکٹ سطح پر بھی دیکھا جائے تو کوئی ایسا منصوبہ نظر نہیں آتا جس کی تعریف کی جائے اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کی طرف سے بنائے گئے رابط سڑکیں اور دیگر تعمیرات کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ منصوبے بھی اثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہیں سابق ممبران ڈسٹرکٹ کونسل اور ممبران یونین کونسل کے دور میں تعمیر کئے گئے لنک روڈ اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں اور بعض ایسی رابطہ سڑکیں ہیں جو صفحہ ہستی سے ہی مٹ چکی ہیں مگر ان کی طرف کوئی دھیان دینے والا نہیں ہے سالانہ ڈسٹرکٹ اور بلدیہ کو ملنے والا ترقیاتی بجٹ کی طرف بھی اگر دیکھا جائے تو پورے صوبے میں کوئی ایسا ترقیاتی کام نظرنہیں آتا کہ جس کی تعریف کی جائے اس حوالے سے یا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے ممبران ڈسٹرکٹ کونسل اور بلدیہ کے ممبران کو ملنے والا فنڈز روک دئیے ہو یا اس فنڈز کو کسی اور مد میں خرچ کیا جاتا ہو اس حوالے سے اس کاجواب تو بلدیاتی اداروں کے حکام ہی دے سکتے ہیں کہ آخر اگر ترقیاتی بجٹ ملتا ہے تو اس کے فوائد عوام کو حاصل کیوں نہیں ہوتے اگر ترقیاتی فنڈز روک دئیے ہیں تو اس کے کیاوجوہات ہوسکتے ہیں گلگت بلتستان میں گزشتہ سات سالوں سے بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کے باعث خطے میں سیاسی گہماگہمی جمود کا شکار ہے اور کئی امیدوار جو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے بیتاب تھے اب وہ بھی زیر زمین چلے گئے ہیں اب چونکہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے اگلے سال مارچ یا اپریل میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی نوید سنائی جس کے بعد علاقے میں ایک بار پھر سیاسی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگئی ہے اور کئی بلدیاتی امیدوار جو زیر زمین چلے گئے تھے اب یہ امیدوار ایک بار پھرلوگوں کی غم اور خوشی میں نظرآنا شروع ہوگئے ہیں اس حوالے سے عوام توقع رکھتے ہیں کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان اپنے وعدے کے مطابق مارچ یا اپریل میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرینگے بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے ڈسٹرکٹ یونین یا بلدیہ کے ممبران کو ترقیاتی بجٹ بہت ہی کم سعی مگر جو بجٹ ان کو دیا جاتا تھا وہ کسی نہ کسی تعمیراتی کام میں خرچ ہوتا نظر بھی آتا تھا مگر گزشتہ آٹھ سالوں میں بلدیاتی اداروں کی وہ کارکردگی نظر نہیں آئی جو بلدیاتی الیکشن کے موقع پر دیکھنے کو ملتا تھااگر گلگت بلتستان میں اگلے سال بلدیاتی الیکشن کرائے گئے تو عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل ان کے گھر کے دورزے پر ہی حل ہوسکتے ہیں،،

آخرمیں وزیر اعلی گلگت بلتستان سے ایک گزارش ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے صوبے کے کلریکل سٹاف اپنے جائز حقوق کے لیے کبھی دھرنے دیتے ہیں کبھی قلم چھوڑ ہڑتال کیا جاتا ہے تو کبھی حکومت کی طرف سے یقین دہانی پر ہڑتال ختم کی جاتی ہے ملک کے دیگر صوبوں کے کلریکل سٹاف کو اگر ان کے جائز مطالبات پور ے کرکے اپ گریڈ کیا گیا ہے تو گلگت بلتستان کے کلریکل سٹاف کے مطالبات پورے کرنے میں صوبائی حکومت کو کیا مشکلات ہیں چونکہ کلریکل سٹاف کے احتجاج سے شاید حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے مگر اس غریب آدمی کو فرق ضرور پڑتا ہے جو ایک ڈومسائل کے حصول کے لئے کلریکل سٹاف کے احتجاج کی وجہ سے در در ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author