پودا، جنگل اور ہیلی کاپٹر 

پودا، جنگل اور ہیلی کاپٹر 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خبرآئی ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے بلین ٹری سونامی کے تحت لگا ئے گئے پودوں کی حفاظت کے لئے ہیلی کاپٹر خرید نے کا انقلابی فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ ان رپورٹوں کے بعد کیا گیا جن میں بتا یا گیا تھا کہ بلین ٹری سونامی نا کام ہو گئی ہے کوئی پودا کا میاب نہیں ہوا نومبر اور دسمبر 2015 میں 5 ہزار فٹ سے زیادہ بلند ی پر واقع پہاڑی علاقوں میں لگائے گئے پودے جلانے کے کام آئے مارچ اپریل 2016 میں پنجاب سے لاکر 3 ہزار فٹ سے بلند پہاڑی علاقوں میں لگائے گئے پودے خشک ہوگئے بیا بانوں اور صحرائی علاقوں میں لگائے گئے پودوں کو پانی نہ ملا صوبائی حکومت ان پودوں کا سختی سے نوٹس لے لیا نوٹس لینے کے بعد صوبائی حکومت نے پنجاب سے کنسلٹنٹ کو دعوت دی کنسلٹنٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آپ کی گھڑی دے کر آپ کو وقت بتا تا ہے اور معاوضہ میں گھڑی لے جاتا ہے کنسلٹنٹ نے مشورہ دیا کہ بلین ٹری کی کا میابی اور پودوں کی حفاظت کے لئے ہیلی کاپٹر مہیا کیا جائے کنسلٹنٹ کی رپورٹ منظور کی گئی دوسرا کنسلٹنٹ بلا یا گیا اُس نے ہیلی کاپٹر کی خرید اری کے لئے فیز یبلیٹی تیار کی اُس نے مشور ہ دیا کہ 25 کروڑ روپے کا ہیلی کاپٹر آئے گا 6 کروڑ روپے اُس کا سا لا نہ خرچہ ہوگا یہ خرچہ محکمہ جنگلا ت برداشت کر یگا اس طرح پودوں کی حفاظت ہوگی میں نے ساری بات پروفیسر شمس النظر فاطمی کے سامنے رکھی تو اُن کا پہلا تبصرہ تھا ’’ زبردست ‘‘ ایک زور دار زبردست کے بعد پروفیسر فاطمی نے پوچھا کیا بلین ٹری سونامی والے درخت ہوا میں لگائے گئے ہیں ؟ میں نے کہا ’’ شاید ‘‘ پروفیسر فاطمی نے کہا اگر پوے زمین پر ہیں تو ہیلی کاپٹر ان کی حفا ظت کسطرح کریگا ؟ میں نے کہا ’’ آسمان والا سب کا محافظ ہے ‘‘ پروفیسر فاطمی کو غصہ آیا اس نے کہا یہ آسمان والے کی بات نہیں ، معاملہ گھمبیر ہے پودا، جنگل اور ہیلی کا پٹر ؟ تینوں کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ میں نے بلا ، گیند ، وکٹ اور سیاست ؟ ان کا آپس میں جو تعلق ہے وہی تعلق پودے ، جنگل اور ہیلی کاپٹر کا ہوگا پروفیسر فاطمی نے پھر زور دار قہقہہ لگا یا اور کہا’’ زبردست ‘‘ خبر دلچسپ ہے اور اس میں ہنسنے کی جگہ رونے کے زیادہ مقامات ہے بلکہ خبر پڑھتے ہوئے بار بار رونا آتا ہے پودے لگانے کے لئے پنجاب سے کنسلٹنٹ بلدنے کی کیا ضرورت ہے ؟ گاؤں کا زمیندار اور کسان سب سے بڑا کنسلٹنٹ ہے پھر سائنسی خطوط پر کام کر نے کے لئے جنگلات کے ایسے ماہرین نہیں جنہوں نے پہاڑوں میں کام کیا ہے اس کے بعد کمیونیٹی ہے کمیونیٹی کو پتہ ہے کہ کس ضلع میں کو نسا پودا لگے گا کس مہینے لگے اور کتنا پانی کتنے وقفے سے درکار ہوگا ؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کے لئے پنجاب سے کنسلٹنٹ بلا کر چترال یا ڈی آئی خان بھیجا جائے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نگرانی کی جائے ڈیر ہ اسماعیل خان میں پنیا لہ کے قریب 2 ہزار پودے لگانے کی رپورٹ آتی تھی چترال میں شاہی قلعہ اورشاہی مسجد کے سامنے دریا کے پار ڈھلواں پہاڑ پر ڈیڑھ ہزار پودے نومبر اور دسمبر میں لگائے گئے تھے زمین پر رپنے والوں نے دیکھا ہے ان میں سے ایک پودا بھی کا میا ب نہیں ہوگا نہ پانی کا انتظام تھا نہ رکھوالی کا بند وبست تھا شا ملات والی زمین تھی سرکاری پودے تھے اللہ میاں کو پیارے ہوگئے زمین پر رہنے والے ڈی ایف او کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ہیلی کاپیٹر کے ذریعے اڑ کر آنے والا کنسلٹنٹ ان پودوں کی حفاظت کا کیاانتظام کر ے گا پودا خشک ہوا ،لوگوں نے جلایا ہیلی کاپٹر اس کا کیا علاج اور تدارک کرے گا ؟پرانے زمانے کی کہانی ہے بادشاہ کو سیخ کباب کھانے کا بڑ ا شوق تھا ایک دن اس نے بڑی ضیافت کی تیاری کرائی اور خا ن ساماں کو حکم دیا کہ سیخ کباب ضرور ہونا چاہیے خان ساماں نے دست بستہ عرض کیا کہ عالی جاہ سیخ کباب خریدنے کے لئے تو شہ خانہ کو حکم دیا جائے ،عالم پناہ نے پوچھا 100درجن سیخ تو شہ خانہ میں پڑے تھے وہ کدھر گئے ؟خان ساماں نے کورنش بجا لاتے ہو ئے عرض کیا عالی جاہ !آپ کا اقبال مزید بلند ہو ،ان کو چوہوں نے کھا لیا باد شاہ نے مہتمم خزانہ کو حکم بھیجا کہ100 درجن سیخ خرید نے کے لئے خانساماں کو رقم فراہم کی جا ئے 1200 سیخوں کو چوہوں نے کھا لیا تھا۔ بادشاہ فوراً مان گیا۔بادشاہ بادشاہ ہو تا ہے اصلی ہو یا نقلی خیبر پختونخوا کی حکومت میں بادشاہ لوگ بیٹھے ہیں کھبی ان پر پیار آتا ہے۔ کبھی ان پر اصلی بادشاہ ہو نے کا بھی گمان ہو تا ہے۔ ’’بلین ٹر ی سونامی ‘‘ انگریزی الفاظ ہیں ان کا مطلب ہے ’’ ایک ارب درختوں کا طوفان‘‘ اس طوفانی منصوبے کو دو سال ہو گئے ۔ زمین پر کوئی پودا نظر نہیں آتا۔اب ہوا میں پودوں کی حفاظت کے لئے ہیلی کاپٹر خریدا جا رہا ہے،۔ ایک اور بادشاہ کی کہانی مشہور ہے۔ بادشاہ نے کہا میرے لئے ایسے کپڑے بتاؤ جو کسی بادشاہ کے پاس نہ ہو۔ جولا ہے اور درزی آگئے ، مقابلہ ہوا۔ کوئی بھی کپڑا بادشاہ کو پسند نہیں آیا۔ ایک شخص آیا اُس نے کہا میں جولا ہا بھی ہوں اور درزی بھی فیشن ڈائزائنر ہوں کئی بادشاہوں نے تاج پوشی کے دن میرے ڈایزئن کئے ہو ئے کپڑے زیب تن کئے بادشاہ کو یہ بات پسند آ گئی۔اس نے کہا کپڑے بناؤ۔ جولاہا نے کہا میرے کپڑوں کی ایک خوبی ہے جس نسب میں کھوٹ ہو گا اس کو یہ کپڑا نظر نہیں آئے گا اس نے کہا یہ ہیں کپڑے ، دربار میں کسی کو نظر نہیں آ ئے مگر سب کو اپنے نسب کی فکر تھی۔اس لئے سب نے کہا واہ ، واہ ! کیا خوبصورت کپڑے ہیں ملکہ نے بھی تحسین و�آفرین کی۔ بادشاہ حرم سے واپس آیا ، رو ننگا ہو چکا تھا مگر درباری اس کے کپڑوں کی تعریفیں کر رہے تھے۔ہر ایک کو اپنا نسب عزیز تھا۔ بادشاہ نے اپنی نصف سلطنت فیشن ڈائیزائینر کو انعام میں دیدیا۔ بلین ٹری سو نامی کے لئے پنجاب سے جو کنسلٹنٹ بلایا گیا تھا ۔ وہ اسی طرح فیشن ڈایزائنر تھا۔ اس نے زمین پر سونامی کو نا کامی سے دو چار کر دیا۔ اب ہوا میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نگران کر وا رہا ہے۔ پروفیسر شمس النظر فاطمی کہتے ہیں کہ کنسلٹنٹ کو اب ہوش آگیا ہے ہماری حکومت اور حکمرانوں کی ساری باتیں ہوائی باتیں ہیں۔ سب ہوائی قلعے ہیں۔ ان کی نگرانی بھی ہوائی سطح پر ہوا ۔ ہوا میں ہونی چا ہیئے ۔ بڑی دلچسپ خبر ہے25 کروڑ روپے کا ہیلی کاپٹر اور 6 کروڑ روپے کا سالانہ بجٹ مقصد ہے۔ پودے کی حفاظت مگر یہ تو بتاؤ ۔ پودا کدھر ہے؟ مرزا غالب نے ڈیڑ ھ سو سال پہلے غزل کے الگ شعروں میں یہی بات کہی تھی۔

لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

ڈھا نپا کفن نے داغ عیوب بر ہنگی

میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔