خیبر پختونخواہ کے 18 لاکھ مستحق خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ جاری کئے جائیں گے، سیکریٹری ہیلتھ

خیبر پختونخواہ کے 18 لاکھ مستحق خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ جاری کئے جائیں گے، سیکریٹری ہیلتھ

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر)سیکرٹری محکمہ ہیلتھ خیبرپختونخوامحمدعابدمجیدنے چترال کے مختلف ہسپتالوں کے دورے کے موقع پرآرایچ سی مستوج،آغاخان ہسپتال بونی،آرایچ سی گرم چشمہ اورڈی ایچ کیوہسپتال چترا ل کامعائنہ کیا ۔اس دوران ڈی ایچ کیوہسپتال چترا ل میں صحت سہولت کارڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اور خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحت سہولت پروگرام خیبرپختونخواکی جانب سے عوام کے لئے ایک ایسی سہولت ہے جس میں صحت سہولت کارڈکے ذریعے مریضوں کواعلیٰ معیارکی صحت کی سہولیات اورہسپتالوں میں داخلے کی سہولیات مہیاکی جارہی ہیں اس پروگرام میں ایک خاندان کے سات افرادشامل ہو سکتے ہیں اورعمرکی کوئی قیدنہیں۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے غریب اورنادارمریضوں کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبے کے 4اضلاع مردان، ملاکنڈ ،چترال اور کوہاٹ میں صحت سہولت پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کے تحت مستحق مریضوں اور گھرانوں کو خصوصی ہیلتھ کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ اس سکیم کے ذریعے مریض مختلف ہسپتالوں سے 25 ہزار روپے کی علاج معالجے کی مفت سہولت حاصل کرسکتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ ابتدائی طوپر جرمن بنک کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے یہ اسکیم صوبے کے چار اضلاع بشمول ملاکنڈ ،چترال، کوہاٹ اور مردان میں شروع کیاگیاتھا اور اب صوبائی حکومت نے اس اسکیم کو باقاعدہ اپنی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرکے اس کادائرہ صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھا دیا ہے۔ پروگرام کے تحت صوبے کے 18 لاکھ مستحق خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ کے نام سے ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کئے جائیں گے جس کے ذریعے ایک خاندان کے سات افراد سالانہ 25ہزار روپے تک علاج معالجے کے مفت سہولیات حاصل کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ اس سکیم میں ان گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی رجسٹریشن پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہوئی ہے۔علاج معالجے کی یہ سہولت مختص کردہ نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غریب کے لئے علاج کرانا مشکل ہے جس کا وہ حقیقی ادراک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صوبے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی مفت کرنے کے ساتھ تشویش ناک بیماریوں کا علاج بھی مفت کیا ہے۔صحت سہولت پروگرام ملک کی تاریخ کا پہلا ہیلتھ انشورنش پروگرام ہے۔

انہوں نے صحت انصاف کارڈ کے تحت علاج معالجہ کی سہولت کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اس پروگرام کے بہت اچھے نتائج بر آمد ہونگے کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔کہ غریب آدمی کے لئے کتنی مشکلات ہیں۔اس موقع پرپراجیکٹ ڈائریکٹرSHPIڈاکٹرریاض تنولی ،ہیلتھ انشورنس کے صوبائی سربراہ تجمل شاہ،پروفیشنل صوبائی میڈیکل آفیسرڈاکٹرمنظورعلی،ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ احمدوڑایچ دیگرمتعلقہ افسران نے صحت سہولت پروگرام خیبرپختونخواپراجیکٹ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا۔کہ منتخب چاراضلاع میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیوہسپتال چترال شہزادہ فیض الملک جیلانی کی انتھک محنت اورکوششوں کی بدولت چترال میں سب سے پہلے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا افتتاح ممکن ہوا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔