تاریخ کا سنہراباب ۔۔تاریک کیوں ہے؟

تاریخ کا سنہراباب ۔۔تاریک کیوں ہے؟

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قوموں کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ اپنی تاریخ بھلا دیتی ہیں، ایسی بہت ساری قومیں دنیا میں آباد ہیں جنھوں نے اپنی روایات ،تاریخ، ثقافت اور طرز معاشرت کو برقرار رکھا آج ترقی کے منازل طے کر رہی ہیں ۔ جن قوموں نے اپنے اقدار کھو دئیے ،اپنی تاریخ بھلا دی ، روایات کو پس پشت ڈالا انھوں نے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ نہیں پایا، برصغیر میں انگریز کی آمد اور قبضے کے پیچھے یہی محرکات کار فرما تھے ، اس وقت کے حکمران اپنی روایات بھول چکے تھے ، انگریز کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر کامیابیوں سے بھر پور ماضی کو فراموش کر بیٹھے تھے ، اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریز برصغیر پر قابض ہوا اور اس کے ساتھ ہی ایک قوم کا زوال شروع ہوا۔۔۔۔۔۔

ہفتے کے روز گھر سے نکلتے ہوئے ذہن میں بہت سارے سوالات امڈ رہے تھے ، جن کا جواب جاننامیرے لئے بہت ضروری تھا، بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ، مختلف صاحب رائے افراد سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی ، ہنوز مطمئن نہیں ہو سکا ، بہت ساری کتابوں کے اوراق پلٹے، انٹرنیٹ کو بھی کنگالا لیکن میرے سوالوں کے جواب میسر نہیں آئے ، آ ج سے ٹھیک 69 سال قبل آزادی کے متوالوں کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد پرمقامی مورخین اور انگریز ی تبصروں کے متضاد قصوں نے میری پریشانی میں مذید اضافہ کر دیا تھا،ایک لمحے کیلئے سوچا ہم کتنے بد قسمت ہیں کہ ہم اپنے ماضی کے ان حقائق کو اس انداز میں سمیٹ نہیں سکے جس طرح ایک مثالی قوم اپنے ورثے کو محفوظ رکھتی ہے ، بہر حال یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے شہداء اور غازیوں کی لا زوال قربانیوں، جرات اور جدوجہد کی طفیل آج ہم آزادی کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں، 69 سال قبل یعنی یکم نومبر 1947ء کو ہمارے آباو اجداد نے بے سر و سامانی کے باوجود جس بہادری، جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطے پر قابض ڈوگرہ، سکھ اور انگریز افواج کو شکست فاش دی، اسے مورخ ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھتا رہے گا۔۔۔۔۔۔ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے شہداء کا خون آج بھی اس سرزمین میں جذب ہے اورہم سے یہی تقاضا کر رہا ہے کہ آیا ہم اس آزادی کی قدر و منزلت سے آگاہ ہیں ؟ کیا ہم ان شہداء اور غازیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی اس آزادی کے صیح اسلوب سے آشنا ہیں ؟ کیا ہم آج اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہوئے، جس مقصد کیلئے ہمارے اجداد نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیاْ ؟ کیا ہمارے درمیان وہی اتحاد و اتفاق موجود ہے جو آزادی کی جدوجہد میں ہمارے آباو اجداد میں تھا ؟ اگر ہم اپنے آج کے حالات اور ان لازوال قربانیوں کے پیچھے چھپے اس مقصد کا تقابلی جائزہ لیں تو ہمیں سوائے رسوائی ، پستی اورشرمندگی کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔اس آزادی کی قدر و منزلت سے شاید اسلئے بھی ہم آگاہ نہیں کہ ہم کسی طوفان سے آشنا نہیں ہوئے، جس مقصد کے تحت یہ خطہ آزاد کرایا گیا اس مقصد کو ہم نے عداوتوں ، نفرتوں اور تعصبات کی نظر کیا ۔ ہم نے ان شہداء کی قربانیوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جنھوں نے ہمارے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں ۔۔ایسے حالات میں انقلابی شاعر عبدالحفیظ شاکر نے کیا خوب فرمایا کہ ؛

میں تنگ آیا ہوں نفرت سے، کدورت سے ،عداوت سے
میں پی کر زہر ۔۔۔۔اب خود سے بچھڑنا چاہتا ہوں

آزادی کے69 سال بیت گئے آج ہم اپنے ارد گرد جائزہ لیں ، تو دل خون کے آنسو روتا ہے ، آج ہمارے بچوں کو فلموں کے تمام ہیروز کے نام تو یاد ہیں لیکن گلگت بلتستان کے ان عظیم ہیروز کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے ، جنھوں نے ہمارے آج کیلئے قربانیوں کی ایک داستان رقم کی،افسوس صد افسوس کہ ہم اس قابل بھی نہیں رہے کہ اپنے بچوں کو ان لازوال قربانیوں کی داستان سنا سکیں ، ہمارے تعلیمی اداروں میں دنیا بھر کے مختلف انقلابات اور تغیرات کے بارے میں تو خوب پڑھایا جاتا ہے، لیکن گلگت بلتستان کی تاریخ پر کوئی ایک کلاس بھی نہیں لی جاتی، ہم نے نئی نسل کو ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں دیا جہاں وہ اپنے ماضی کو جان سکیں۔۔۔۔۔

ہر سال یکم نومبر کے روزہم جنگ آزادی گلگت بلتستان کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یادگار شہداء پر پھول چڑھاتے ہیں ،تجدید عہد کرتے ہیں، ریلیا ں نکالتے ہیں ، سکولوں میں تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں لیکن باقی ماندہ تین سو چونسٹھ دنوں میں اس دن کو ایسے فراموش کرتے ہیں کہ جیسے جشن آزادی منا کر ہم نے ان شہداء اور غازیوں کا قرض اتار دیا ہو۔۔۔۔۔۔شاعر گلگت بلتستان جمشید خان دکھی صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہیکہ ؛

کیا سنائیں خوشی کے ہم نغمے ؟
دل کی دنیا بہت دکھی ہے ابھی

گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت نے یکم اکتوبر کوشاٹی ڈے کے طور پر منا کر ایک مثبت قدم اٹھایا ہے، یہ اقدام ہماری ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے اور زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کریگا، صوبائی حکومت کی اس کاوش کو سامنے رکھتے ہوئے ہم توقع رکھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور صوبائی کابینہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں مستند تاریخ گلگت بلتستان کے مضمون کو نصاب میں شامل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیگی تاکہ ہماری نئی نسل اپنی تاریخ ، روایات اور ثقافت کے ساتھ ساتھ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے ہیروز سے آگاہ ہو سکے ۔ جشن آزادی کے موقع پر موجودہ حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کی عوام کیلئے یہ ایک ناقابل فراموش تحفہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر ہم نے اب بھی اپنے تاریخی ورثے کو نئی نسل تک منتقل نہیں کیا توبعید نہیں کہ ہماری حالت بھی کچھ اس سے مختلف ہو ؛

مٹا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔