آزادی گلگت بلتستان(یکم نومبر 1947)

آزادی گلگت بلتستان(یکم نومبر 1947)

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: تہذیب حسین برچہ

“۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے آزادی! ہماری پکار پر کان دھر !اور سن اے زمین کے باشندوں کی ماں !ہماری طرف رخ کر اور دیکھ ہم تیرے سوتیلے بچے نہیں۔ہم میں سے کسی ایک کی زبان سے کلام کر کہ خشک گھاس پھونس ایک ہی چنگاری سے بھڑک اٹھتے ہیں ۔اپنے بازؤں کی پھڑپھڑاہٹ سے ہم میں سے کسی ایک مرد کی روح کو بیدار کر دے کہ بادل کے ایک ٹکڑے سے بجلی نمودار ہوجاتی ہے اور آن واحد میں وادی کے خلاؤں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کو روشن کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

(زرد پتے ّ از خلیل جبران)

بارگاہِ الہی میں کونسی ساعت قبولیت کی ہو یہ انسان کی عقل و خرد سے ماورا ایک گورھ دھندہ ہے لیکن مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کے سکستھ کشمیر انفنٹری کے کیپٹن (بعد میں کرنل )مرزا حسن خان اور گلگت سکاؤ ٹس کے صوبیدار میجر (بعد میں کیپٹن)بابر خان یا ان کے دیگر ساتھیوں میں سے شایدکسی ایک کے دل سے ایک ایسی ہی دعا نکلی ہو جس نے بارگاہِ خداوندی میں قبولیت کا شرف حاصل کیا اور آزادی کی ایک نئی صبح کا موجب بنا۔

دنیا کے کسی خطے میں آباد تذبذب کا شکار کوئی قوم غلامی کے گھُپ اندھیروں کو قسمت کا دَین جان کر قبول تو کر سکتی ہے لیکن ایک ایسی حریت پسندقوم جوکبھی کسی غیر کی غلامی میں نہ رہی ہو حتیٰ کہ جہاں برصغیر میں مغلوں کے دورِ حکومت میں بھی آزاد ریاستیں رہی ہوں وہ بھلا کیسے “معاہدہ امرتسر”کی دھجکیاں اڑا کر بزورِ شمشیر ظلم کی بنیادوں پر قائم کی گئی ڈوگروں کی غلامی کی زنجیروں کو قبول کرنا گورا کر سکتی تھی ۔لہذا اس طرح کیپٹن مرزا حسن خان اور صوبیدار میجر بابر خان اور انکے دیگر ساتھیوں نے آزادی کا منصوبہ بنایا اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے کبھی تراگبل اور گزیر کی جانب پیش قدمی کرکے بانڈی پور پر دباؤ رکھ کر ہندوستانی فوج کو آگے بڑھنے سے روک کر اپنی جوانمردی کا لوہا منو ایا تو کبھی0 1200 فٹ کی بلندی پر واقع دیوسائی کے میدانوں میں موسم سرما کے دوران جہاں 15فٹ برف کی تہہ جمتی ہے پر بغیر کسی جدید جنگی سازوسامان کے دشمن کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کردشمن سے ہتھیار،خوراک اور کپڑے تک چھین کر آزادی کے لئے راہ ہموا ر کیا اورسخت کوشی کے بعد آنے والی نسلوں کے لئے آزادی کا تحفہ دیا۔

گلگت بلتستان کی تاریخ کے اوراق کو اٹھا کر دیکھا جائے تو برصغیر میں انگریزوں نے 16 مارچ1846ء کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے ساتھ معاہدہ امرتسر طے کیا اور کشمیر کو پچھّتر لاکھ ننکانہ شاہی سکوّں کے عوض فروخت کیا۔اس معاہدے کی رو سے دریائے راوی اور دریائے سندھ کے درمیانی پہاڑی علاقے گلاب سنگھ کو فروخت کیے گئے تھے۔ جبکہ گلگت کا علاقہ دریائے سندھ کے اُس پار شمالی جانب واقع ہونے کے سبب معاہدے کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔لیکن مہاراجہ گلاب سنگھ نے بعد ازاں معاہدہ امرتسر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے چلاس پھر دریائے سندھ کو عبور کرکے گلگت پر حملوں کا آغاز کیا لیکن گلگت کے راجہ گوہر امان کی مزاہمت پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔آخر کار مہاراجہ کشمیر نے 1860ء کے بعد کے ادوار میں نہ صرف گلگت پر قبضہ کیا بلکہ یاسین کے علاقے تک پیش قدمی کرتے قتل عام کرکے خون کی ہولی کھیلی اور چار سو مرد وخواتین کو بھی قید کرکے کشمیر روانہ کیا گیا۔

اسی طرح 1935 ء تک گلگت میں انگریزوں اور ڈوگروں کی مشترکہ حکومت رہی لیکن اس کے بعد انگریزوں نے گلگت کو ڈوگروں سے 60سال کے لئے پٹے پر حاصل کیا ۔انگریزوں نے گلگت سکاوٹس کے نام سے ایک انتظامی فوج تشکیل دی جو گلگت اور گردونواح کے راجاؤں کے مابین تعلقات استوار کرنے کے ساتھ ساتھ سلطنت کی سر حدوں کی حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھی۔ان کی تنخواہیں انگریز سرکار ادا کرتی تھی ۔بلاشبہ1947تک گلگت میں انگریزو ں کی بلاشرکت گلگت پر حکمرانی رہی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریز سرکار چونکہ کمزور پڑ چکی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اقتدار کو برصغیرکے مقامی ہاتھوں میں منتقل کرنے کی خواہا ں تھی۔بقول معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی “برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے دو متضاد آراء پائے جاتے ہیں جس میں انگریزوں کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست اقتدار کو منتقل کرنے اور برصغیر کو خیر باد کہنے کے خواہاں تھے جبکہ مسلمانوں اور ہندووں کے مطابق بڑے تگ و دو کے بعد آزادی حاصل کی گئی ہے”لہذا برصغیر کی تقسیم کے بعد انگریز برصغیر سے واپس جا رہے تھے اور گلگت جیسے چھوٹے علاقے میں اپنی حکومت قائم رکھنا ان کے حق میں نہیں تھا اس طرح گلگت ایجنسی کے آخری پولیٹکل ایجنٹ کرنل بیکن نے یکم اگست 1947 کو مہاراجہ کی جانب سے بھیجے گئے گورنر گھنسارا سنگھ کو گلگت کا چارج دیا۔

اسی دوران ریاستی فوج کے کیپٹن مرزا حسن خان اور گلگت سکاؤٹس کے صوبیدار میجر بابر خان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے آزادی کا منصوبہ بنایا ۔26اور 27اکتوبر کی درمیانی شب کو چونکہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ہندوستان کے دباؤ پر کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرنے کاا علان کیا تھااور اسی روز ہندوستان نے اپنی فوج کو کشمیر میں داخل کر دیا ۔اس طرح کیپٹن مر زا حسن خان اور صوبیدار میجر بابر خان اور انکے دیگر ساتھیوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کیا اور 31اکتوبر اور یکم نومبر کی درمیانی شب کو آپریشن شروع کیا ۔یکم نومبر کی صبح کو گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا گیا ۔گورنر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری کے بعد جنگِ آزادی کا آغازہوا جس کا سلسلہ1949ء تک جاری رہا۔بعد ازاں کیپٹن مرزا حسن خان نے آزادریاست کا موقف اختیار کیا اور اسلامی جمہوریہ گلگت کا نا م دیتے ہو ئے مقامی راجہ شاہ رئیس خان کو صدر بنایا گیا جبکہ خود آرمی کمانڈر کا عہدہ سنبھال لیا ۔16دن تک قائم رہنے والی عبوری حکومت جب اپنے اختتام کو پہنچی تو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے خطوط لکھے گئے ۔پاکستان چونکہ کچھ ہی مہینوں پہلے معر ض الوجود میں آنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھا سُو قائد اعظم نے گلگت جیسے دوردراز پہاڑی علاقے کو پاکستان میں ضم کرنے میں کم ہی دلچسپی لی لیکن امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے مستقبل میں اس خطے میں روس کی پیش قدمی کے خدشات کے پیش نظر جلد از جلد گلگت کا انتظام سنبھالنے کا مشورہ دیا گیا۔جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پہلا نمائیندہ سردار عالم خان 15 نومبر 1947کو گلگت پہنچ گیا۔ لیکن ابھی تک گلگت بلتستان پربھارتی حملے کی تلوار لٹک رہی تھی اور بلتستان تا حال ڈوگروں کے قبضے میں تھا ۔اس لئے حکومت پاکستان نے میجر اسلم کو کرنل پاشا کا کوڈ نام دے کر گلگت بلتستان علاقوں میں سپہ سالار بنا کر بھیج دیا ۔کرنل پاشا نے اپنا ہیڈ کورٹر گلگت میں قائم کیا۔اس طرح کشمیر انفنٹری کی مسلمان نفری جو کیپٹن (بعد میں کرنل)مرزا حسن خان کی معیت میں تھی کے ساتھ گلگت سکاؤٹس کو شامل کیا گیا اور مشترکہ فوج کی تعداد 2000تک بڑھا دی گئی۔

سکردو کا قلعہ کھر پوچو ڈوگرہ کمانڈر کرنل تھاپا کی تحویل میں تھا۔ میجر احسان علی کی مختلف اوقات میں کرنل تھاپا سے جھڑپیں ہوتی ہیں دریں اثناء چترالی رضا کار دستے شہزادے کرنل متاع الملک کی معیت میں مدد کے لئے پہنچ گئے۔ 14 اگست 1948کو پاکستان کی آزادی کے ٹھیک ایک سال بعد کرنل تھاپا کو ہتھیار ڈالنے پر مجبورکر دیا گیااورگلگت بلتستان کے علاقے مکمل طور پر آزاد ہوکر پاکستان میں شامل ہوگئے۔

پاکستان میں ضم ہونے کے بعد لوگ خوش تھے اور مستقبل میں اس خطے کو ریاست پاکستان میں حقیقی معنوں میں شامل کرنے کے حوالے سے امیدیں وابستہ تھیں۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ علاقے کے لئے درد رکھنے والے لوگوں کی امیدوں کے دیّے مدھم ہوتے گئے اور آج 69 ء سال گزرنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کے عوام اپنی شناخت سے محروم ہیں۔اور یہاں کے عوام کی شروع سے یہ بد قسمتی ہے کہ بیرونی افراد کی حکمرانی رہی ہے اور “لڑاؤ اور حکومت کرو “کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر یہاں کے عوام کے حقوق غضب کیے جاتے رہے ہیں اور بیرونی سازشوں کے شکار چند مقامی افراد کی معاونت سے فرقہ ورانہ فسادات میں سینکڑوں بے گناہ افراد کی زندگیوں کے چراغ گُل کیے جا چکے ہیں۔کہتے ہیں قدیم یونان میں بادشاہ امراء میں سے اپنے لئے مشیر چنتے تھے اور انہی کی مشاورت سے نظامِ حکومت چلائی جاتی تھی۔اسی طرح گلگت بلتستان میں میں بھی 1970 ء میں قائم کی گئی مشاورتی کونسل کے قیام کے بعد ہی سے چند امراء کو مراعات سے نواز کر عام عوام کے حقو ق غضب کیے جا رہے ہیں اور آج بھی گلگت بلتستان میں گورنر،وزیر اعلیٰ اور دیگر وزاء کو مراعات سے نواز کرعام عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے اپنے گزشتہ GB کے دورے میں علاقے کی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے فیصلوں کا بھی عام عوام کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا البتہ قومی اسمبلی میں کچھ نشستیں ضرور دی جائیگی لیکن کی ان کی حیثیت بھی سرکس کی تماشائیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ CPEC پاکستان اور چائنا کے تعاون سے بننے والا تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے لیکن گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی نسبت ایک بھی منصوبے سے محروم رکھنا علاقے کے عوام کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔

گلگت بلتستا ن کے باسیوں کی یہ بد قسمتی رہی ہے کی یہاں کی پڑھی لکھی نوجوان نسل ابھی تک وطن کی فکر کرنے سے قاصر ہے اور جس قوم کے نوجوان سوچنے کے صلاحیت سے محروم ہوں اور حصولِ تعلیم کا مقصد فقط روزگار کا حصو ل ہو تو اس قوم کی مستقبل کے حوالے سے امیدیں وابستہ کرنا ہی بے سود ہے۔لیکن “پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ”کے مصداق آج بھی اس قوم میں علاقے کے لئے درد رکھنے والے افراد کی کمی نہیں جو مستقبل میں علاقے کی محرومیوں کے حوالے سے نجات دہندہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔آج اس قوم کو پھر سے کرنل مرزا حسن خان ،کیپٹن بابر خان اور کیپٹن شاہ خان جیسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو سچے جذبے کے ساتھ علاقے کے حقوق کے لئے لڑ سکیں۔

نامور شاعر فیض احمد فیض کی اسی “دعا “کے ساتھ محرومیوں کے گھُپ اندھیروں میں جینے والی قوم کی حکایت کے اوراق کو سمیٹ لیتے ہیں۔

جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں

ان کی آنکھوں میں کوئی شمع منورکر دے

جن کا دین پیرویِ کذب و ریا ہے ان کو

ہمتِ کفر ملے جراتِ تحقیق ملے

جن کا سر منتظرِ ِ تیغِ جفا ان کو

دستِ قاتل کو جھٹک دینے ی توفیق ملے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments