قصہ سوسن پری و کریمی کی شادی کا

قصہ سوسن پری و کریمی کی شادی کا

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: احسان علی دانشؔ ، سکردو

(نوٹ) یہ آج سے تین سال قبل نوجوان اسکالر عبدالکریم کریمی کی شادی پر لکھی گئی معروف شاعر احسان علی دانشؔ کی طنزو مزاح سے پُر تحریر ہے۔ آج چونکہ محترم عبدالکریم کریمی اور محترمہ بھابی سوسن پری کریمی کی شادی کی تیسری سالگرہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شادی کے تین سال میں ہی وہ دو بچوں کے ماں باپ بن گئے ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ ہم ان کو ازدواجی زندگی کے کامیاب سفر پر مبارک باد دیتے ہوئے یہ تحریر قند مکرر کے طور پر شائع کر رہے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ قارئین اس تحریر سے لطف اُٹھائیں گے۔ (ادارہ)

………………….

نہ جانے جناب عبدالکریم کریمی کی شادی کی تقریب میں شامل ہونے کی آخر ایسی بھی کیا جلدی تھی، پاؤں میں جوتے تو تھے مگر جیب میں شناختی کارڈ تک نہیں تھا جس دلچسپی اور شوق سے سکردو سے غذر کی جانب بھاگ رہے تھے اس سے گمان یہی ہوتا تھا جیسے غذر میں جناب کریمی اور ان کے احباب کسی دُلہن کو سجاکر خود ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اپنے محلے میں ہمارے قریبی رشتہ داروں نے بھی یہی کچھ کرنا تھا جس کے لیے کریمی اپنے آپ کو تیار کر رہے تھے۔ اِن پر مستزاد یہ کہ اوپر والے کی منشاء میں بھی مجھے کریمی کے گاؤں جلدی جلدی پہنچانا مقصود تھا۔ جب میں نے اپنی نجی محفل میں چند دوستوں کو اپنے اِس غذر کے سفر سے آگاہ کیا تو میرے بچپن کے دوست اور معروف بنکار اژے الیاس کا چہرہ یوں کھِل اُٹھا جیسے انہیں لاکھوں کا پرائز بونڈ نکل آیا۔ کہنے لگے ’’مجھے کسی ایسے دوست کی تلاش تھی جو میرے ساتھ دو دنوں کے لیے گلگت ہو کر آئے اور اگر آپ کام سے جارہے ہیں تو یہ میری خوش بختی ہے میری نئی نویلی کار کی فرینڈ سیٹ آپ کو آرام پہنچائے گی، راستے کے تمام جمپ اور موڑ پر ایسی احتیاط کروں گا کہ آپ کو سفر کا احساس تک نہ ہو، موسیقی جیسی سننی ہے آڈیو اور ویڈیو لوازمات مکمل ہیں۔ بس آپ نے اتنی تکلیف کرنی ہے کہ صبح ۸؍ بجے اُٹھ کر اپنے گھر کے دروازے پر میری گاڑی میں براجمان ہونا ہے۔‘‘ اژے الیاس کا تعلق کھرمنگ سے ہے اور اب سے ۲۸؍ سال قبل ہم دونوں کراچی کے کسی ٹیکسٹائل کارخانے کے دو الگ الگ ڈپارٹمنٹس میں کام کرتے تھے۔ ہم دونوں کی شاندار کارکردگی بھی نرالی تھی۔ اُن کی کارکردگی نے اُن کے ڈپارٹمنٹ کو ترقی کے بامِ عروج پر پہنچایا جبکہ ہماری شاندار کارکردگی کی وجہ سے ہماری ڈپارٹمنٹ ہی بند ہوگیا۔ اور ہم بے روزگار ہوگئے تو ہم کام کی تلاش میں کورنگی کے ملز ایریاز میں ایک ہی سائیکل پر ایک سو ایک کارخانوں کے دروازے پر کھڑے ہو گئے مگر کسی نے قبول نہیں کیا۔ اژے الیاس دل برداشتہ ہو کر بلتستان لوٹ آئے جبکہ مجھے کسی چھپڑ ہوٹل کے تندور پر پیڑا بنانے کا کام مل گیا اور میں بخوشی وہی نوکری کرتا رہا۔ لو جی اژے الیاس میرا ڈرائیور اور میں اس کا باس۔ نکلتا ہوا قد، وجیح چہرہ، مردانہ وقار، مضبوط اعصاب اور مضبوط جسم کے مالک، مگر اتنے مضبوط جسم کے سینے میں اتنا نرم و ملائم دِل کہ مت پوچھئے۔ سکردو سے گلگت تک انہوں نے اپنی زندگی کے تمام ثواب و گناہ کے قصے کہانیوں سے ہمیں آگاہ کیا اور ہم نے………… ہمارا باطن کیا ظاہر کیا، ہمیں لوگ خود ہم سے بہتر جانتے ہیں، ہمیں ہماری زندگی کے احوال واضح کرنے کی چنداں ضرورت پیش نہیں آئی۔

گلگت کے پیلس ہوٹل کے منیجر صاحب سے جب کمرہ مانگا تو انہوں نے ہم سے شناختی کارڈ مانگا۔ ہم سے اُن کو کارڈ نہیں ملا تو اُن سے ہمیں کمرہ بھی نہیں ملا۔ لمحہ بھر کے لیے دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے یوں حیران تھے جیسے کسی فٹیچر دیہات کے ۲؍ مانگنے والے گھومتے گھامتے ایک ہی دروازے پر کھڑے ہوں اور وہ دروازہ بند ہو۔ ابھی سوچ رہا تھا کہ اس پریشانی کا حل کیسے نکالا جائے۔ سامنے ریسٹورنٹ سے کوئی ایسی آواز سماعت سے ٹکرائی جس پر معمولی شناسائی کا شبہ کیا جا سکتا تھا۔ کاونٹر کو چھوڑ کر اس آواز کی طرف لپکا تو دروازے پر مجھے دیکھ کر پوری ایک محفل نے حیدری کا نعرہ بلند کر دیا۔ اس نعرے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یکے بعد دیگرے ہم سے برسرِپیکار ہونا چاہتے تھے۔ بلکہ وہ ہم سے معانقہ کرنے میں ایک دوسرے سے پہل کر رہے تھے۔ اس محفل میں اُستاد شکیل احمد، عبدالحفیظ شاکرؔ ، توصیف حسن، تابشؔ و چند دیگر دوست کسی ادبی الجھن کو سلجھانے کے چکر میں تھے۔ ہوٹل کے منیجر نے اپنی آنکھوں سے ہماری ایسی گرم جوشیاں دیکھیں تو وہ بھی نہ صرف گرم ہو گئے بلکہ ہم پر اُس کا دل بھی نرم ہو گیا اور ہمیں کمرے کی چابی تھماتے ہوئے کہا ’’لو جی! یہ تو کوئی شاعر ٹائپ کا انسان ہے کوئی خودکش حملہ آور نہیں۔‘‘ رات کے کھانے کے لیے عبدالخالق تاجؔ صاحب خود لینے آئے۔ تاجؔ کے گھر میں کھانا کیا کھایا بس اُن کے صاحبزادے ظفر وقار تاج ظفرؔ کے فن پارے اور تاجؔ کے اپنے کمرے کے نظارے سے لطف اُٹھاتے رہے۔ تاجؔ کے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک خاص قسم کی خوشبو نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے سوال بھی کیا تو فرمانے لگے ’’یہ خوشبو چوبیس گھنٹوں میں سے ایک یا دو بار میرے کمرے کا طواف کرتی ہے۔‘‘ کمرے کے تین کونوں میں مختلف سائز اور نسل کے ستار رکھے ہوئے تھے۔ بعض کے نام بھی بتائے۔ کہنے لگے ’’جب بھی موڈ بنتا ہے تاروں سے چھیڑتا ہوں۔‘‘ میرے سامنے باپ بیٹا دونوں نے الگ الگ ستار پر علیحدہ علیحدہ سُر الاپے۔ میں تو حیرانی سے تکنے کے علاوہ کر کیا سکتا تھا۔ تاجؔ صاحب چترالی ستارپر گلگتی اُنگلیوں سے بلتی سُر نکالتے ہوئے کہنے لگے ’’دانشؔ تمہارے ہاں موسیقی کی محافل میں ہارمونیم کا رواج عام ہے جبکہ ہمارے ہاں ڈھول کے ساتھ بانسری اور یہ چیز زیادہ چلتی ہے۔ یہ ستار بھی ہمارے گلگت کا آلۂ موسیقی نہیں ہم نے چترال سے مستعار لیا ہے۔‘‘ کمرے کی ایک طرف دو کرسیوں کے سامنے چھوٹی سی میز بھی تھی جس پر اپنی ڈائری چند سفید کاغذ اور قلم موجود تھے، لگتا تھا آمد ہوتے ہی صاحب پلنگ سے کرسی پر لپکتے ہیں اور خیال کو الفاظ کا جامہ پہناکر کاغذ پر ثبت کرتے ہیں۔ سامنے ایک شیلف میں تاریخی اور ادبی کتابیں بھی موجود تھیں۔ کہتے تھے کہ زیادہ دلچسپ اور ضرورت کی کتابوں کو اس شیلف میں رکھا ہے باقی باپ بیٹے دونوں کی مشترکہ لائبریری دوسری طرف ہے۔ ان کے ڈرائینگ روم میں ظفرؔ کے بنائے ہوئے پینٹنگ کے نمونے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ نہ جانے اِن نادر و نایاب فن پاروں کو بنانے کا وقت کہاں سے نکالتے ہیں۔ حالانکہ سرکاری اہم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اشعار بھی کہتے ہیں اور اسی طرح کے باریک کام کرنے کا بھی وقت میسر آتا ہے۔ ان کے بنائے ہوئے فن پاروں سے نظر اٹھانے کو جی نہیں کرتا۔ اگلی صبح کو جناب اشتیاق احمد یادؔ اور توصیف حسن کی رہنمائی میں کریمی کے لیے تحائف کی شاپنگ کی اور سرراہ گلگت ہی کے درویش مزاج شاعر مشتاق احمد راہیؔ سے ملنے ان کے دفتر گئے۔ وہاں راہی سمیت ہمارے مہربان دوست جناب امین بیگ نے ہمیں دیکھا تو ہماری گلگت میں شانِ نزول دریافت کی۔ جیسے ہی ان کو ہمارے اگلے سفر کا علم ہوا تو انہوں نے گلگت سے غذر تک ہماری سواری کا بھی بندوبست کر لیا۔ اب ہم کسی لینڈکروزر میں غذر کی جانب چل پڑے۔ اس سفر میں ہمارے ڈرائیور کے طور پر ممتاز کریم صاحب ہمارے ہم سفر بنے۔ واہ! ممتاز صاحب جیسا نام ویسا ہی ان کا کام تھا۔ غذر کی طرف تمام چھوٹے بڑے گاؤں کے نام اور اُن کی وجہ تسمیہ، وہاں کی سیاست، مذہب، لوگ بلکہ لوگوں کے مزاج تک کا علم رکھتے تھے۔ ممتاز صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ ان کے خوبصورت چہرے پر ایک ہلکی سی مستقل مسکراہٹ بحال رہتی تھی۔ مجھے ان کی اسی مسکراہٹ نے حد درجہ متاثر کیا بالآخر پوچھ ہی لیا۔’’کیوں صاحب! ہمیں اپنے ساتھ پاکر آخر اتنا خوش کیوں ہیں؟‘‘ میرے اس سوال پر ان کی یہ ہلکی مسکراہٹ پوری ہنسی میں تبدیل ہو گئی پھر کہنے لگے کہ ’’خدا نے میرے چہرے پر ناک اور ہونٹ کی تراش خراش ایسی کی ہوئی ہے کہ جب میں سنجیدہ ہو جاتا ہوں بلکہ کسی سوچ میں گم ہوجاتا ہوں تو یہ ہلکی اور مستقل مسکراہٹ نمودار ہوکر قائم رہتی ہے۔ اور کافی دیر سے میں اس سوچ میں ہوں کہ آخر آپ میں ایسی کیا خوبی بھی ہے کہ آپ کو دیکھ کر امین بیگ صاحب نے فوراً گاڑی کا بندوبست کیا اور میں آپ کی ڈیوٹی پر ہوں۔‘‘ بس ان کا یہ کہنا تھا مجھے ان کی بے جا مسکراہٹ نے سوچنے پر مجبور کیا جبکہ ان کی سوچ مسکراہٹ پیدا کر رہی تھی۔ غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ شہر پہنچنے سے قبل ہماری گاڑی دریا والا پُل عبور کرکے وادئ اشکومن کی طرف نکل گئی۔ اب ہمارے سامنے گاہکوچ شہر تھا جو گلگت اور سکردو کے بعد سب سے بڑا اور خوبصورت ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔ ممتاز نے دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’دانشؔ صاحب! وہ ہاتون ہے یہ بھی کافی کشادہ اور خوبصورت موضع ہے۔‘‘ ہاتون کا نام سنتے ہی میری آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہوئی میری نظر ہاتون کے اُس کالج کی تلاش میں تھی جس میں منعقد ہونے والی کسی کنونشن کی کمپیئرنگ کرنے کے لیے ہمیں بلتستان سے بلایا گیا تھا اور ہم نے شرکاء کو بھرپور تفریح دینے کی کوشش کی تھی۔ قبل اس کے کہ مجھے وہ دیکھا بھالا کالج نظر آتا میری نظر سے یکایک پورا گاؤں اوجھل ہو گیا۔ معلوم ہواکہ ہماری گاڑی چٹورکھنڈ کی طرف موڑ مڑ چکی تھی۔ اب ہمارے سامنے گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی شاہ کا آبائی گاؤں چٹورکھنڈ تھا۔ گاڑی سو کی رفتار سے دوڑ رہی تھی اور ہمیں چیف اِیڈیٹر ’’فکرونظر‘‘ غذر/گلگت بلتستان و چترال عبدالکریم کریمی کا گاؤں بارجنگل سے قبل رُکنے کا کوئی معقول بہانہ بھی نہیں تھا۔

سفر متمدن لوگوں کا مسکن غذر کا ہو، سواری کے لیے مفت کی لینڈکروزر ہو، چلانے کے لیے ممتاز جیسا اُستاد ہو اور وجۂ سفر دوست کی شادی ہو، آدمی سفر سے بور بھلا کیوں ہوجائے۔ بادلِ نخواستہ ایسا ہوا بھی تو شنکیاری کے شاعر اور ہمارے مخلص دوست رستم نامیؔ اپنی تازہ غزل کے ساتھ موبائل کے سکرین پر نمودار ہوگئے اور جہاں جہاں موبائل سگنل رہا، ہم اُن کی غزلوں سے لطف اندوز ہوئے، انہیں اپنی ایک ایک غزل کو کئی قسطوں میں سنانی پڑی۔ بسا اوقات سگنل ڈراپ ہوتا رہا۔

اب شام کے سائے بھی بڑھتے جا رہے تھے۔ ہم کریم منزل میں مہمان بن چکے تھے۔ کریمی کی شادی میں ہماری شرکت سے کریمی کتنا خوش تھا خدا بہتر جانتا ہے البتہ گاؤں کے لوگوں کی خوشی کو میں خود جانتا ہوں۔ بعض بزرگوں نے دو چار دنوں کے لیے اپنے اپنے گاؤں میں ٹھہرنے کی دعوتیں دیں، بعض نے بلتستان میں اپنے جاننے والوں کو فون کرکے ہماری غذر آمد کی اطلاع کر دی۔’’تمہارا دانشؔ ہمارا مہمان ہے۔‘‘ اگلے دن کریمی ہمیں اجنبی لوگوں کے درمیان چھوڑ کر خود گلگت چلے گئے۔ ہنزہ والوں کی ذمہ داری دُلہن کو گلگت تک پہنچانا تھی۔ وہاں سے کریمی کے گھر تک لانا خود کریمی کی ذمہ داری تھی۔ ہمیں محمد شفیع مل گیا، محمد شفیع فرسٹ ایئر کا طالب علم اور ڈگری کالج گلگت میں زیر تعلیم تھا۔ محمد شفیع نے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھاکر اشکومن کے آخری گاؤں کی طرف لے گیا۔ راستے میں ایمت اور مجاور سے گزرے اس دن بھر کے سفر میں محمد شفیع کے چہرے کو صرف دو بار دیکھا۔ پہلی بار موٹر پر سوار ہوتے وقت اور دوسری بار موٹر سے اُترتے وقت۔ باقی تمام راستے میں، وہ آگے اور میں اُن کے پیچھے دبک کر بیٹھا رہا۔ البتہ ان کی تکریم و عزّت سے بھرپور گفتگو سے لطف اُٹھاتا رہا۔ گفتگو میں جملہ جو بھی ہوتا انگریزی زبان میں ’’سر‘‘ کا دوبار استعمال ہوتا تھا۔ ایک ’’سر‘‘ جملے کے آغاز میں اور دوسرا ’’سر‘‘ جملے کے اختتام پر۔ کبھی کبھی ’’ہے نا سر‘‘ اور کبھی صرف ’’ناسر‘‘ سے پکارتا تھا۔ اُن کی دلنشیں گفتگو آج بھی کانوں کو بھلی سی لگتی ہے۔ شام کے ساتھ ہی برات پہنچ گئی۔ ادھر کریم منزل کے صحن میں دیسی بنیڈ نے روایتی دُھن سے برات کا استقبال کیا۔ کارواں کے آگے آگے نیا جوڑا عروسی کے ملبوسات میں چمک دمک رہا تھا اور سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ دُلہا راجہ کے قریبی رشتہ دار خواتین و حضرات ہاتھوں میں گلدستے، خشک فروٹ، کھانے پینے کی اشیاء لیے جھک جھک کر مل رہے تھے۔ دُلہا راجہ اور دُلہن رانی ان تحائف پر ہاتھ رکھتے ہوئے آگے گزرتے جا رہے تھے۔ اس جوڑے کے پیچھے دیگر لوگوں کے علاوہ حلقۂ اربابِ ذوق گلگت کے سینئر شعراء بھی موجود تھے۔ میں نے جب ہر ایک کا استقبال کیا تو تاجؔ صاحب پھٹ پڑے۔ ’’ارے تم اتنی دُور سے آکر ہم سے قبل میزبان بنے ہوئے ہیں۔ تم نے ہمارا حق چھین لیا۔‘‘ رات کے کھانے سے فارغ ہوتے ہی گھر کے لان میں کریمی کے اعزاز میں مشاعرہ سج گیا جس کے سٹیج سکریٹری کے فرائض گھن گرج والی آواز کے مالک غلام عباس نسیمؔ نے نبھائے۔ شعراء میں جناب عنایت اللہ شمالیؔ ، عبدالخالق تاجؔ ، جمشید خان دکھیؔ ، خوشی محمد طارقؔ ، غلام عباس نسیمؔ ، اشتیاق احمد یادؔ ، احمد سلیم سلیمیؔ ؔ اور راقم موجود تھا۔ سارے شعراء نے کریمی پر سہرے کہے۔ بارجنگل کی یہ رات کافی ٹھنڈ تھی لہٰذا شعراء کو صوفے پر بٹھا کر کمبل میں بٹھایا گیا۔ مشاعرہ سننے کے لیے اشکومن کے سارے گاؤں سے خواتین و حضرات جمع ہوچکے تھے۔

ادھر مشاعرہ ختم ہوا اُدھر گانے اور بجانے والے نمودار ہو گئے۔ انہوں نے سب کچھ گایا اور بجایا۔ ہم سمجھ رہے تھے بس یہ نصف شب تک کا شغل ہے مگر جب تک گھڑی نے صبح کے طلوع ہونے کا الارم نہیں بجایا یہ بجانے والے بجاتے رہے۔ بعض گانے والے ایسی مستی میں گا رہے تھے جیسے ’’ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں نہانا چاہئے ‘‘، ’’گانا آئے یا نہ آئے گانا چاہئے‘‘۔ ابھی گانے اور بجانے کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا محفل کے سٹیج سکریٹری نے اعلان کیا اس پہلی غزل پر دُلہا راجہ سمیت ان کے قریبی دوست رقص کریں گے۔ بس یہ اعلان سننا تھا الواعظ عبدالکریم کریمی سمیت اُن کے دیگر قریبی دوست اور الواعظین میدان میں کُود پڑے۔ ادھر گلگت کشروٹ کے الواعظ عبدالخالق تاجؔ کو بھی اِس اعلان کی دیر تھی اُچھل کر محفل میں پہنچ گئے اور ہاتھ پاؤں پھیلا کر محوِ رقصاں ہوگئے۔ اِس پہلی غزل کے بعد رقاض تھک ہار کر جب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو تاجؔ جو میرے ہی پہلو میں ایک ہی کمبل اوڑھے بیٹھے تھے آ کر کہنے لگے ’’کم بخت اِتنی دُور سے آکر تیرا فرض بنتا تھا کہ کریمی کی عزت افزائی کے لیے ناچتے۔‘‘ میں نے برملا کہا ’’حضور! آپ اِسے فرض کفایہ سمجھ لیجئے۔ فرض کفایہ میں آپ نے جو کیا اس کا ثواب ہم نہ کرنے والوں کو بھی برابر مل جاتا ہے۔‘‘ میں نے تاجؔ سے اگلا سوال بھی کیا۔ ’’ویسے تاجؔ صاحب! زندگی میں کتنی بار اس طرح کی محافل میں ناچے ہونگے؟‘‘ بناسوچے کہنے لگے ’’اتنی بار تم نے نمازیں نہیں پڑھی ہونگی جتنی بار میں یہ کام کر چکا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید گفتگو کرنے کی کوشش میں کہا ’’دانشؔ ! تم تو جانتے ہو موسیقی کی آواز سن کر مجھے کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’جی آپ کو کیا ہوتا ہے مجھے معلوم ہے۔‘‘ کہنے لگے ’’کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے کہا کہ ’’موسیقی کی آواز سنتے ہی آپ کو نیچے سے کوئی چیز چھبتی ہے اور یہی چھبن آپ کو محفل میں اُچھلنے کودنے پر مجبور کرتی ہے۔ جسے آپ رقص کہتے ہیں۔‘‘ میری اس بات پر تاجؔ کا منہ کیا ہو گیا یہ وہ خود جانتا ہے میں کیوں بتاؤں………… میرے دایاں پہلو میں جناب عنایت اللہ شمالیؔ بیٹھے تھے۔ ان کے کان میں راز دارانہ انداز میں کہا ’’جناب! اس مقدس الواعظ کا نام رقص کرنے والوں میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟‘‘ انہوں نے فوراً کہا ’’دانشؔ ! کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے اور بعض موقعوں پر رقص ثواب میں بھی گردانا جاتا ہے۔‘‘ میں نے اگلا ہٹ کیا ’’تو آپ ابھی تک ثواب سے غافل کیوں ہیں؟‘‘ کہنے لگے ’’بس یہ توفیق کی بات ہے اس معاملے میں میرا اعمال نامہ مکمل کورا ہے۔‘‘ رقص و سرور اور موج مستی کی محفل بھی جاری تھی جبکہ نیند کے حملے کے سامنے ہم تقریباً پسپا ہوچکے تھے۔ شعراء سمیت کریمی سے اجازت مانگ کر کمرے میں سوگئے۔ اگلے دن جب ہم واپس گلگت پہنچے تو ہمارے اژے الیاس ہمارے استقبال کے لئے بسین پہنچے ہوئے تھے۔ اِ س گاڑی سے اُتر کر اُس گاڑی میں سوار ہوئے اور یہ گیت گنگناتے ہوئے اپنے شہر لوٹ آئے۔

ہم تم ہوں گے گاڑی ہوگی

رقص میں اب نہ ساڑھی ہوگی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔