یکم نومبر: یومِ تکمیلِ پاکستان

یکم نومبر: یومِ تکمیلِ پاکستان

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ

 آج یکم نومبر ہے یہ وہ روز سعید ہے کہ جس روز مسلمانان گلگت بلتستان کی سالوں پر محیط کاوشیں اور قربانیاں رنگ لائیں اور ہم اس قطعہء زمین کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ جس کو آج گلگت بلتستان کہا جاتا ہے۔اسی مناسبت سے آج ہم یوم تکمیل پاکستان منانے کے لیے جمع ہیں۔میں مختصرا پاکستان اور آزادی پاکستان کا جائزہ لینا چاہونگا۔

ریاست پاکستان : اس مملکت خدادا کا یہ نام تو محترم چوہدری رحمت علی نے اگرچہ بہت بعد میں تجویز کیا مگر اس عظیم ریاست کے خدوخال سندھ کی اس ریاست میں 900 سال پہلے نظر آگئے تھے جسےعرب کے ایک  سترہ سالہ  نوجوان مجاہد محمد بن قاسم نے ایک مسلمان بیٹی  کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لئے ایک جابر و متعصب راجہ کو شکست فاش دینے کے بعد قائم کیا تھا ۔

دانا لوگ کہ کرتے ہیں کہ  اس ریاست کی بنیاد تو اسی دن رکھ دی گئی تھی جس دن برصغیر میں پہلے انسان نے کلمہ طیبہ پڑھ  مسلمان ہوا تھا ۔

مملکت خداداد پاکستان کے قیام کا مقصد  ہرگزعلاقائی حدود کی حفاظت نہیں بلکہ اسلامی نظریاتی حدود کی حفاظت تھا جس کی حفاظت مسلمانان ہند کا مقصد اولین اور ان کی ضرورت تھی ۔اس لئے کہ روز اول سےمسلمانوں کا دینی سماجی معاشی ثقافتی تمدنی سیاسی بنیادوں پر ایک الگ قومی تشخص ہے ۔

1       ہندوں کی گاو ماتا ہے جب کہ مسلمانوں کا ذبیحہ

2       ہندوں کی چٹیا ہے جب کہ مسلمانوں کا ختنہ

3       ہندوں کے مندر کا ناقوس ہے جبکہ مسلمانوں کی مسجد کی اذان

ہندوں کی چھوت چھات جب کہ مسلمانوں کی اخوت و مساوات غرضیکہ کہیں بھی میل ملاپ کی گنجائش نہ تھی نہ ہے اور نہ ہو گی ۔

پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد ایک ایسی آزاد ریاست کا قیام تھا جس میں رب ذوالجلال کی حاکمیت کے سائے تلے مسلمان دین متین کے سنہری اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں ۔۔۔۔۔۔اسی کو تو تکمیل پاکستان کہا جاتا ہے۔

سوال اٹھتا ہے کہ

پاکستان کیا ہے؟

 مختصر اور جامع تعریف یوں ہو سکتی ہے کہ

1۔      پاکستان 1857ء کی جنگ آزادی کی تکمیل کی طرف ایک مثبت قدم ہے ۔

2۔      پاکستان سر سید احمد خان کی علمی تحریک علی گڑھ کا منطقی ارتقاء ہے ۔

3۔      پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر  ہےجو انہوں نے خطبہ الا آباد میں پیش کیا۔

4۔      پاکستان مسلمانوں کی لازوال اور بے پناہ قربانیوں کا ثمر  ہے۔

5۔      پاکستان قائداعظم کی بے لوث ،بے لاگ  ،بے خوف ،ایماندارانہ اور مدبرانہ قیادت کا نتیجہ ہے ۔

6۔      پاکستان حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے ارشادات کا ایک حسین مجموعہ ہے۔

7۔      پاکستان دارالعلوم دیوبند، جامعہ ملیہ ، جامعہ ندوۃ العلماء کے دینی ورثے کا  منطقی انجام  ہے۔

اس ریاست کے حصول کے لئے مسلمانان ہند نے بہت قربانیاں دیں ۔

کتنے لوگ تہہ تیغ ہوئے ؟

کتنی  ماوں بہنوں کی عصمتیں لٹیں ؟

کتنے معصوم بچے شہید کردیے گئے؟

یہ سب پاکستان کے نام امر ہو گئے ہیں اس لئے کہ پاکستان کا قیام ایک مقصد تھا ایک ضرورت تھی ۔

اس لیے

پاکستان  مسلم کی آن ،

پاکستان مسلم کی شان ہے

پاکستان مسلم کی جان  ہے۔

پاکستان مسلم کی پہچان ہے۔

تو میں کہتا ہوں

یہی تو تکمیل پاکستان ہے۔

اسی لئے مسلمانان ہند نے اپنا سب کچھ داو پر لگا دیا، اپنا تن ،من ، دھن اس اسلامی جمہوریہ پر وار کر پھینک دیا ۔پاکستان کے قیام ،اسلام کی سربلندی کے لئے انہیں خون کا دریا پار کرنا پڑا۔سرخ خون بہا تب تو پاکستان قائم و دائم ہے۔

پاکستان بنا تو کیا ہوا۔۔۔؟

میں کہتا ہوں

قرارداد مقاصد کے ذریعے اس ملک کو اسلامی اسٹیٹ قرار دیا گیا۔۔۔۔۔۔یہی تو تکمیل پاکستان ہے

آئین پاکستان میں مملکت خداداد کی حاکمیت اور سپر پاور اللہ کی ذات مبارک کو تسلیم کیا گیا۔۔۔۔۔ یہی تو تکمیل پاکستان ہے۔

یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مملکت خداداد میں کوئی قانون قرآن و حدیث کے متصادم نہیں بنایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔یہی تو تکمیل پاکستان ہے۔

آج یکم نومبر ہے۔  ہم باسیان گلگت بلتستان اس دن کو بطور  یوم آزادی گلگت بلتستان کے مناتے ہیں۔ آج یکم نومبر ہے یہ وہ وز سعید ہے کہ جس روز مسلمانان گلگت بلتستان کی سالوں پر محیط کاوشیں اور قربانیاں رنگ لائیں اور ہم اس قطعہ ئے زمین کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ جس کو آج گلگت بلتستان کہا جاتا ہے۔

لیکن میرا دل کہتا ہے کہ یہی دن بنیادی طور پر

   ”یوم تکمیل پاکستان ہے”

کیوں۔۔۔؟

اس لیے کہ میرے آباو اجداد نے بے سروسامانی کے عالم میں خود جہاد کرکے اس قطعہ زمین کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا۔

یاد رہے صرف آزاد نہیں کرایا  بلکہ

مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ بلا شرط و مشروط الحاق بھی کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو پھر مجھے کہنے دیں

یہی تو یوم تکمیل پاکستان ہے۔

آج اس معزز فورم کے ذریعے میں پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں

کہ جس طرح یکم نومبر 1947ء کو  باسیان گلگت بلتستان نے آپنی مدد آپ ڈوگرہ راج سے یہ بہشتی زمین چھین کر  مملکت خداداد پاکستان میں شامل کرکے یہ ثابت کیا تھا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے۔۔۔گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان کی تکمیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔عین اسی طرح ہمارے کشمیری بھائی بھی اپنی مدد آپ پورے کشمیر کو بھارت سے آزاد کرواکر پاکستان میں شامل کرائیں گے۔

اور ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی ہر قسم کی جانی مالی تعاون کرکے دنیا کفر پر یہ ثابت کریں گے کہ گلگت بلتستان کی طرح پورا کشمیر بھی پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

جس دن کشمیربھی گلگت بلتستان کی طرح آزا ہوگا۔ اور پاکستان کا حصہ بنے گا

اسی دن ہم سب مل کر کہیں گے

”یوم تکمیل پاکستان زندہ باد”

آج سے ٹھیک 69سال قبل یعنی یکم نومبر 1947ء کو ہمارے آباو اجداد نے بے سر و سامانی کے باوجود جس بہادری، جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطے پر قابض ڈوگرہ، سکھ اور انگریز افواج کو شکست فاش دی، اسے مورخ ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھتا رہے گا۔

کیا یہ سچ نہیں کہ : جنگ آزادی گلگت بلتستان کےعظیم شہداء کا خون آج بھی اس سرزمین میں جذب ہےاور ان کی کاوشیں نقش پتھر ہیں اورہم سےمتقاضی ہے کہ

کیا  ہم اس عظیم آزادی کی قدر و منزلت کو درست طریقے سے جان سکے ؟

کیا ہم ان شہداء اور غازیوں کی قربانیوں ملی اس آزادی کے صحیح اسلوب سے باخبر ہیں؟

کیا ہم اس عظیم مقصدمیں ہوئے، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے قربانیاں دی تھیں ؟

 سچ بتایا جائے کہ  کیا ہمارےدرمیان وہی اتحاد و اتفاق، وہی اخوت و مساوات اور شاندار معاشرتے رویے  موجود ہے جو آزادی کی جدوجہد میں ہمارے اکابر واسلاف میں تھے ؟

اگر ہمارا جواب ہاں میں ہے تو یاد رہے کہ ہم

 تکمیل پاکستان میں بہتر طریقے سے حصہ لے رہے ہیں۔

اور ہمیں  یوم تکمیل پاکستان منانے کا بھر پور حق ہے۔

لیکن اگر جواب نفی میں ہے

 تو ہم نےہر حال میں   اپنے قول و فعل اور کردار سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم نے آزادی کی  قدر کی ہے  اوراور غازیوں اور شہداء کی قربانیوں کے امین ہیں اورتکمیل پاکستان میں حصہ لے رہے ہیں۔۔۔اور ہاں خود کو اس قابل بنائیں کہ ہم اگلے سال یوم تکمیل پاکستان بہتر سے بہتر انداز میں مناسکیں۔

آج بھارت مختلف طریقوں سے میرا اور تیرا  امتحان لے رہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کتنے وفادار ہیں اور تکمیل پاکستان میں کتنا حصہ لیتے ہیں تویاد رہے ہم آج بھی پاکستان کے ساتھ اتنا وفادار ہیں جتنا ہمارے اباو اجداد نے یکم نومبر 1949 کو بلاشرط و مشروط اس علاقے کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرکے وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔اور آج یوم عملی طور پر یوم تکمیل پاکستان مناکر ثابت کررہے ہیں کہ ہم ہی اصل پاکستانی ہیں۔  بہر صورتاس شعر کے ساتھ اجازت چاہونگا کہ

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر بنیادی طور پر یکم نومبر یوم آزادی کے حوالے سے گلگت بلتستان کالجز کے تقریری مقابلے کے لیے لکھی گئ ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے۔حقانیؔ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔