حکومت کے لئے تجاویز 

حکومت کے لئے تجاویز 

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اسرارالدین اسرار

گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے گلگت کے ایڈیٹرز اور کالم نگاروں کو مشاورت کے لئے مدعو کیا تھا۔ جیسا کہ گذشتہ قطرہ قطرہ میں ذکر ہوا تھا کہ اس مشاورتی نشست میں وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی ایک سالہ کار کردگی کا تذکرہ کیا تھا جس کی تفصیلات اُن دنوں کے اخبارات اور بعد ازاں راقم کے کالم میں شائع ہوئی تھیں ۔ سینئر صحافیوں نے اس موقع پر وزیر اعلیٰ سے تند و تیز سوالا ت پوچھنے کے علاوہ حکومتی امور کی بہتری کے لئے بہت سارے مشورے بھی دےئے تھے۔جن میں کم و بیش تمام اہم امور کی طرف وزیراعلیٰ کی توجہ دلائی گئی تھی۔ آئین حقوق سمیت دیگر معاملا ت میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کئے گئے وعدے بھی یا د دلائے گئے تھے اور عوامی سطح پر حکومت پر کی جانے والی تنقید کا بھی کھل کر ذکر کیا گیا تھا۔ اور اس بات سے بھی وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ حکومت کے تمام تر دعوں کے باوجود عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ چو نکہ اس نشست میں وزیر اعلیٰ کا خیال تھا کہ آئینی حقوق کا مسلہ اہم ہے اس کے حل کے لئے ہر ممکن جد و جہد جاری ہے مگر اس کی آس میں بیٹھ کر یہاں کی تعمیر و ترقی کے کام کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس لئے حکومت کی زیادہ تو جہ اس بات پر ہے کہ گلگت بلتستان میں گورننس کا نظام ٹھیک کیا جائے۔ یہاں کے ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے علاوہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور جو پیسہ وفاق سے ملتا ہے اس کا درست استعمال کیا جائے۔وزیر اعلیٰ کی اسی سوچ کے پیش نظر ان کو مشورے بھی اسی نوعیت کے دئیے گئے تاکہ ان مسائل کا حل ممکن ہو سکے جن کا عام طور پر عوام کو سامنا ہے۔ ہمیں اس بات کا اطمینان ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ہمارے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے چند اہم امور کے حوالے سے فوری احکامات بھی جاری کئے ہیں۔جن میں سوشل ویلفیر ، وویمن ڈیولپمنٹ اور ثقافت کے الگ الگ ادارے بنانے کے علاوہ دیگر امور شامل ہیں۔ راقم نے اس نشست میں جن اہم امور کی طرف وزیراعلیٰ کی تو جہ دلائی ان کی تفصیل کچھ یو ں ہے۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ بیورو کریسی کو حقیقی معنوں میں عوام کی خادم بنائی جائے۔ ہمارے یہاں بیوروکریسی کا یہ خیال ہے کہ وہ حکومت کرنے کے لئے بیٹھی ہے عوام کی خدمت کے لئے نہیں۔ یہ نظریہ ان کو انگریزوں سے ورثے میں ملا ہے۔ اس خیال کوختم کرکے ان کے اندر اس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ وہ عوام کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اور عوام کی خدمت ان کا بنیادی فرض ہے جس کے لئے وہ عوام کے سامنے جوابدہ بھی ہیں۔ جب تک بیوروکریسی کے اندر یہ احساس جنم نہیں لے گا تب تک نظام عوام دوست نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مشاورتی نشست میں وزیراعلیٰ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ سرکار کے تمام ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کے لئے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کریں تاکہ بیوروکریسی کو ایک خاص تربیت سے گزار کر ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ عوام کے خادم اور عوام کے ملازم ہیں، وہ حکمران نہیں ہیں۔ عوام کے حکمران صرف وہ ہیں جن کو عوام نے ووٹ کے زریعے حکمرانی کا حق دیا ہے۔

وزیراعلیٰ سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ گلگت بلتستا ن کی نوجوان نسل کو علاقے کی تعمیر و ترقی میں حصہ دار بنانے کے لئے ایک جامع اور موثر یوتھ پالیسی بنائی جائے۔ اس پالیسی کو بنانے کے لئے نوجوانوں سے مشاورت کی جائے۔ جس کے تحت ان کو زندگی کے تمام شعبوں میں شرکت دار بنانے اور ان کو تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

گلگت بلتستان میں سیاحت روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس صنعت کو فروغ دینے کے لئے جہاں دیگر اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے وہاں یہاں کی ثقافت کو بھی دنیا بھر میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ثقافت کی ترویج صرف ٹوپی ڈے منانے سے نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر اس کے فروغ کے لئے ثقافت کا الگ ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔

سوشل ویلفےئر کا ادارہ معاشرے کے ان افراد کی بہبود کے لئے نہایت اہم کام کر سکتا ہے جو کہ عام طورپر معاشرے پر بوجھ تصور کئے جاتے ہیں ان میں نادار، معذور، لاوارث، یتیم یا غریب بچے،بیوہ اور غریب خواتین اور بزرگ افراد شامل ہیں ۔ مگر یہ ادارہ ایک عرصے سے غیر فعال ہے ۔ اس ادارے میں کام کرنے والی خواتین سے ہسپتالوں میں جبری کام لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی خدمات سوشل مبلائزیشن کے لئے بہتر طور پر لی جا سکتی ہیں۔ اس ادارے کو محکمہ تعلیم سے الگ کر کے باقاعدہ ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ کو مزید مشورہ دیا گیا کہ گھریلو جھگڑوں اور تشدد کا شکار خواتین کے لئے دارلامان کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فشریز، محکمہ زراعت، محکمہ حیوانات سیمت دیگر ادارے جن کا کام علاقے میں پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا ہے ان میں کمرشل اپروچ پیدا کی جائے اور ان کو ٹارگٹ دیا جائے کہ اگلے سال تک وہ مختلف اجناس کی پیداوار کے حوالے سے مقرر کردہ حد تک کامیاب ہونگے وگرنہ ان محکموں کے اندر افراد کی زمداریاں تبدیل کی جائیں۔ گلگت بلتستان میں میڈیکل یا انجینئر نگ کالجوں کے لئے الگ عمارتوں کی تعمیر کی جائے، جبکہ سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کی عمارت جس مقصد کے لئے بنی ہے وہ اسی مقصد کے لئے استعمال کی جائے اور اس کو اپ گریڈ کر کے اس کی فعالیت کویقینی بنایا جائے۔ تھانوں اور تحصیلوں کے نظام کوعام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہتر کیا جائے اور وہاں ون ونڈو سسٹم متعارف کرایا جائے۔محکمہ منصوبہ بندی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ اس میں تحقیق کے رجحان کو فروغ دیا جائے نیز تمام اداروں میں ریسرچ ونگزبنا کر متعلق شعبوں میں تحقیق کے عمل کو فروغ دیا جائے تاکہ تمام امور سائنسی بنیا دوں پر انجام دینے کی اہلیت پیدا ہو سکے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے کام کیا جائے۔اس ضمن میں ڈومیسٹک انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے پالیسی بنائی جائے۔ شہر میں موجود پرائیوٹ میڈیکل کلینکس کی عمارتوں میں لوگو ں سے بھاری فیسیں لی جاتی ہیں مگر ان کے عوض ان کو سہولیات نہیں دی جاتی ہیں لہذا ان کلینکس کی عمارتوں میں توسیع سمیت مریضوں کو بیٹھنے کی بہتر جگہ اور صفائی کا پابند کیا جائے۔ گلگت بلتستان میں ہر احتجاج کرنے والوں پر مقدمات بنانے کی روایت ختم کی جائے کیوں کہ احتجا ج کا حق آ ئین اور قانون نے دیا ہے یہ لوگوں کا جمہوری و آئینی حق ہے ۔ ہاں اگر حکومت کو اس بات کی فکر ہے کہ احتجاج سے روڑ بند نہ ہو اور دیگر شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو تو اس مقصد کے لئے ایک الگ جگہ مختص کی جائے جہاں لوگ جمع ہو کر اپنے جائز مطا لبات کے حق میں احتجاج کر سکیں۔ کیونکہ دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں یہی روایت ہے۔

کچھ تجاویز ایسی تھیں جو اس نشست میں نہیں دی جاسکی تھیں ان کا تجاویز کو اس کالم کے زریعے وزیر اعلیٰ تک پہنچانا ضروری ہے جن میں سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں نئی زمینوں کو آبا د کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے، کھیلوں کے فروغ اور ان میں خواتین کی شمو لیت کے لئے اقدامات کئے جائیں،مختلف امور پر قانون سازی کے لئے محکمہ قانون کا قلمدان کسی قانون دان کو سونپا جائے جس کئے ممبر گلگت بلتستان اسمبلی ا یڈوکیٹ اورنگزیب موزوں شخصیت ہیں جنہوں نے گذشتہ ایک سال میں نہایت ہی اہم امور پر قانون سازی کے کئے بہترین کام کیا ہے۔ بین الاضلاعی سطح پر نیز گلگت اور سکردو شہر میں جدید ٹرانسپورٹ کی سہولیا ت فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ قصابوں، ٹیوشن سینٹرز، ہوٹلز سمیت تمام پرائیوٹ کاروبا ر کرنے والوں کو ایک ضابطے کے تحت پابند کیا جائے کہ وہ صفائی ستھرائی اور گاہگوں کو ان کے پیسوں کے عوض بہتر سہولیا ت فراہم کریں۔گلگت بلتستان میں فیملی کو ٹس کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ماتحت عدالتوں میں عوام کی سہولت کے لئے بہتر نظام وضع کیا جائے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ خواتین ، معذور افراد اور اقلیتوں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں مختص کوٹے پر عملدرآمد کرایا جائے۔ پرائمری سطح تک تعلیم کا الگ ڈائیریکٹریٹ بنا کر یہ شعبہ خواتین کے حوالے کیا جائے۔ کام کی جگہ پر خواتین کو حراساں کئے جانے کے خلاف بنائے گئے قانون پر عملدرآمد کے لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے۔ دور دراز کے علاقو ں میں میٹرنیٹی ہومز کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کی زچگی کے دوران اموات پر قابو پانے کے لئے میٹرنیٹی ہومز بنائے جائیں۔ گلگت بلتستان کی سرحدات کے تعین کے لئے بنائے گئے باؤنڈری کمیشن کو فعال بنا کر اس مسلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ خود کشیوں اور اس کا موجب بننے والے ذہنی امراض کے علاج کے لئے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتا ل میں ماہر نفسیات اور نفسیاتی امراض کے معالج تعینات کئے جائیں۔ زئد المعیاد ادویات اور اشیاء خوردو نوش کی روک تھام اور خود ساختہ قیمتوں پر کنٹرول کا نظام وضع کیا جائے۔ علاقے میں ادب کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ کتابوں کی اشاعت میں سبسڈی دی جائے بلکہ معیار کے مطابق اچھی کتاب کی اشاعت حکومتی سطح پر مفت کرائی جائے تاکہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

مذکورہ تجاویز کے علاوہ دیگر کئی امور پر بھی تجاوز دی جاسکتی ہیں ۔فی الحال اگر مذکورہ امور پر کام شروع ہو جائے تو عوام کو بڑی حد تک ریلیف مل سکتی ہے۔ امید ہے حکومت ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مناسب اقدامات کے زریعے ان پر عملدآمد کی کوشش کرے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments