مظلوم گلگت

مظلوم گلگت

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شمس الحق نوازش غذری

مذہبی منافرت اور مذہبی اختلافات کوایشو بنا کر مذہبی فسادات کو ہوا دینے سے ہماری بنیادیں ہل گئی ۔۔۔۔اور ہمارے تنے کھوکھلے ہوگئے۔ ہوا کے جھونکے آئے۔۔۔اور ہمارے تنوں کو جڑسے اکھاڑ کر اڑادئے۔۔۔اب ہم ہواکوکوس رہے ہیں۔۔۔کہ بے رحم ہواؤں نے ہمارے تنوں کو جڑ سے اکھاڑدئیے۔۔۔اور آندھیوں کوگالیاں دے رہے ہیں۔۔۔ظالم آندھیوں نے ہمارے باغ اجاڑ دئیے۔۔۔اگر مذہبی منافرت کے چشموں کے شیشوں میں موجود منافرت کی داغ کو حکمت و دانش کے آمیزے سے صاف کرکے بصارت کی راہیں ہموار کی جائیں۔۔۔اوردلوں پرچڑھی بغض و عناد کی چربی کو مہرووفا کے سرخ اور گرم لہو سے پگھلا کر بصیرت کا راستہ صاف کردیا جائے۔۔۔تو پھر ہمیں یہ منطق آسانی سے سمجھ آجائے گی۔۔۔کہ ہمارے تنوں کو آوارہ ہواؤں نے کھوکھلا نہیں کیا۔۔۔ہمارے باغات آندھیوں نے نہیں اجاڑے۔۔۔ہمارے کاشیانوں کو طوفانوں نے تہ و بالا نہیں کیا۔۔۔ہمارے چمن میں غیروں سے آگ نہیں لگائی۔۔۔ہمارا خون ہمارے اذلی دشمنوں نے نہیں بہایا ۔۔۔ہمارے شہر میں خوف و ہراس درندوں نے نہیں پھیلائی۔۔۔۔۔

یہ بے سمت اور پاگل ہوائیں تو کب سے چل رہی ہیں۔۔۔۔یہ آندھیاں دنیا میں تو کب سے برپا ہورہی ہیں۔۔۔یہ دھواں دار طوفان چار دانگ عالم میں تو کب سے رونما ہورہی ہیں۔۔۔ہم اپنے چمن سے خود غافل ہوئے۔۔۔ہم نے اپنے چمن کو نہ پانی دیا نہ کھاد دی۔۔۔نہ گوڑی کی۔۔۔نہ نگہبانی کی۔۔۔نہ آڑ لگائی۔۔۔نہ باڑلگائی۔۔۔ہماری غفلت ہماری بے حسی اور ہماری نادانی کی وجہ سے پھولوں کی جڑیں بوندبوند پانی کو ترستے رہے۔۔۔ہمارے جسم میں موجود منافرت کے جراثیم پھولوں کے جڑوں میں دیمک بن کر اترتے رہے۔۔۔دیمک پھولوں کے پتوں اور پودوں کے جڑوں کے ساتھ وہ سلوک کردیا جو تپتی صحرا میں دھوپ برف کے ساتھ کرتا ہے۔

ہم نے پھولوں کو درندوں کے پنجوں سے مسل کر اسے اپنی کامیابی سمجھا۔۔۔۔ہم سے ننھے منھے کلیوں کو شاخوں سے جدا کرکے خود کو اعلیٰ درجے کا مالی سمجھا۔۔۔ہماری درندگی کے باعث پودے پھولوں سے اور پھول پتوں سے محروم ہوگئے۔۔۔ہماری زیست خوئی اور ستم ظریفی کے باعث نہ چمن باقی رہا نہ چمن کے وفادار مالی باقی رہے۔

اب غورکا مقام یہ ہے۔۔۔۔جو لوگ اپنے چمن کیلئے پانی کو خود حرام قرار دیں۔۔۔انکے چمن میں سانحہ کربلا تو برپا ہوگا۔۔۔جو لوگ سوکھے پتیوں کے ساتھ ماچس کی تیلی سے کھیلنا شروع کردیں۔۔۔ان کے چمن سے دھوؤں کے مرغولے تو اٹھیں گے۔۔۔ جو لوگ بچوں کی طرح کوئلوں سے کھلونوں جیساسلوک کریں گے۔۔۔ان کے ہاتھ اور ان کے چہرے توسیاہ ہوں گے۔

قصّہ مختصر!جو لوگ اپنے سیاہ کاری کی وجہ ہے اپنے ہی چمن کو سیاہ خانہ بنادیں۔۔۔ان کے مقدر میں سیاہ روئی اور رسوائی تو لکھی ہوگی۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔