ہماری ثقافت اورخواتین کی ٹوپی 

ہماری ثقافت اورخواتین کی ٹوپی 

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گذشہ دنوں گلگت بلتستان میں ٹوپی شنانٹی ڈے منایا جارہا تھا تو اُن دنوں پامیر ٹائمز میں روشن بانو نے اپنی مختصرتحریر میں بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہماری ثقافت میں ٹوپی صرف مردوں کی نہیں بلکہ خواتین کی بھی ہے ۔ لہذا ٹوپی شانٹی ڈے مناتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کی اس صحت مند سرگرمی میں خواتین کی شمولیت یقینی بنائی جائے تاکہ مقامی ثقافت بہتر طور پر اجاگر ہوسکے ۔ ٹو پی کے ساتھ شانٹی کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی تصدیق کر دی گئی تھی کہ یہ دن صرف مردوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات طے ہے کہ خواتین شانٹی کا استعمال نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ شانٹی کا لفظ نکال کر صرف ٹوپی ڈے منایا جائے جس سے مراد مرد اور خواتین دونوں کی ٹوپیاں ہونگیں اور اس دن نہ صرف مرد ثقافتی ٹوپی پہن لیں بلکہ خواتین کو بھی موقع دیا جائے کہ وہ بھی اپنی ثقافتی ٹوپی پہن کر اس دن کو منا سکیں۔

شانٹی کا لفظ نکال کر صرف ٹوپی ڈے منانے کی تجویز کی حمایت ان احباب نے بھی کی ہے جو وائلڈ لائف کے حوالے سے فکر مند ہیں اور ان کا خیال ہے کہ شانٹی ایک مخصوص اور نایا ب پرندے کے پروں سے بنائی جاتی ہے۔ جس کو مقامی لوگ مر غابی کی ہی ایک اعلیٰ نسل تصور کرتے ہیں ۔ مقامی بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ پرندہ یہاں گلگت بلتستان میں دستیاب نہیں ہے بلکہ دوران سفر اس کا ایک مخصوص موسم میں یہاں سے گزر ہوجاتا ہے ۔ اس کااصل مسکن سائبریا سمھجا جاتا ہے۔ ایک مہمان اور نایاب پرندے کے پروں سے بنائی جانے والی شانٹی دراصل اس پرندے کی نسل کشی کے مترادف ہے اس لئے وائلڈ لائف پر کام کرنے والے احباب اس عمل سے سخت نالاں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف اس پرندے کے شکار کی پابندی ہونی چاہئے بلکہ شانٹی پر بھی مکمل پابندی ہونی چاہئے تاکہ اس نایا ب پرندے کی نسل کشی کو روکا جاسکے۔

شانٹی جس کسی نے بھی ہمارے کلچرمیں متعارف کرایا ہے اس نے فطرت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ ایک پرندے کو مار کر اس کے پروں کو سر پہ سجھاکر ایک غیر فطری عمل کا مرتکب ہوا ہے۔ شانٹی کی مدد سے مردوں کی جھوٹی شان بڑھانے کے لئے جو کام کیا جاتا رہا ہے اس کو روکنا چاہئے اور اس کی جگہ ایسی اقدار کو فروغ دیا جائے جن میں مردوں کی شان شانٹی کی محتاج نہ ہو بلکہ اس کے کردار کی وجہ سے اس کی شان میں اضافہ ہو۔ جدید دور میں جہاں دنیا بھر میں نایاب جانوورں اور پرندوں کی نسل کشی کو روکنے کی کوششیں ہوری ہیں وہاں اگر ہم ایک نایا پرندے کے پروں سے بننے والی اس شانٹی کو اپنے کلچر کا حصہ رکھیں گے تو یہ دنیا بھر میں ہماری نیک نامی کی بجائے بد نامی کا باعث ہوگی۔

وائلڈ لائف کے احباب کی چیخ و پکار جاری تھی ایسے میں روشن بانو کی تجویز سامنے آئی ہے جو کہ انتہائی معقول ہے۔ گو کہ یہ تجویز خواتین کو ٹوپی ڈے میں شمولیت کا موقع دینے کے حوالے سے ہے مگر اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں شانٹی کی مخالفت کی گئی ہے جوکہ صرف مردوں کے لئے مخصوص ہے وگرنہ صرف ٹوپی ڈے منایا جاتا تو ہماری ثقافت میں ٹوپی مرد اور عورت دونوں کی ہے ۔بلکہ خواتین کی ٹوپی میں جو دستکاری ہوتی ہے اس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی بھی زیادہ ہوتی ہے۔لہذا ٹو پی شانٹی ڈے سے صرف شانٹی کا لفظ نکال دینے سے مرد اور عورت کی تفریق ختم ہوسکتی ہے اور ٹوپی ڈے منائے جانے کے عمل میں خواتین کی شمولیت سے ثقافت کی ترویج میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ اس دن تعلیمی اداروں میں بچے اور بچیوں کو اپنی ثقافتی ٹوپی پہن کر آنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے اور میڈیا کی مدد سے دنیا کو بتا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں خواتین اور مردوں کی ٹوپیاں ثقافتی لباس کا اہم حصہ ہیں جو کہ دنیا بھر میں ہماری منفرد پہچان کا باعث ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ثقافت کو ترویج ملے گی بلکہ ہمارے یہاں ٹوپی اور چغہ سمیت دستکاری کی دیگر مصنوعات کی جو صنعت دم توڑ چکی ہے اس میں بھی جان آسکتی ہے اور علاقے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس سے روزگار مل سکتا ہے۔

ثقافت اور زبان کی حفاظت اور ترویج میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہم آج اکسیویں صدی میں بھی خواتین کو معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے سے کتراتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواتین ثقافت کی سفیر ہوتی ہیں۔ بلکہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ثقافت کی ترویج ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں امن کے قیام میں بھی خواتین کے کردار کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ بے امنی کی سب سے زیادہ شکار خواتین رہی ہیں۔ کسی کا لخت جگر ا ن سے جدا ہوتا رہا ہے تو کسی کا سہاگ اجڑتا رہا ہے مگر جب امن کے لئے کوششوں کی بات آتی ہے تو صرف مرد سر جوڈ کر بیٹھ جاتے ہیں جو کہ خود بے امنی کا اصل سبب بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف ثقافت ، زبان یا قیام امن میں خواتین کا کردار اہم ہوسکتا ہے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی شمولیت سے معاشرے میں بہتری کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔

یہ بات افسوس ناک ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان نے اپنے ہزار سالہ ترقیاتی اہداف میں عالمی برادری سے وعدہ کیا ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے لئے تمام تر اقدامات کریگا۔ جب تک نصف سے زائد آبادی کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع نہیں دیا جائے گا تب تک ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ لہذا روشن بانو کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے آئند شانٹی کا لفظ نکال کر ٹوپی ڈے منایا جائے اور اس میں مردوں سمیت خواتین کو بھی اپنی ثقافتی ٹوپی پہننے کا موقع دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments