گلگت بلتستان کے 290 دیہات میں پچاس فیصد گھرانے مختلف آفات کی زد پر ہیں، فوکس پاکستان نے رپورٹ جاری کردی

گلگت بلتستان کے 290 دیہات میں پچاس فیصد گھرانے مختلف آفات کی زد پر ہیں، فوکس پاکستان نے رپورٹ جاری کردی

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت،15نومبر:آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ایجنسی فوکس ہیومنٹیرین اسسٹنس )فوکس( پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گلگت -بلتستان  میں واقع290دیہاتوں کے46فیصد سے زائد گھرمتعدد حادثات اور خطرات سے گھرے ہوئے علاقوں میں واقع ہیں جن میں سے 8فیصد گھرانتہائی خطرے والے علاقوں میں واقع ہیں۔اسی طرح، تقریباً ایک تہائی اسکول ، صحت کے مراکز، عبادت گاہیں  اور نصف سے زائد اہم  سہولتیں مثلاً پل، ٹیلی کام ٹاورز اور پاور اسٹیشن بھی براہ راست  خطرات سے گھرے ہوئے علاقوں  میں واقع  ہیں۔

ان نتائج کو ”حادثات کے مقامات کی نقشہ کشی اور خطرات کے تعین (Hazard Mapping & Risk Assessments)“ کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار میں پیش کیا گیا ۔ اس سیمینار کا اہتمام سیرینا ہوٹل، گلگت میں 290سے زائددیہاتوں کے لیے حادثات اور خطرات کی نقشہ کشی  اور تعین  سے حاصل ہونے والے کلیدی نتائج کو حکومت گلگت-بلتستان کو پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ سیمینا ر میں گلگت –بلتستان کے وزیر اعلیٰ جناب حافظ حفیظ الرحمان مہمان خصوصی تھے۔ اس کے علاوہ گلگت-بلتستان کی قانون ساز کونسلوں  کے اراکین، دیگر سرکار ی حکام، تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد، ڈی ڈی آر فورم، غیر سرکاری اور سول سوسائٹی کے اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

علاقہ میں  آفات  سے نمٹنے کے لیے تیاری کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے ، وزیر اعلیٰ جناب حافظ حفیظ الرحمان نے کہا،”پاکستان کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے گلگت-بلتستان کی بہت اہمیت ہے کیوں کہ یہ ایک اسٹریٹجک مقام پر  واقع ہے اور اس کی سرحدیں چین، افغانستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔چنانچہ اس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ ہم قدرتی وسائل کے انتظام ، پالیسیوں اور آفات کے خطرات میں کمی کی حکمت عملی، اور بالخصوص ڈی سینٹرلائزیشن  ریفارمز اور دیہاتوں اور کمیونٹی کی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے تناظر میں باہمی عمل کے لیے نئے مواقع تلاش کریں۔“

گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ کے دوران  فوکس آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری ،پورے پاکستان سے رد عمل کے لیے ایک جامع پروگرام پر حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔اس پروگرام میں دیہاتوں کی نقشہ کشی کے ساتھ حادثات اور خطرات کا تعین، دیہاتوں کی سطح پر ڈزاسٹر رسک منیجمنٹ پلان، مقامی آبادیوں کی تربیت  اور ایسے دیہاتوں کے لیے جو دوردراز علاقوں میں واقع ہیں اور جہاں خطرات بھی زیادہ ہیں ا ن کے لیے ایسی اشیاء  کا ذخیرہ جمع کرنا جو خوراک کے طور پر استعمال نہ ہوتی ہوں ۔

اس سے قبل اپنے خیر مقدمی خطاب میں فوکس پاکستان کی ایگزیکٹو آفیسر، نصرت نصب نے زور دیا کہ آفات کی پہلے سے نشاندہی  اور خطرات کی نشاندہی آفات کے خطرات کو کم کرنے کی ایکو-ڈی ڈی آر، گرین اور گرے سولوشنز مل کرحکمت عملی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جو علاقہ میں خطرات سے پاک ترقی کے لیےمعاون ہیں۔

گلگت –بلتستان میں فوکس کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے  انہوں نے مزید کہا،”خطرات سے دوچار جن آبادیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے زیادہ ترآبادیاں  دریاؤں اور ندی نالوں کے کناروں، انتہائی عمودی نوعیت کی ڈھلوانوں اورگلیشئرز کے بہاؤ کے ساتھ رہتی ہے ۔“

آفات اور خطرات کے نقشوں کو حکومت کے سالانہ بجٹ سائیکل میں پلاننگ اور فیصلہ سازی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ فوکس پاکستان نے اسی طرح کے نقشے چترال کےلیے بھی تیار کیے تھے اور انہیں گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک تقریب میں پیش کیے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔