کیا ایسا ہوگا

کیا ایسا ہوگا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔ دردانہ شیر

بحریہ ٹاون کے چیرمین ملک ریاض نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تو پانچ ہزارایک ہزار اورپانچ سو کے نوٹ کو ختم کرنے ہونگے انھوں نے کہا کہ ایک سو سے بڑے نوٹ کا اجرا بندکیا گیا تو ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کو موقع دیا جائے یا جو تجاویز میں دونگا ان پر عمل کیا گیا تو دو سال بعد ملک میں کوئی بیروزگار نہیں ہوگا انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں خوشاآمدنے پورے نظام کو خراب کرکے رکھ دیا ہے جس وقت وزیر اعظم کی نگرانی میں کام کرنے والے اہلکار وزیر اعظم کو مسڑ وزیراعظم کہہ کر پکارینگے اس وقت ملک کا سسٹم بہتر ہوگا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کا تین سو اسی ارب ڈالر باہر کے ملکوں میں پڑا ہے ان کو واپس لانا ہوگا اگر نظام کو ٹھیک کرنا ہے تو سب کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا ملک ریاض کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس پچاس ہزار سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور آج تک کوئی بھی ملازم ان سے نوکری چھوڑ کر نہیں گیا میں دفتر جاتا ہوں تو نہ میں خود دفتر میں موبائل استعمال کرتا ہوں اور نہ ہی میرے دفتر میں کسی بھی اہلکار کو موبائل کے استعمال کی اجازت ہے ان کا کہنا تھا کہ دفتری اوقات میں کسی بھی ملازم کو اخبار پڑھنے کی اجازت نہیں جو واش روم میں استعمال کرتا ہوں وہی میرا گریڈ ون بھی استعمال کرتا ہے میں نے آج تک کسی بھی بنک سے ایک روپیہ بھی قرضہ حاصل نہیں کیا میرے پاس جو کچھ ہے میں اس میں سے ایک بڑا حصہ غر یب عوام پر خرچ کرتا ہوں ملک کے امیر طبقہ کو یہ بتاتا ہوں کہ وہ بھی اپنا پیسہ غریبوں پر خرچ کریں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو غریب کے ہاتھوں مجھے جیسے امیر لوگ مارے جائینگے ملک ریاض کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں تعلیم کو بہتر بنانا ہے تو پرائیوٹ سکولوں کو ختم کرنا ہوگا غریب اور امیر کا بیٹا ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کرینگے تو ملک میں نہ صرف تعلیمی اداروں میں بہتری آئیگی بلکہ یہ ملک ترقی کے میدان میں بہت آگے تک جائے گاملک ریاض کا کہنا تھا کہ اس ملک کی ترقی میں میڈیا سب سے زیادہ رکاوٹ ہیں جو بندہ ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے میڈیا سب سے پہلے اس کاسکینڈل بنا لیتی ہے مجھے پر میڈیا نے ایسے الزامات لگائے جن کا دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں تھا مگر ایک الزام بھی ثابت نہ ہوسکا آج کل میڈیا میں بریکنگ نیوز کے نام پر مقابلہ چل رہا ہے اس سے دیکھ کر حیران ہونا پڑتا ہے ایک شخص سڑک پار کرتا ہے تو اس کی بھی بریکنگ نیوز بنائی جاتی ہے ملک ریاض کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم سے لاہور میں کوئی بھی بڑا ہسپتال میرے حوالے کرنے کو کہا ہے تاکہ اس ہسپتال میں غریب عوام کو علاج کی تمام تر سہولتیں مل سکے جبکہ بحریہ ٹاون کا دسترخوان میں روزانہ ہزاروں لوگ کھانا کھاتے ہیں آج تک بحریہ ٹاون کے کسی بھی دسترخوان پر کھانا غلط ملنے یا کوئی اور شکایت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی چالان ہوا ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے دوردراز علاقوں کوئٹہ کے بعض علاقوں اور سکر دو میں بھی بحریہ ٹاون بہت جلد عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کام کرئے گی تاکہ دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں دستیاب ہو ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی دولت کا پچھتر فی صد حصہ غریبوں پر خرچ کرتا ہوں اور بحریہ ٹاون نے ہزاروں ایسے غریب افراد کو نہ صرف مفت گھر بناکر دئیے ہیں بلکہ ان کو فرنیچر ٹی وی اور کھانے پینے کا سامان بھی دیا ہے میڈیا مجھے پر جتنا بھی تنقید کریں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میرا رب مجھے سے راضی ہو اور مجھے اپنے ملک کے عوام کی خدمت کا موقع دیں اس سے بڑی میری کوئی خواہش نہیں ہے میں کراچی میں کراچی جیسا ایک اور شہر بنانا چاہتا ہوں اور پشاور میں بھی بہت جلد ایک اور پشاور شہر بنا دیا جائے گا میں نے بیرونی ملک میں کاروبار پر ایک پیسہ نہیں لگایا میرا جینا مرنا صرف پاکستان کے لئے ہے جب تک جان ہے اس ملک کی خدمت کرتا رہونگا۔

قارئین کرام ملک کے سب سے بڑے ہاوسنگ سیکم کے مالک اور ہر وقت غریبوں کی خدمت میں حاضر ہونے والے مسیحا ملک ریاض نے یہ باتیں نجی ٹی وی کے انیکرپرسن سیلم صافی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔ انھوں نے جو باتیں کیں کیا ملک کے حکمران اس پر عمل کرینگے؟ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں سب سے بڑی کرنسی کے نوٹ کااجرا کا آخر کیا مقصد ہے ہمارا ہمسایہ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین جس کی اس وقت پوری دنیا میں ستر فی صد مصنوعات فروخت ہورہی ہیں اور اس ملک میں سب سے بڑ انوٹ ایک سو ین کا ہوتا ہے جوکہ ایک ہزار چھ سو پاکستانی روپے کے برابر ہے جبکہ دنیا کے بہت سارے ایسے ملک ہیں جہاں ایک سو سے بڑا نوٹ نہیں کیا ملک ریاض کی طرف سے دئیے گئے تجاویز کو ملک کے حکمران عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرینگے کہ اگر واقعی کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو پانچ ہزار ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کو ختم کرکے صرف سو روپے کا نوٹ رکھا جائے گاکیا ملک ریاض سے ملک کے حکمران یہ اجازت یا ان سے تجاویز لینگے کہ دو سال کی مختصر مدت میں ملک سے بیروزگاری کا مکمل خاتمہ کیسے ہوگا کیا تمام پرائیوٹ سکولوں کو بندکرکے ایک ہی لیول کا تعلیم دیا جائیگا جس میں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی درسگاہ میں تعلیم حاصل کریں یہ وہ سولات ہیں جن کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اور نہ ہی ملک کے عوام کے پاس ہاں البتہ ملک کے حکمران ملک ریاض کی ان تجاویزپر غور ضرور کریں تاکہ اگر ان کے تجاویز سے ملک ترقی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے تو ملک کے حکمران ایک بار ملک کے غریب عوام کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author