احساس اور اصلاح

احساس اور اصلاح

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد اعجاز مصطفوی

اپنے میں کچھ ہونے یا نہ ہونے کا علم ہونا احساس ہے اور اپنی کمی یا دوسروں کی کمی کو پورا کرنا اصلاح ہے ۔

احساس اور اصلاح کی کئی اقسام ہیں ۔

احساس فی ذات،

احساس فی معاشرہ،

احساس فی دینیہ،

احساس فی وطن،وغیرہ وغیرہ

اور سب سے بڑھ کر ایمانی احساس ہے۔ جتنے احساس کی اقسام ہیں اتنے ہی اصلاح کے بھی ہیں۔ کیونکہ جہاں جہاں احساس ہوتا ہے وہاں کسی نہ کسی طریقہ سے اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ کو ئی بھی معاشرہ اس وقت تک پایہ تکمیل کو نہیں پہینچھتی جب تک اس کے اندر احساس اور اصلاح کی صلاحییت موجود نہ ہو۔ کسی بھی مرد موٗمن کے لئے احساس اور اصلاح لازم وملزوم شے ہے۔ احساس ہی بندے کے اندر اصلاح پیداکرتی ہے اور اصلاح کرنا اور کرانا ہی مردمومن کی علامت ہے جسکا قرآن پاک میں کئی بار ذکر فرمایا ہے

احساس اور اصلاح کے موضوع پر جتنا اسلام نے زور دیا یے اتنا شاہد ہی کسی مذہب نے دیے ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلام ہی احساس و اصلاح پے زور دیتا ہے بلکہ ہر مذہب اور قوم حتی الامکان زور دیتی یے ۔

ترقی یافتہ ممالک آگراس سٹیج تک پہنچے ہیں تو ان کہ یہی راز ہی کہ وہ اپنے اندر احساس پہدا کرتی ہے پھر کسی اچھے مصلح پا خود اصلاح کرتے ہیں ۔

احساس و اصلاح ہی قوم کو قوم بناتی یے ہے انسان کو اشرف المخلوقات بنادیتی ہے انسا ن کو بتاتی ہے کہ آپ کچھ کرسکتے ہو اور آپ جیت سکتے ہو آپ اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہو اور آپ کے لئے یہ دنیا مسخر کیا ہے اور آپ کے لیے ہی سورج چاند تارے ہیں ۔

لیکن اگر بد قسمتی یا بد بختی سے یہی احساس اور اصلاح کا احساس ختم ہو جائے تو انسان جانور سے بدتر سمجھے جاتے ہیں ۔ انسان زندہ ہوکر بھی مردہ ہوتے ہیں۔ وہ کچھ کرنے کی صلاحیت کے باوجود کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اپنے آپ کو سب سے ادنی اور کمتر سمجھتے ہیں ۔ اور سمجھتا ہے کہ میں ہر کسی کے لئے اور مجھ سے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

انسانی زندگی احساس اور اصلاح کی جنگ ہے ۔ اس جنگ میں ہارنا اور جیتنا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

کسی قوم میں اگر احساس اور اصلاح کی صلاحیت نہ ہو تو وہ بھیک مانگ کر بھی نہیں شرماتے۔

اسے اپنے اندر موجود خوبی با خامی نظر ہی نہیں آتابلکہ اسے دوسرےلوگوں کی طرززندگی اچھے اور خوبصورت لگتے ہیں۔

وہ کسی کے غلام بھی بن جائے تب بھی اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے ہیں لیکن یہ بادشاہت اس کی اپنی ذات تک بھی نہیں کیونکہ اسے کسی چیز کی احساس ہی نہیں ہے۔

اسلئیے انسانوں کو چاہیے کہ اپنے اندر احساس اور اصلاح کی صلاحیت پیداکیجیے اور نہ صرف اپنے اندر احساس اور اصلاح کرے بلکہ دوسروں کو بھی درس دے۔ احساس دلاتے وقت اصلاح ضرور کیجیے ورنہ صرف احساس سے کام نہیں چلے گی۔ احساس اور اصلاح کی اصل معنٓی و مفہوم کو سمجھنا امت مسلمہ کے لیے وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور پیغام بھی۔۔۔۔۔

والسلام۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔