تھلپن سے التشی تک متاثرین کے معاوضے روکنا سراسر ظلم ، زیادتی اور حق تلفی ہے، نجم خان

تھلپن سے التشی تک متاثرین کے معاوضے روکنا سراسر ظلم ، زیادتی اور حق تلفی ہے، نجم خان

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)متاثرین ڈیم کمیٹی حلقہ 1تھک گینی گوہر آباد کے راہنما نجم خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ واپڈا اور انتظامیہ فوری طور پر بنجر داسز کے ایوارڈ سے قبل ہی بیرون لینڈ میں شامل متاثرین کے املاک و اراضی کے معاوضے ادا کرے۔تھلپن سے التشی تک متاثرین کے معاوضے روکنا سراسر ظلم ، زیادتی اور حق تلفی ہے۔متاثرین اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو مزید سہہ نہیں سکتے ہیں۔فوری ادائیگی یقینی نہیں بنائی گئی اور متاثرین کو مطمئن نہیں کیا گیا تو شاہراہ قراقرم کو احتجاجاًمکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔اس دوران کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی ذمہ داری واپڈا اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔متاثرین ڈیم کمیٹی کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہا ہے۔واپڈا اور انتظامیہ اپنی من مانی کر کے اندرون لائن اور بیرون لائن کے نام پر متاثرین کے املاک و اراضی کے معاوضے ادا نہیں کر رہے ہیں۔معاہدے میں اندرون و بیرون لائن کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔کرپشن کے لئے نیا کھاتا کھول دیا گیا ہے۔معاہدے کے مطابق موجودہ ہیئت کے مطابق متاثرین کے تمام اراضی و املاک کی پے منٹ کرنا تھی۔عوام اور کمیٹی کو اعتمادمیں لے کر تمام معاملات نمٹانے تھے مگر واپڈا اپنی من مانی کرتے ہوئے متاثرین ڈیم کو دیوار سے لگا رہا ہے۔تھلپن سے التشی بونر داس تک معاوضوں کی عدم ادائیگی سے متاثرین ڈیم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔مذکورہ ایرئے کے علاوہ دیگر ایریاز میں معاوضے ادا کئے گئے ہیں لیکن اس ایریا ء کی پے منٹ روکنا ڈیم متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیم کمیٹی کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں موجودہ ہیئت ،ریٹس اور سروے کے دوران کمیٹی کے ممبران کو شامل کرنا واضح تھا۔جبکہ اس معاہدے کو پس پشت ڈالکر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔جو سراسر نا انصافی اور متاثرین ڈیم کے ساتھ زیادتی ہے۔متاثرین ڈیم کے ساتھ موجودہ ہئیت داسز کی ویریفکیشن ،کمرشل حدود اور عمارتوں کے سروے میں پی ڈبلیو ڈی کے عملے کو بھی شامل کرنے سمیت کمیٹی کی نمائندگی بھی شامل تھی۔پس پشت ڈالکر اپنی مرضی مسلط کرنا کرپشن کے سوا کچھ نہیں جو کسی صورت منظور نہیں ہے۔فوری طور پر معاہدے کے مطابق عملدرآمد کر کے متاثرین کو مطمئن کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر دسمبر تک معاہدے کے تحت معاوضوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو متاثرین کی مرضی کے مطابق نیا ریٹ مقرر ہوگا۔واپڈا اور انتظامیہ متاثرین کے معاوضے ادا نہ کر کے ڈیم کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے اجتناب کرے۔اور مزیدمسائل پیدا کرنے سے باز آجائے اور متاثرین سے کئے ہوئے وعدوں اور معاہدے کے تحت ادائیگی یقینی بنائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔