شیر اور سفید ہاتھیاں۔۔دوسری قسط

شیر اور سفید ہاتھیاں۔۔دوسری قسط

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

(گزشتہ سے پیو ستہ)

تیر نے ( مہدی سر کا ر) جو سفید ہا تھیاں شیر ( حفیظ سر کا ر) کے حو الے کیا تھا اُن کے تذکرے سے پہلے میں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے ہا تھی اور ان سے جڑے اردو زبان کے محا ورں کے با رے چند سطریں لکھوں جو آج کل سیا سی زبانوں کو ازبر ہو چکے ہیں۔ ہا تھی ایشیا ء میں رہنے والے خشکی کا سب سے پرا نا اور بڑا جا نو ر تصور کیا جا تا ہے بر صغیر کے بعض گو شے بھی ایشیائی ہا تھی کے مسکن رہے ہیں اس لئے بھارت کے ہندوں آج بھی ہا تھی کو گنیش دیوتا کے نام سے یاد کر تے ہیں کیو نکہ اُن کے شو جی کا بیٹا دانا ئی اور مشکل کشا ئی کے دیوتا ما نے جا تے تھے جن کا سر ہا تھی کا اور بدن انسان کا تھا۔ ہندو ں کا خیال ہے کہ ہا تھی مینہ بر سانے والے دیو تا اور جنت کا راجا اندر( اندرا) کا مقدس پہاڑ بھی ہے ۔۔ جنو بی مشرقی ایشیا ئی ممالک تھا ئی لینڈ، بر ما، لاوس( آج کل تین ریا ستوں میں تقسیم ہوا ہے) اور کیمبو ڈیا کے بدھسٹ سفید ہا تھی کو ایک مقدس جا نور تسلیم کر تے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ بدھاکے پیدا ئش کے وقت خواب میں ان کی والدہ کو ایک سفیدہا تھی نے کنول کا پھول پیش کیا تھا۔ اس لئے اُن کی ریاست میں سفیدہا تھی نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ما ضی کے تمام با دشاہوں نے اپنی طاقت اور خو شحا لی کو ثا بت کر نے کے لئے سفید ہا تھی پا لتے تھے اور ایک دوسرے سے نہا یت خوش ہو کر سفید ہا تھی تحفے میں دیا کر تے تھے۔۔۔اور اُن کے بادشا ہت کے رعب اور دبدبے کو بیان کر نے کے لئے اُن کے نام کیساتھ The Lord of Elephant ( ہا تھی کے آقا ) کا جملہ لکھ دیا جا تا تھا۔ ان با دشا ہوں کے اس عمل نے بعد میں اردو زبان کے لئے ’’ سفید ہا تھی‘‘ کے محا ورے کو جنم دیا لیکن بیسو یں صدی کے اوائل میں اسکا مطلب بالکل اُلٹ ہو گیا۔۔یہاں یہ خو شحا لی اور طاقت با زی کی علامت نہیں رہی بلکہ ہر وہ شخص، ادارہ یا کام جس کا فاعدہ کم اور نقصان زیادہ ہو تو اس کو ’’ سفید ہا تھی ‘‘ گر دانا جا تا ہے۔ اردو زبان میں اور بھی بڑے دلچسپ محا ورے ہا تھی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور زبان ذد عام ہے ۔ ہماری سیاسی قیادت ہر سیا سی تقریر میں ان محا وروں کا بے دریغ استعمال کر تی دیکھا ئی دیتی ہے، پا رلیمنٹ میں کسی ممبر اسمبلی کی کو ئی عام تقریر ہو یا جمہو ریت بچا نے کے لئے ایوان زیریں اور ایوان بالا کا مشترکہ اجلاس اور محاز آ را ئی ’’پورس کے ہا تھی‘‘ کا ذکر کو ئی نہ کو ئی ممبر چھیڑ کر سکھ پا تا ہے۔۔ پو رس کے ہا تھی بھی تا ریخ میں بڑ ے مشہور ہیں جب را جہ پو رس کے افواج گھو ڑوں اور ہا تھیوں کو لے کر سکند اعظم کو جہلم کے مقام پر رو کنے گئے تو اُن کی فوج کو اُن کے اپنے بد مست ہا تھیوں نے کچل دےئے ۔۔ اس کے بعد پورس کے ہا تھی بھی محا وروں کی صورت اختیار کر گئے ۔۔۔نسیم حجازی کے مشہور ناول و ڈرامہ’’ پورس کے ہا تھی ‘‘ پڑ ھ کر ہر کو ئی پورس کے ہا تھیوں کے بارے میں جا ننے کا خواہش مند ہو تا ہے ۔ اس کے علاو کسی کے ظا ہر اور با طن میں تضاد کا شک ہو پھٹ سے ’’ ہا تھی کے دانت دیکھا نے کے اور کھا نے کے اور ‘‘ والا محاورہ داغ دیا جا تا ہے۔۔ فا عدہ نقصان کا ذکر ہو تو ’’ سفید ہا تھی‘‘ کانعرہ بلند ہو تا ہے اسی طرح اور بھی کئی محا ورے ہیں جو وقتاً فوقتاً زیر استعمال ہو تے ہیں مثلاً ہا تھی کا بوجھ ہا تھی اُٹھا تا ہے، ہا تھی کے منہ میں لکڑی پکڑا تے ہیں، ہا تھی کیساتھ گنا چو سنا اور ہا تھی چڑھے کتا کا ٹے وغیرہ وغیرہ

اب چلتے ہیں سفید ہا تھیوں کی جانب جو مسلم لیگ ن نے نشا ندہی کی تھی۔۔ وائٹ پیپر میں گلگت بلتستان کے سات حکو متی اداروں کو سفید ہا تھی قرار دیا گیا تھا اور اُن کی اصلا حات کے لئے سفارشات بھی مر تب کئے گئے تھے۔ آج وہ ہا تھیاں حفیظ سر کا ر کے پاس ہیں۔۔ آج پہلے ہا تھی کا ذکر کر یں گے۔۔۔ سب سے پہلا سفید ہا تھی محکمہ سیا حت کو قرار دیا گیا تھا جو سعدیہ دانش صا حب کی منسٹری تھی۔۔وائٹ پیپر میں لکھاگیا تھا کہ گلگت بلتستان کو قدرت نے خو بصورتی سے ما لا مال کیا ہوا ہے،جی بی میں سیاحت کے محکمے کی ذمہ داری قدرتی اور انتظا می سطع پر اس لئے بڑ ھ جا تی ہے کہ اس کا ایک منفرد مقام ہے اور دنیا بھر سے سیاح یہاں آنے کے لئے بے تاب ہیں۔ یہ محکمہ ایک مشیر سیا حت کے زیر نگرا نی زبوں حا لی کا شکار ہے ، اس سفید ہا تھی کو آج جدید خطوط پر استوار کر نے کی ضرورت ہے تمام سیا حتی مقا مات تک سیا حوں کی رسا ئی ہو نی چا ہئے، ریسٹ ہا وس کی تعمیر اور سیا حوں کے تحفظ کے لئے اقدا مات اور الیکٹرانک میڈیا کے زریعے پر کشش منصو بہ بندی کی ضرور ت ہے۔مزید کہا گیا تھا کہ سعدیہ دانش صا حبہ نما ئشی حکمت عملیوں میں مصروف ہے ان کی تو جہ نہ ہو نے کی وجہ سے اربوں روپے کما نے کا اہل ادارہ زبوں حا لی کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن کے وائٹ پیپر مند جہ ذیل سفا رشات اس سفید ہا تھی کو واپس ایک منا فع بخش ادارہ بنا نے کے لئے پیش کیا تھا:

۔ گلگت بلتستان ٹورز م اتھا رٹی قائم کر تے ہو ئے اس میں تجر بہ کاراور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حا مل ما ہر ین ٹور اپر یٹرز، گائیڈز،کلا ئمبر اور منیجرز کو اسکا ممبر بنا یا جا ئے

۔ پا کستان ائیر لائن ( پی آئی اے) کیساتھ پرا ئیوٹ ائیر لا ئنز کو گلگت بلتستان میں سیا حتی پا لیسی کے مطا بق فلا ئٹس کے شیڈول کے لئے پا بند کیا جا ئے اور آل ویدر فلا ئٹس کے لئے ہنگا می بنیا دوں پر اقدامات کئے جا ئے

۔ قراقرم ہا ئی وے کی تعمیر کے لئے حکو مت پا کستان کے 85فیصداور چین کی طرف سے 15 فیصد فنڈز کو شاہراہ کی تعمیر پر ہنگا می بنیادوں پر خرچ کیا جا ئے

۔ گلگت بلتستان کے ہر شعبہ زندگی کو ترقی دینے کے لئے امن کو بنیادی ایجنڈا بنا یا جا ئے

مسلم لیگ ن کے وائٹ پیپر میں یہ بات بھی درج تھا کہ’’ رحمان ملک کی غیرعوامی اور ترقی دشمن پا لیسی کے تحت گلگت بلتستان کی سیا حت کو نقصان پہنچا یا گیا اور بین الاقوامی سیا حوں کو رو کنے کے لئے سیکو ر ٹی کے نام پر ویزے نہیں دئیے گئے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی سیاحت کو کروڑوں رو پے کا نقصان ہوا ۔مزید کہا گیا تھا کہ شاہراہ قراقرم کو نا قص منصوبہ بنددی کے تحت رائیکوٹ سے خنجراب تک اُکھا ڑ پچھا ڑ کیا گیا جس کی وجہ سے نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی سیاح بھی مشکلات کا شکار ہو کر سفر سے گریز کر تے رہے اور یہ سب مہدی شاہ اور سعدیہ دانش کی نا اہلی اور نا قص منصو بہ بندیوں کے سبب ہوا‘‘۔ ن لیگ کے وائٹ پیپر کے ساتھ گلگت بلتستان کے ہر ذی شعور شہری کو اتفاق تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ حفیظ سر کار ڈھا ئی سالہ حکو متی کار کر دگی کا جا ئزہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے اس سفید ہا تھی کو ایک منا فع بخش قومی ادارہ بنانے کے لئے مجوزہ تجا وزات پر خو دبھی عمل پیرا ہے کہ نہیں یا وہ محض سیا سی مفادات کے لئے سفید کاغذ سیاہ کر تے تھے اس کا ذکربھی تمام ہا تھیوں کے تذکرے کے بعد کیا جا ئے گا۔۔۔ دوسرا سفید ہا تھی مسلم لیگ ن کی نظر میں محکمہ زرا عت تھا۔ اُن کے بقول گلگت بلتستان کی ۴۰ ہزار ایکڑ زمین دریاوں کے ساتھ متصل ہو نے کے باوجود خطہ غذا ئی بحران کا شکار ہے۔ سبسڈی پر سا لانہ چار کروڑ روپے کا خرچہ ہے، تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ اگر سبسڈی ختم ہوا تو پاسکو کے کروڑوں روپے قرضے کی صورت گلگت بلتسان پر بو جھ ہو جا ئے گا جس کی ادائیگی مشکل ہو گی، گلگت بلتسان کامو سم اور ما حول زراعت کے لئے آئیڈیل ہے اور ہر قسم کے اجناس یہان وافر مقدار میں پیدا کئے جا سکتے ہیں۔۔چین کیساتھ زرعی اجناس ، پھل اور سبزیوں کی تجارت با آسانی کی جا سکتی ہے۔ گندم کے ہر دانے پر بد عنوان ما فیا بد عنوا نی کر رہا ہے اور یہ مسلہ زرعی شعبے کے لئے تبا ہی کا با عث بنا ہوا ہے۔ محکمہ زراعت کا کسا نوں کیساتھ کو ئی تعلق واسطہ نہیں ہے جبکہ پھل سبزیاں اور دیگر فصلیں بیمار ی کے شکا ر رہتے ہیں لیکن محکمے کا کو ئی کردار نظر نہیں آتا۔ حکومت کی غلط پا لیسیوں کے سبب محکمہ زرا عت بھی تبا ہی کے دہا نے پر کھڑا ہو کر سفید ہا تھی بن چکا ہے اور کرو ڑوں روپے خرچ کر کے ہا تھی کی رمق چلا ئی جا تی ہے۔ زراعت نامی سفید ہا تھی کو حفیظ سر کار اور ان کے رفقاء کتنے کروڑ دے کر کھڑا کئے رکھا ہے یا یہ ادارہ بھی کچھ کما کر دے رہا ہے کہ نہیں اس کا بھی تجزیہ بھی ا گلے اقساط میں کیا جا ئے گا اگر اس کی حالت جوں کا توں ہے تو تیر کے زخمی سفید ہا تھی کو بھو رے شیر کا شکار بنا نے میں کیا حرج ہوگا ۔۔ ( جا ری ہے )

یار زندہ صحبت با قی !

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔