اُستاد جوہر نفیس کی رحلت ۔۔۔۔ ایک سانحہ

اُستاد جوہر نفیس کی رحلت ۔۔۔۔ ایک سانحہ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے مایہ ناز مدرس، اتحاد بین المسلمین کے داعی ،ٹیچر ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے سیکرٹری جزل ،خطہ قراقرم ،ہندوکش اور ہمالیہ کے جوہر ،سرزمین دیامر کے جومر ہردلعزیز شخصیت اُستاد محترم جوہر نفیس گزشتہ ہفتے ہم سے بچھڑ گئے۔ہماری وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جوہر ہم سے جدا ہونگے ۔ لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر زی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے،اور اپنی اپنی باری پر ہر ایک نے اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے ۔

گمان تک نہ ہوا وہ بکھرنے والا ہے

خبر تھی کیا کہ لحد میں اُترنے والا ہے

ہماری بزم میں کل ہی تو تھے یہاں موجود

کسے پتا تھا کہ جوہر بچھڑنے والا ہے۔

گلستانِ علم و ادب کے افق سے ایک اور سورج غروب ہوا ۔یہی نظام قدرت ہے کہ فانی چیزوں کو زوال ہے۔اُستاد محترم جوہر نفیس سفر آخرت پر روانہ ہوئے اور گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکرکو سوگوار چھوڑ گئے۔جوہر نفیس کے وفات پر گلگت بلتستان کی فضا سوگوار رہی اور خطے کی تاریخ میں پہلی بارتمام مسالک نے اپنی اپنی مسجدوں اور عبادت گاہوں میں انکی غائبانہ نماز جنازہ اداکرنے کا اعلان کر دیا اور غائبانہ نماز ادا کر دی گئی ۔بلاشبہ جوہر نفیس ایک نفیس انسان تھے اور اتحاد بین المسلمین کے عملی تصویر تھے۔اُستاد محترم کو گزشتہ ہفتے ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں چلاس کے مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ،اس موقع پر ہر انکھ اشک بار تھی۔مرحوم کی نماز جنازہ میں گلگت بلتستان اور کوہستان کے طول و ارض سے مختلف مسالک اور مکاتب فکرکے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔گلگت بلتستان کے تمام سیاسی،سماجی اور مذہبی شخصیات نے مرحوم کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا اور انکی کمی کو شدت سے محسوس کیا ۔ دیامر کے تینوں تحصلوں کے تمام پرائمری ،مڈل اور ہائی سکولوں کے طلبہ نے تین دن تک مسلسل مرحوم کے ایسال و ثواب کیلئے خصوصی دعائیں کیں اور مرھوم کے یاد میں تعزیاتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا محکمہ ایجوکیشن دیامر نے پہلی مرتبہ جوہر نفیس کے وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا تھا۔مجھ جیسے کم علم قارئین کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس جہاں سے علم و ادب اور اعلی اخلاق کا کوئی افتاب اُٹھ گیا ۔جوہر نفیس ضلع دیامر کی تحصیل چلاس کے نواحی گاوں گوہرآباد میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کیا ،بعد ازاں شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہوگئے،اور گزشتہ ۶ سالوں سے گلگت بلتستان میں اساتذہ کے حقوق کیلئے ٹیچر ایسو سی ایشن کے نام سے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈال کر سرزمین گلگت بلتستان کے تمام اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور اپنے اساتذہ کے جائز حقوق کیلئے جدو جہد جاری رکھا ۔مرحوم 2010سے لیکر 2014تک ٹیچر ایسوسی ایشن دیامر کے صدررہے اور گزشتہ دو سال سے ٹیچر ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے جزل سیکرٹری کے عہدے پر فائض تھے۔مرحوم کی بہترین خدمات پر گزشتہ ماہ ان کو یونیسف کے گلگت بلتستان میں کوآرڈینیٹرمقرر کیا گیا تھا ۔مرحوم نے گلگت بلتستان میں امن و امان کی بحالی میں اہم کرادر ادا کیا ۔2010میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے ، تو ایسے میں جوہر نفیس نے گلگت بلتستان کے تمام نوگو ایریاز میں اپنے اساتذہ کو ساتھ لیکر امن کا درس دیتے رہے اور اپنی بساط کے مطابق خطے میں امن کا پیغام دینے کیلئے دن رات محنت کیا۔وہ ایک اچھے انسان تھے ،ان کی اخلاق سے ہر شخص متاثر تھا ۔میں نے انہیں حد درجہ حلیم طبع ،عاجزو منکسر،ادب و احترام کا پیکراور اعلی و ارفع خوبیوں کا مالک پایا ،وہ انتہاہی نرم مزاج تھے ہر ایک کے ساتھ پیار ،خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے۔وہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے انتہاہی سوچ بچار سے کام لیتے اور محفل کی مناسبت سے گفتگو کرتے ،ان کی گفتگو سے شریک محفل محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ آزاد ماحول میں گفتگو کرتے تھے اور شاگردوں کو ہمیشہ واعظ و نصیحت کیاکرتے تھے۔وہ ایک خدا ترس آدمی تھے۔مرحوم کے دل میں دیامر کے نوجوان نسل کو ترقیافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مرحوم ہر فورم پر دیامر کے نوجوان نسل کی جنگ لڑ رہے تھے۔لیکن دیامر کے عوام کی بدقسمتی کی وجہ سے زندگی نے جوہر نفیس کے ساتھ وفا نہیں کی۔جوہر نفیس کی موت سے دیامر کے تعلیمی شعبے میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے،اور یہاں کی عوام ایک قابل ،مخلص اور عظیم اُستاد سے محروم ہوگئے۔جوہر نفیس مرحوم بہت جلد اپنی خداداد صلاحیتوں اور مخلصانہ جدجہد کی وجہ سے گلگت بلتستان کے اندر ایک درخشندہ ستارے کے مانند جلملانے لگے،ایسے عظیم لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کے وصال سے نہ صرف دیامر بلکہ گلگت بلتستان ایک عظیم، اُستاداور بین المسلمین کے داعی سے محروم ہوگیا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی جوہرمرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ نصیب کرے ، لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہمیں ان کی نقش قدم پر چل کر خلق خدا کی خدمت کرنے کا موقع نصیب کرے۔

تجھے کو کھو کر غمزدہ ہیں سب کے سب اہل چمن۔تو جھلستی دھوپ میں سب کیلئے ٹھنڈی پون۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔