شیر اور سفید ہا تھیا ں۔۔تیسری قسط

شیر اور سفید ہا تھیا ں۔۔تیسری قسط

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے سیاہ و سفید کے ما لک شیر اور حکو متی خزا نے پر بوجھ سفید ہا تھیوں کی کہا نی ابھی جا ری ہی تھی کہ تھا ئی لینڈ کے ایک ہتھنی کے متعلق وائس آف آمر یکہ کے سما جی را بطے کی ویب سا ئٹ’’ فیس بک‘‘ پر ویڈ یو نظر سے گزری۔’’ خام لہا‘‘ نا می ہتھنی اپنے انسان دوست ڈارک تھام سن کو پا نی میں ڈو بتا دیکھ کر بے اختیار بھا گی جا رہی ہے اور اپنے سونڈ کی مدد سے اپنے دوست کو کنا رے کی طرف لے آتی ہے۔ بظا ہر تو ڈارک اپنے اس جانور دوست کا امتحان لے رہا ہے لیکن پیش منظر میں کہا نی دلچسپ ہے۔ ڈارک تھام تھا ئی لینڈ میں ہا تھیوں کے ایک نیشنل پارک جیاگ ما ئی کا شریک با نی ہے جو ہا تھیوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کاکام انجام دیتا ہے اور اُس پارک میں سترکے لگ بھگ ہا تھیاں مو جود ہیں ۔ ایک سال قبل ڈارک نے اس ہتھنی اور اس کی ماں کو کسی سر کس سے بچا کر اس پارک میں لے آئے تھے تب سے ان دونوں کے درمیان سخت دوستی ہو گئی ہے اور خام لہا ڈارک کو بھی اپنے گروہ کا حصہ سمجھتی ہے۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اللہ تعا لیٰ کی اس وسیع دنیا میں ایسے بے شمار جا نور ہیں جو احسان فراموش نہیں کر سکتے اور خام لہا بھی ایسے خاندانی جا نور وں میں شمار ہے۔۔۔ دوسری طرف انسانوں کی بے شمار کہا نیاں ہیں جو احسان کا بدلہ شیطان بن کر دیتے ہیں اور جس پلیٹ میں کھاتے ہیں وہی چھید کر کے چلے جا تے ہیں۔۔پھلتے پھو لتے ، ترقی کے منا زل طے کر تے اور قوم کے لئے با عث صد افخار اور منا فع بخش اداروں کو سفید ہا تھیوں میں بدلنے والے بھی تو انسان ہی تھے۔۔

مسلم لیگ ن کے وائٹ پیپر میں تیسراسفید ہا تھی کا اعزاز محکمہ لا ئیو سٹاک کو ملا تھا ۔ شیر اور ان کے خدمت گاروں کا کہنا تھا کہ قدرت نے گلگت بلتستان کے وادیوں کی گھاس میں کیا تا ثیر رکھی ہے کہ کھا نے والے جا نوروں کے گو شت کا ذائقہ ہی مختلف ہے جو کہیں بھی دستیاب نہیں۔ان حسین وادیوں میں ما ل مو یشیوں کی گلہ با نی کو فروغ دیکھ کر اربوں رو پے سا لا نہ کما یا جا سکتا ہے لیکن حکو مت کی عدم دلچسپی کے با عث یہ شعبہ گلگت بلتستان کی ضروریات کو پورہ کر سکتا ہے اور نہ ہی تجا رتی سطع پر کسی مر بوط نظام تشکیل دے سکا ہے۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کے لو گوں کی اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی کہ ہم اس شعبے سے فا عدہ اُ ٹھا نے کے بجا ئے ملک کے دوسرے حصوں سے نہ صرف گوشت بلکہ دودھ، دہی اور انڈے کی خر یدو فرو خت میں اربوں رو پے صو بے سے با ہر منتقل کر رہے ہیں، گلگت بلتستان میں ڈیپ فر یزر فرو زن چکن سے بھری پڑی ہیں۔ محکمہ لا ئیو سٹاک کو مفید بنا کر نہ صرف مقا می ضروریاتِ گوشت، انڈا اور ڈیری کو پو رہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی فارمز بنا کر ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں اور اُن کے محتاط اندا زے کے مطا بق گوشت اور انڈوں کے لئے سالانہ ایک ارب رو پے گلگت سے با ہر منتقل ہو تا ہے۔ اُنہوں نے لکھا تھا کہ اس شعبے میں سر ما یہ کاری کے لئے نہ صرف چین کو مد عو کیا جا سکتا ہے بلکہ یورپی سر ما یہ کا روں کو بھی متو جہ کیا جا سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے وزیروں اور مشیروں کی نا اہلی اور غفلت کی وجہ سے یہ ادارہ نا کامی سے دوچار ہو کر سفید ہا تھی بن گیا ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شیر اور شیر کے سپا ہی اب اس سفید ہا تھی کو کس طرح ڈو بنے سے بچا کر ہمارے اربوں رو پے ما نسہرہ کے پو لٹری فارمز میں منتقل ہو نے سے بھی بچا پا ئیں گے اور سب سے بڑی بات یہ کہ باہر سے آنے والا گوشت ، انڈے اور ڈیری صحت کے لئے مضر بھی ہیں تو Organic Food ( نا میا تی خو راک )کے انتظام کے لئے شیر کی کیا حکمت عملی ہے اور ہو گی۔۔اگلی قسطوں میں اسکا تذکرہ کیا جا ئے گا۔

گلگت بلتستان کے نظام ٹرا نسپورٹ کو چو تھا سفید ہا تھی قرار دیا گیا تھا اُ ن کا موقف تھا کہ حکو مت لو گوں کی سفری مشکلات کو کم کر نے کے لئے کو ئی سنجیدہ کو شش نہیں کر تی اور موا صلات کا نظام بھی سفید ہا تھی بن چکا ہے۔ اُن کے بقول جی بی میں نقل و حمل کے تین سلسلے ہیں دیہی تا شہری،بین الاضلا عی اور صوبا ئی اندرون ملک عوا می مو اصلا تی جال ۔۔اوالذکر نظام نقل و حمل انفرادی سطع کے ما لکان کے پاس ہے اور بین لاضلاعی اور صو با ئی نیٹکو کے پاس ہے اور چند دیگر غیر سر کاری ادا رے بھی جو اس نظام کے حصہ ہیں۔ نیٹکو صو با ئی حکو مت کا واحد ادارہ ہے جو خسا رے میں نہیں رہتا تھا لیکن بے جا سیا سی مدا خلت کے سبب یہ ادارہ زبوں حا لی کا شکار ہے۔ پسند اور نا پسند رو ٹس کی بنیاد پر اپنی مر ضی اور من ما نی نے نیٹکو کو بہت خراب حالات سے دوچار کی ہے۔ غیر سر کا ری ادارے بھی پبلک ٹرا نسپورٹ پا لیسی نہ ہو نے کے سبب مشکلات سے دو چار ہیں، سواریوں کی سفری سہو لیات کی فرا ہمی نا ممکن بنا دی گئی ہے۔ شاہراہ پر کسی حا دثے کی صورت میں نہ ما لکان اور نہ ہی سواریوں کے نقصان کا آزالہ کیا جا تا ہے اس کے علاوہ اُن کی تحفظ کے لئے کو ئی مو ثر اقدا مات نہیں۔۔ اُنہوں نے سفارش کی تھی کہ سواریوں کے تحفظ، انشو رنس، دیگر سہو لیات کے ساتھ ساتھ غریبوں ، ناداروں اور بیماروں کے لئے رعا یتی ٹکٹ اور دیگر سہو لیات فراہم کر نے کے لئے کو ئی ٹھوس اقدام اُٹھا یا جا ئے۔پبلک ٹرا نسپورٹ اداروں کی حو صلہ افزا ئی کی جا ئے اور ان کی ملا زمین کے لئے جا مع پا لیسی بنا ئی جا ئے۔اندرون گلگت بلتستان کے دور دراز علا قوں میں سفری سہو لیات پہنچا ئی جا ئے۔ شاہرہ قراقرم پر پبلک ٹر انسپورٹ کمپنیوں کو تحفظ اور ان کے ہو نے والے نقصانات کا آزالہ اور معا وضہ دیا جا ئے۔ وائٹ پیپر میں نیٹکو کی کھٹا ری بسوں اور نا قص فری سہو لیات کو نا کا فی قرار دے کر مسا فروں کی پسلیاں ہلا نے اور تو ڑنے کا ذمہ دار مہدی سر کار اور ان کی اُن کی نا قص پا لیسیوں کو قرار دیا گیا تھا۔کا ر کنانِ شیر کے بقول محکمہ صحت گلگت بلتستان صو با ئی حکو مت کی پا نچو یں ہا تھی قرار پا یا تھا۔ کہا گیا تھا کہ مہذب معا شروں میں صحت ایک حساس حکو متی ذمہ دار کے تحت لی جا تی ہے اور سنجیدہ اقدامات اس حوالے سے کر نی ہو تی ہے۔ پی پی پی کی مبہم پکیج سے پہلے یہاں صحت کا نظام ٹھیک تھا لیکن مبہم پکیج اور صو با ئی سیٹ اپ اور پی پی پی کی حکو مت نے دیگر شعبوں کی بر با دی کے بعد محکمہ صحت کا بیڑہ بھی غر ق کر ڈا لی۔ مسلم لیگ کے صدر حا فظ حفیظ الر حمن اور اُن کی ٹیم نے صحت کے شعبے کو صوبوں کے حوا لے کر نے پر چند پر مغز حقائق کو سا منے لا چکے تھے؛

۔ جی بی ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت ایک سیٹ اپ ہے نہ کہ آ ئینی صو بہ ہے

۔ جی بی اٹھا رویں تر میم کے تحت صو بوں کو وزراتوں کی منتقلی میں با لخصوص صحت کے شعبے کی تشریح میں نہیں آتا۔

۔ جی بی کے محکمہ صحت کو دو سرے صوبوں کی وزرات صحت کے بڑے بڑے نیٹ ورکس کے ساتھ مو زانہ کر نا انتہا ئی غیر سنجیدہ اقدام تھا۔ اس اقدام سے خطے کے لوگ وفا قی ہسپتالوں علاج معا لجے کی سہو لت سے محرو م کر دےئے گئے جبکہ جی بی کے رو ایتی نظام صحت میں جدید ہسپتالوں، مشنیری اور بڑے بڑے علاج معا لجہ کا کو ئی تصور مو جود نہیں۔

شیروں نے مہدی سر کا ر کی پا لیسیوں کو عوام دشمن قرار دے کر مطا لبہ کیا تھاکہ فوراً جی بی کے عوام کا ہسپتالوں میں مو جود کو ٹے کو بحال کیا جا ئے۔گلگت میں مو جود ہسپتا لوں میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی اورڈائلا سیس مشین کی سہو لت فرا ہم کی جا ئے اور تجر بہ کار و وما ہر ٹیکنشین تعینات کر کے مقا می سطع پر صحت کے نظام کو بہتر بنا یا جا ئے۔ ان کے علاوہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا تھا کہ جی بی میں پو لیو کے خا تمے کا مہم نا کام قرار دیا گیا تھا اور اس کی وجوہات اور محر کات کو سامنے لا نے کا مطا لبہ کیا گیا تھا۔ اب پا نچویں سفید ہا تھی کی بحالی اور عوام کو میسر سہو لیات کا جا ئزہ اور ذکر دونوں کو اگلی قسطوں کے حوا لے کر کے نو زائیدہ مبہم اور غیر آئینی صو بے کے چھٹے سفید ہا تھی جنگلات کی جا نب بڑ ھتے ہیں۔ جنگلات کو صو بے کے لئے اہم قرار دینے کے ساتھ ساتھ سا بقہ صو با ئی حکو مت کی کاوشوں کو غیر سنجیدہ کہا گیا تھا کیو نکہ جنگلات کی بے دریغ کٹا ئی ، ٹمبر ما فیا کی من ما نی اور خطے میں ایندھن کا کو ئی متبا دل ذرائع پیدا نہ کر نے کو حکو مت کی سستی اور بد عنوانی کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ ضلع دیامر میں قدرت جنگلات کی کٹا ئی پر مہدی سر کار کی خا مو شی اور محکمہ جنگلات کی کا ہلی کا نو ٹس لیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان حکو مت کا آخری سفید ہا تھی معد نیات و صنعت کے شعبے کو کہا گیا تھا کہ معد نیات سے خطے کی تقدیر بدل سکتی تھی مگر مہدی شاہ کو زرداری کے طواف اور ملاقات سے فر صت ہی نہیں ملی اس لئے اس شعبے کو تباہ یا نظر انداز کیا گیا اور معدنیات کا ادارہ خالی کا غذی وجود رکھتا ہے اور خزانے پر بوجھ ہے نہ ماہرین ، نہ مشنیری اور نہ ہی کو ئی پالیسی مو جود ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حفیظ سر کار اور ان کے شیر صو بے کی مبہم سیٹ اپ کو کا میاب بنا کر کس طرح عوامی خدمت کو آ گے بڑھا تے ہیں، اُنہوں نے ان سفید ہا تھیوں کو بچا نے کے لئے ڈارک تھام سن کی طرح دیکھ بھال کے ذمہ دار ی سنبھا لی ہے یا پھر یہ سفید ہا تھیاں ان کو ما لی مشکلات سے نکا لنے کے باعث بنے ہو ئے ہیں ۔ ڈیڑ ھ سا ل کا عرصہ مکمل ہوا کیا اس عرصے میں کہیں ان سفید ہا تھیوں کو فا عدہ مند بنانے یا پھر ان سے نجات کے لئے کو ئی پا لیسی مرتب ہو ئی ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب ڈھو نڈ نے کی کو شش کی

جا ئیگی۔ وائٹ پیپر عوامی مفا د کے لئے تھا تو کیا خود اُن سفارشات پر صو با ئی حکو مت عمل پیرا ہے۔’’ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہو تا ہے ‘‘ کے مصداق جینے میں ہی سیا سی بقا سمجھا گیا ہے۔

یار زندہ صحبت با قی !!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔