موسمیاتی تبدیلی سے چترال سب سے زیادہ متاثر، تیاری اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر یو این ڈی پی

موسمیاتی تبدیلی سے چترال سب سے زیادہ متاثر، تیاری اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر یو این ڈی پی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد) یونائیڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر اگنیشیوارٹزا نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم چترال میں قدرتی آفات سے پہنچنے والی انفراسٹرکچر کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور مقامی لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے ذریعے نقصانات کو کم سے کم کرنے کا خواہش مند ہے جبکہ حکومت کے ساتھ قریبی روابط استوار کرکے اس کام کو انجام دیا جائیگا۔منگل کے روز ضلعی حکومت کے کانفرنس روم میں گذشتہ سالوں میں قدرتی آفات کے حوالے سے ایک بریفنگ میں شرکت کرنے اور سیلاب زدہ علاقوں کی کمیونٹی کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں یہ خطہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور مستقبل میں بھی بھیانک قسم کے خطرات سے دوچار ہے جس کے لئے ابھی سے تیاری کرنے اور کمیونٹی کو موبلائز کرنے کی ضرورت ہے اور یواین ڈی پی اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یواین ڈی پی نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی مالی معاونت سے خیبرپختونخوا کے پانج اور گلگت بلتستان کے ساتھ اضلاع میں گلیشیر کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی کو تیار کرنے کے لئے گلاف پراجیکٹ شروع کررہی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے۔اس سے قبل ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کہا کہ ضلعی حکومت کو مسلئے کی سنگینی کا شدید احساس ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کرتے ہوئے تمام دستیاب ذرائع کا استعمال کیا ہے اور یو این ڈی پی کے کنٹری ہیڈ کو چترال کی دعوت دینا بھی ان کوششوں کا حصہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں کے سیلاب نے چترال میں فزیکل انفراسٹرکچروں کی تباہی مچادی جس کا اندازہ 15ارب روپے سے زیادہ لایا جارہا ہے اور ضلعی حکومت کے سامنے نہ صرف ان سہولیات کی بحالی ہے بلکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل اے سی سید مظہر علی شاہ نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر حامد میر اور عدنان نے گلاف پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بعد ازان گلاف کے خطرات سے دوچار دیہات گوہکیر،گولین اور ریشن کے علاوہ دوسرے دیہات کی کمیونٹی نے گلاف پراجیکٹ کی اہمیت کے حوالے سے یواین ڈی پی کے سربراہ کو آگاہ کیا جن میں امیر اللہ خان،شیر محمد،حمید الرحمن ،ودود اور وزیر زادہ کالاش شامل تھے۔اس سے قبل یواین ڈی پی کے کنٹری ڈائریکٹر نے اسسٹنٹ کنٹری ڈائریکٹر امان اللہ اور اسلام آباد میں ناروے کے سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر ٹام کی معیت میں چترال شہر کے مضافات میں سیلاب زدہ دیہات کا دورہ کیا اور وہاں ہاشو فاؤنڈیشن کے ذریعے یواین ڈی پی کی فنڈ سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے منصوبہ جات کا معائنہ کیا۔بریفنگ میں ایس آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طارق احمد،اے کے آر ایس پی کے منیجرفضل مالک اور مختلف سرکاری محکمہ جات کے افسران موجود تھے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ نے یو این ڈی پی کے کنٹری ڈائریکٹر کو مارخور کا سوونیئر بھی پیش کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔