ایک نظر ان پر بھی

ایک نظر ان پر بھی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :شھزاد علی برچه

گزشته دنوں سماجی رابطه کی ویب سائٹ پر ایک دوست نے یه شکوه کیا که گلگت بلتستان میں پرائیوٹ تعلیمی ادارے عوام کو خوب لوٹ رھے ھیں لیکن حکومت اس پر کوئی توجه نهیں لے رھی.میعاری تعلیم ایک شھری کا بنیادی حق ھے .جس کی ذمه داری حکومت وقت پر بنتی ھے .لیکن افسوس پاکستان بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی سکول اور کالج سطح پر سرکاری اداروں کی کاکردگی سے عوام مطمین نهیں..طبقاتی نظام تعلیم نے نه طرف اب میعاری تعلیم کا حصول ایک عام غریب طالب علم کے لیے نه ممکن بنا دیا ھے.بلکه معاشرے میں تعلیم کو ایک زبردست کاروبار بھی بنادیا ھے.حکمران اس پر توجه کیوں لیں ان کے بچے تو بھت ھی مھنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رھے ھوتے ھیں….انھیں کیا غم که سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار گر رھا ھو یا نجی تعلیی ادروں میں کاروبار عروج پر ھو اور غریب والدین اپنا پیٹ کاٹ کر ان تعلیمی اداروں کا منه بھر رھے ھوں… یھاں ایک اھم بات جو آپ کی توجه میں لانا ضروری سمجھتا ھوں وه یه که گلگت بلتستان میں یونیورسٹی سطح پر میڈکل اور انجینئرنگ کے ادارے موجود نهیں. کوٹه سسٹم پر یهاں کے طلبه ملک کے دیگر اعلی اداروں میں داخله لیتے ھیں.کیا اپ نے کبھی سوچا ھے که کوٹے په جن کو ان سرکاری اداروں میں داخله مل جاتا ھے ان میں سے کسی سرکاری سکول و کالج سے کتنے طلبه و طالبات ھوتے ھیں..ان کی تعداد نه ھونے کے برابر ھوتی ھے .F.Sc تک ملک کے کسی بڑے نجی تعلیمی ادارے یا خود گلگت بلتستان کے ھی نجی کالج کے طلبه ھی بازی لے جاتے ھیں..جس نے 10 سال سرکاری سکول اور 2 سرکاری کالج میں پڑھا وه پھر رھ جاتا ھے.اور اس سے اگے اس کے لیے سرکاری یونیورسٹی کے دروازے بند ھو جاتے ھیں..اور ایک بھاری فیس ادا کر کے پڑھنے والا اس کے آگے آجاتا ھے…کیا یه انصاف ھے…اس کا کیا قصور ھے جو سرکاری تعلیمی ادارے میں انٹر تک پڑھا…. اور اس کے کچھ نمبر کم اس لیے آے که ان اداروں کا معیار ھی کچھ ایسا ھے.. جس نے نجی ادارے میں پڑھا وه آگے بھی بجی ادارے میں پڑھ لے.. اس کا حق کیوں مار رھا ھے …اس حوالے سے ایک کام یه ھو سکتا ھے …که نومنیشن کے دوران سرکاری اداورں کے طلبه و طالبات کے لیے کچھ نمبر اضافی دئیے جائیں.. میں شاھد اپنے اصل مضوع سے کچھ باھر نکل گیا بات ھو رھی تھی نجی تعلیمی اداروں پر.آج کل رواج یه ھے ان اداروں میں عام عوام کو سالانه بورڑ کے نتائج دیکھایا جاتا ھے. اکثر نجی ادارے یوں بھی عام عوام کے سامنے اپنی تشھر کرتے ھیں که بورڑ کے سالانه امتحان میں ان کا نتجه %100 رھا اور اتنے طلبه نے A+ میں نمبرز حاصل کیے.لیکن حقیت میں ھوتا کیا ھے اس سے عوام لا علم ھوتی ھے. سال بھر بھاری فیس طلبه سے لی جاتی ھے .اور جب ان کا داخله امتحان کے لیے بودڑ کے ساتھ منسلک کرنے کا مرحله آتا ھے تو کچھ دن پهلے طلبهء سے ادارے میں پری امتحان لیا جاتا ھے.جن طلبه کے نمبر %60 یا 70% سے زیاده ھوں صرف ان کو ھی اپنی ادارے سے اس بورڑ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ھے.باقی طلبه کے ساتھ ایسا سکوک کیا جاتا ھے جیسے انھوں نے ان کو کبھی پڑھایا ھی نهیں.. پھر آج کل تو یه بھی رواج عام ھے که اگر سال اول میں کسی کے نمبر کم آجاۓ بورڑ میں تو ان کو سال دوئم میں اس ادارے میں رکھا ھی نهیں جاتا.اس طرح طلبه اور ان کے والدین دونوں کے لیے پریشانی ھوتی ھے.افسوس ناک پھلوں یه بھی ھے که اب سماجی خدمت کے نام پر بھی تعلیمی ادارے کھونے والوں نے بھی یه کاروبار شروع کر دیا ھے… اب ضرورت اس امر کی ھے که حکومت سرکاری اداروں کےمعیار تعلیم پر توجه دے اور ساتھ ھی ایک نظر ان نجی تعلیمی اداروں پر بھی ڈالی جاے.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔