تجاوزات کے خلاف کاروائی، یاسین میں دو دکانیں اور ایک باونڈری وال مسمار

تجاوزات کے خلاف کاروائی، یاسین میں دو دکانیں اور ایک باونڈری وال مسمار

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) سب ڈویژنل انتظامیہ گوپس یاسین کا تحصیل یاسین میں تجاویزات کے خلاف کریک ڈاون ۔ اسسٹنٹ کمشنرگوپس یاسین نے رات گئے بھاری پولیس اور لیوی فورس کے ساتھ ایکشن کرتے ہوئے ہائی سکول ہاسین خاص سے ملحقہ گرونڈکے حدود میں تعمیرکردہ 2 دوکانوں کے ساتھ گرونڈکے اردگردتعمیرشدہ بونڈری وال کو بولڈوزرلگاکرمسمار کیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنرغذرکے حکم پر اسسٹنٹ کمشنرگوپس یاسین صفت خان نے ہائی سکول یاسین خاص سے ملحقہ گرونڈکے حدود میں تعمیر2دوکانوں اور گرونڈکے ارد گرد تعمیرشدہ دیوار کو رات گئے بھاری پولیس اور لیوی فور س ساتھ اگر مسمار کیاہے ۔ہائی سکول یاسین کے ساتھ ملحقہ پولوگرونڈپر گزشتہ کئی سالوں سے کوتورئے نامی ایک مقامی فیملی اورمحکمہ ایجوکیشن کے درمیان مذکورزمین پر1989سے کورٹ کیس چل رہا تھا ۔قوم( کوتورئے) سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ایس ایم ضرب علی کے مطابق موجودہ زمین قوم( کوتورے )کے ملکیتی زمین ہے ۔1991میں سول کورٹ گلگت ،1996میں سیشن کورٹ گلگت 2011 میں سیشن کورٹ گلگت سے محکمہ ایجوکیشن اور اکتوبر2016میں سیشن کورٹ غذر نے صوبائی حکومت کے خلاف مذکورہ زمین کی کیس کو قوم کوتورے کے حق میں فیصلہ کیا ہے ۔ محکمہ ایجوکیشن اور صوبائی حکومت عدالت سے ہارنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنرگوپس یاسین نے رات تین بجے چوری چھوپے ہمارئے دوکانوں اور بونڈری وال کو مسمار کیا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ مذرکورہ زمین قوم( کوتورے )کی قبرستان گاہ ہے ۔محکمہ ایجوکیشن نے ہمارئے قبرستان کے جس ایریا میں سکول تعمیر کیا ہے اج تک ہمیں نہ معاوضہ دیا اور نہ ہی نوکریاں دی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ غذر انتظامیہ کے جانب سے اس ظلمانہ اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرینگے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔