جنرل راحیل سے جنرل باجوہ تک 

جنرل راحیل سے جنرل باجوہ تک 

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ دنوں دنیا کی بہترین فوج افواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی کی تقریب دنیا کے عسکری اورسیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی پاک فوج کے مایہ ناز 15 ویں سپہ سالارجنرل راحیل شریف نے پاکستان کے 16ویں سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ کو کمان اور علامتی چھڑی باضابطہ طور پر حوالے کر دی۔ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں گجرات کے قصبے گھکھڑ منڈی کے کرنل (ر) اقبال باجوہ کے ہاں جنم لینے والے اس ہونہار فرزند نے 24 اکتوبر 1980کو 16بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کی اسی رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے جنرل یحیےٰ خان اور جنرل اشفاق پر ویرز کیانی کو بھی افواج پاکستان کی کمان کرنے کا اعزاز حاصل رہاہے ۔جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی سب سے بڑی 10کورکی کمانڈ بھی کر چکے ہیں جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے آپکو کشمیر سمیت گلگت بلتستان کے معاملات کو بھی سنبھالنے کا بہترین تجرہ حاصل ہے جنرل باجوہ بطور میجر جنرل کمانڈر ایف سی این اے کے طور پر بھی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ آپکو اعلیٰ عسکری خدمات پر نشان امتیاز ملٹری بھی عطا کیاگیا ہے اسی طرح پاک فوج کے ممتاز فوجی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے 15 ویں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ملک کے تیسرے سپہ سالار ہیں جو مقررہ مدت پر ہی سبکدوش ہوئے ۔راحیل شریف 16جون 1956 میں کوئٹہ کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے انکے والد کا نام محمد شریف بھٹی تھا جو اسوقت پاک آرمی میں میجر کے عہدے پر فائز تھے۔راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف 1971 کی پاک بھارت جنگ میں جرات و بہادری کے بے مثال مظاہرے کرتے ہوئے شہید ہوکر نشان حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔ راحیل شریف کے ماموں میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیددر1965 کی پاک بھارت جنگ کے ہیرو ہیں ،جنرل راحیل نے 27نومبر 2013کو 15ویں سپہ سالار کی حیثیت سے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں پاک فوج کی کمان سنبھالی اور 20دسمبر 2013 کو نشان امتیاز ملٹری حاصل کیا۔جنرل باجوہ کی طرح جنرل راحیل شریف بھی گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں

کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب کے اختتامی لمحات کے دوران میڈیا کے نمائندوں نے نئے چیف آف آرمی سٹاف کو مبارک باد دیتے ہوئے انکے عزم وارادوں اور ویژن کو جاننے کی کوشش کی جس کے جواب میں جنرل باجوہ نے کہاکہ لائن آف کنٹرول کی صورت حال جلد بہتر ہوگی قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔انہوں نے کہاکہ میڈیا قوم اور افواج پاکستان کے مورال کو بلند کر نے کیلئے اپنا کردار ادا کرے مجھے بڑی ذمہ داری ملی ہے اور قوم کی دعائیں چائیں دنیا کی بہترین فوج کا سپہ سالار بننا میرے لئے اعزاز ہے ملک و قوم کیلئے قربانیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھاجائے گا اس موقع پر انہوں نے ایک شہید کے بچے اور انکی والدہ سے بھی باتیں کیں اور انکا احوال پوچھا

عسکری کمانڈ کی تبدیلی سے متعلق اس اہم تقریب سے الواعی خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہاکہ مجھے دنیاکی بہترین فوج میں خدمات سر انجام دینے کا اعزاز حاصل ہو اایک سپاہی کیلئے ایسی بہادر اور فرض شناس باصلاحیت فوج کے ساتھ وابستگی سے بڑھ کر زندگی میں کوئی سعادت نہیں ہو سکتی ہے یقیناًجنرل راحیل نے اپنے ہر فیصلے میں قومی مفاد کو اولین ترجیحی دی اور مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا اور پوری قوم جنرل راحیل کی پشت پر ہمہ وقت کھڑی رہی اور پاک فوج عوام کے اعتماد پر پورا اتر تی رہی اور افواج پاکستان کی کامیابیوں کے پیچھے رینجرز ،ایف سی ،پولیس اور لیویز کی قربانیوں کا بھی بڑا ہاتھ رہاہے بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیز نے ان کامیابیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ۔جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے بھر پور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ کر تاریخ کے دھارے کو موڑ کر ملک و قوم کو امن کی نئی امید دی۔ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خطے میں سیکیورٹی سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے سیکیورٹی کے حالات کو پیچیدہ قرار دیااور کہاکہ ہمارے ملک کو درپیش چینلجز ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں اس لئے پوری قوم اور اداروں کو یک سوئی کے ساتھ صورت حال کا ادراک کرنا ہوگا جنرل راحیل نے بیرونی خطرات سمیت اندرونی کمزوریوں کا بھی خصوصی طور پر ذکرکرنا مناسب جانااور کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عملدر آمد لازم ہے آپنے یہ بھی کہاکہ ہماری منزل اب دور نہیں خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی انکے مکمل سدباب تک پاک فوج مصروف عمل رہے گی ۔جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشتگردی اور جار حانی اقدامات کی وجہ سے خطے کے امن کو درپیش خطرات سے متعلق خاموش رہنا مناسب نہ جانا اور کہاکہ بھارت ہماری تحمل کی پالیسی کو کسی قسم کی کمزوری سمجھنا خود بھارت کیلئے خطراک ثابت ہوگا ایشیاء میں دیرپاامن وترقی مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں آپنے افغانستان میں پائیدار امن کیلئے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں پر انٹر نیشنل کمیونٹی کی طرف سے سراہے جانے پر انکا شکریہ ادا کیا

جنرل راحیل شریف نے اپنے الواعی خطاب کو ہر حوالے سے بامقصد اور پر اثر بناتے ہوئے سی پیک کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہاکہ CPEC کے دشمن اپنی کوششیں ترک کر کے اس کے ثمرات میں شریک ہوں آپ نے افواج پاکستان کے نئے سپہ سالار کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور مظبوط قوت فیصلہ جیسی صفات کی تعریف کی اورکہاکہ بطور چیف آف آرمی سٹاف انکی تقرری فوج کے ہر جوان اور افیسر کیلئے اس امر کی ضامن ہے کہ وہ اپنی بہترین خوبیوں اور قوت یقین کے بدولت اپنے اوپر کئے گئے اعتماد پر پورا اتریں گے

یقیناًافواج پاکستان کی کمان کی تبدیلی کے بعد سب کی نظریں نئے سپہ سالار کی تر جیحات پرلگی نظر آرہی ہیں جنرل راحیل شریف کی طرح جنرل باجوہ بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پاک فوج سمیت پورے ملک و قوم کی عزت اور وقار میں مزید اضافہ کا سبب بنیں گے اور اور جنرل راحیل کی طرح جنرل باجوہ کو بھی عسکری دنیا میں ایک بہترین سپہ سالار کے طور پر جانا اور مانا جائے گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔