ضلع دیامر میں 32کروڑ روپے کے ٹھیکے من پسندٹھیکیداروں کو نوازنے کا منصوبہ تیارکرلیا گیا ہے، پریس کانفرنس

ضلع دیامر میں 32کروڑ روپے کے ٹھیکے من پسندٹھیکیداروں کو نوازنے کا منصوبہ تیارکرلیا گیا ہے، پریس کانفرنس

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(ارسلان علی)قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان میں اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ اور جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران مولانا سرور شاہ ،حاجی گلبر سابقہ صوبائی وزیر ،میر بہادر جنرل سیکریٹری JUIگلگت بلتستان نے الزام لگایا ہے کہ مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کی ہدایت پردیامر کے تین وزراء نے ضلع دیامر میں 32کروڑ روپے کے ٹھیکے اپنے من پسندٹھکیداروں کو نوازنے کا منصوبہ تیارکرلیا ہے ،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میرٹ کی بات کرتے ہیں اور کرپشن سے پاک معاشرے کی بات کرتے ہیں اگر وزیراعلیٰ شریک جرم نہیں تو کرپشن کے عالمی ریکارڈ جو ہونے جارہاہے شامل آفیسران اور ملازمین کو شامل تفتیش کرکے ان کے خلاف تحققات کئے جائے ۔

انہوں نے جمعہ کے روز گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانہ اور دوسرے ٹھیکیداروں کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے اور پیپرا رولز ،PWDرولز کے تحت ٹھیکہ دئے جائے ۔

اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے اسمبلی اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے ممبران اسمبلی لوفر ہوگئے ہیں ،اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں ہم اسمبلی اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے اس حوالے سے آواز نہیں اٹھا سک رہے ہیں۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان گزشتہ 6مہینوں سے اپنے دفتر میں نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ سے عوامی مسائل التواء کاشکارہیں اور ملاقاتی خوار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کرپشن کے حوالے سے ہم نے کہیں بار چیف انجینئر دیامر سے شکایات کی تو ان کا کہنا تھا کہ سی ایم گلگت بلتستان کے ڈائریکٹیوز پر ان ٹھیکیداروں کو پری کیا جارہاہے ۔

پریس کانفر نس میں جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کوصوبائی حکومت کے مطالبے پر گلگت بلتستان تک لاگو کروایا گیا ہے اور کرپشن کو روکنا ایکشن پلان کے دائرہ کار میں اتا ہے اگراس کرپشن کے خلاف تحقیقات نہیں کرائے گئے تو دیامر میں بڑا تصادم ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ذمہ دار اخبار نے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران سے متعلق جو خبر چھاپی ہے اس کی فوری طور پر حساس اداروں تحقیقات کریں اور اس میں کوئی بھی ممبراسمبلی یا گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہے تو اس کو کسی چوک میں لاکر سرِ بازار سزا دی جائے ۔انہو ں نے کہا کہ اس خبر کے چھپنے سے پوری گلگت بلتستان کی بے عزتی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بجائے حساس ادارے اس الزام کی تحقیقات کرے ،کیونکہ حکومت پرہمیں کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔