دیامر کی خواتین کی تعلیم پر توجہ دے کر ان کو ترقیافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کرنیکی قسم کھاچکی ہوں، ثوبیہ مقدم

دیامر کی خواتین کی تعلیم پر توجہ دے کر ان کو ترقیافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کرنیکی قسم کھاچکی ہوں، ثوبیہ مقدم

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیوروچیف)چلاس گونر فارم میں یوم والدین کی تقریب میں شرکت کے لئے آنے والے سینئر وزیر اکبرتابان اور صوبیہ مقدم کا شاندار استقبال کیا گیا ۔مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور عوام علاقہ نے مہمانوں کو ریلی کے شکل میں تھلچی سے گونرفارم پہنچایا ،اور اکبرتابان زندہ باد ،صوبیہ مقدم زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔گونر فارم میں علاقہ مکینوں،صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم، اور حنیف مقدم نے سینئر وزیر اکبرتابان کو روائتی شال بھی پہنایا ،اور دیامر آمد پر خوش آمدید کیا ۔دوسری طرف صوبائی وزراء اکبرتابان کی گونرفارم آمد پرپولیس کی طرف سے سیکورٹی کے سخت انتظامات بھی کئے گئے تھے۔

 یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر حاجی اکبرتابان نے کہا کہ دیامر کے تمام علاقوں تھک ،گوہرآباد،نیاٹ اور داریل تانگیرمیں خواتین کی تعلیم کیلئے اپنی بساط کے مطابق فنڈزفراہم کروں گا،اور اس شرط کے ساتھ کہ دیامر کے والدین اپنے بچیوں اور بیٹیوں کو سکولوں میں داخل کروائیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں تعلیم نسواں کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،قوموں کی ترقی کیلئے میل اور فیمیل ایجوکیشن بہت ضروری ہے ، اس موقع پر میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنی اے ڈی پی سے ہر سال 50لاکھ روپے دیامر میں بچیوں کی تعلیم کیلئے خرچ کروں گا، اگر دیامر میں بچوں اور بچیوں کی تعلیم کیلئے میری پانچ سال کی پوری اے ڈی پیز دینے کی ضرورت پڑی تو میں دینے کیلئے حاضر ہوں ،مجھے دیامر کے لوگوں سے محبت ہے ،یہاں کے لوگ ٹریڈیشنل ،مہمان نواز،رواداراور وفادارہیں ۔انہوں نے کہا کہ چند عناصر کی مذموم عزائم کی وجہ سے ماضی میں دوریاں پیدا کی گئی ہیں ،اور بلتستان اور دیامر میں کمونیکیشن گیپ کی وجہ کچھ شرپسند لوگوں نے نفرتوں کے بیج بونے کی ناکام کوشیشیں کی ہیں ، اور اپنے مقاصد کیلئے ہمیں آپس میں لڑایا گیا ہے ۔دیامر کے عوام اس کمونیکیشن گیپ کو ختم کرنے کیلئے ایک دوسرے کے پاس آتے جائیں ،یہاں کے لوگ بلتستان جائیں اور بلتستان والے دیامر آئیں گے ،ہم ایک قوم تھے ،ہیں اور آئندہ ایک قوم رہیں گے،نفرتوں کے بیج بونے والے اب ناکام ہو چکے ہیں ،اور محبت نے نفرت کو شکست فاش کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے جب چاہے میرے پاس آسکتے ہیں ،میرے دروازے دیامر کے عوام کیلئے کھلے ہیں ،یہاں کے عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے مجھے صرف ایک فون کال کریں ،میں آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ لوڈ شیڈنگ پورے ملک میں ہے،دیامر میں لوڈشیڈنگ کے بحران پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں گے،ماضی کی حکومت نے بجلی اور دیگر ترقیاتی منصبوں کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دیا،جس کی وجہ سے ،بجلی کا لوڈ شیڈنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018لوڈشیڈنگ فری سال ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ گلگت اور بلتستان میں لوڈشیڈنگ پر کافی حد تک قابو پالیا گیاہے ،انشاء اللہ بہت جلد بجلی بحران کا خاتمہ کریں گے۔

صوبائی وزیر ویمن اینڈ ڈولپمنٹ و امور نوجوانان ثوبیہ جبیں مقدم نے  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر میں خواتین کی تعلیم پر توجہ دے کر ان کو ترقیافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کرنیکی قسم کھائی ہوں ،اپنی اے ڈی پی اور دیگر حکومتی وسائل سے دیامر میں تعلیمی انقلاب لے کر آوں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن دیامر کی تعمیر و ترقی میں سنجیدہ ہیں ،وہ چاہتے ہیں کہ دیامر ترقی کرے،دیامر میں تعلیمی شعبے کیلئے ہر قسم کے وسائل فراہم کرنے کیلئے وزیر اعلی تیار ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ دیامر کے تمام نالہ جات میں ۵ سال کے دوران ہر گاوں میں گرلز سکول قائم کریں گے،اور پہلے سے موجود میل اور فمیل سکولوں کو مزید سہولیات اور وسائل فراہم کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ہماری ٹیم لیڈر ہیں ،بہت جلد گلگت بلتستان کو پیرس بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے تینوں تحصلوںں میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیں گے،تعلیمی اداروں میں کمی سہولیات کو پورا کرنے کیلئے واپڈا کی تعاون بھی لیں گے۔انہوں نے کہا کہ گرلز سکول گونر فارم کو جلد اپ گریڈ کیا جائیگا اور ہائی سکول گونرفارم کو ہائی سیکنڈری کا درجہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت ہر سال 20ماڈل سکولوں کو تعمیر کریگا ،تاکہ نوجوان نسل کی بہترین تعلیمی مواقع میسر یوں ۔گوہر آباد اور گونرفارم میں زیر التوا ہسپتالوں پر جلد کام کا آغاز کرایا جائیگا ۔اس موقع پر صوبائی وزراء اکبرتابان اور ثوبیہ جبیں مقدم نے گونر فارم ہائی سکول میں لائبریری کا بھی افتتاح کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔