مگر تم کیا ہو ؟

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تم سکول میں پڑھے ہو ۔یونیورسٹی پڑھے ہو ۔محفلوں میں وقت گذار چکے ہو۔بڑے بڑے پروگراموں میں شریک رہ چکے ہو ۔۔تعلیم یافتہ لوگوں کی محفلوں میں رہ چکے ہو ۔۔زندگی میں کامیابیاں حاصل کر چکے ہو ۔۔پیسے ہیں۔ گاڑیاں ہیں ۔۔بینک بیلنس ہیں ۔جایدادیں بنا چکے ہو ۔بڑے بڑے لوگوں میں اپنی دولت کی نمایش کر چکے ہو۔ تم چاہتے ہو کہ تمہاری گاڑی دوسروں کی گاڑیوں سے نمایاں ہو ۔۔تمہاری خواہش ہے کہ تمہارا لباس سب سے قیمتی ہو ۔۔تمہاری دولت کے حوالے سے تمہارا تعارف ہو ۔۔اس لئے تم نے اپنی ظاہری شکل و صورت کا بہت خیال رکھا ہے ۔۔۔۔تمہاری محفل سجی ہے ۔۔تم پہنچے ہو۔ تم گاڑی سے اترے ہو ۔۔تمہارے ایک ہاتھ میں دو موبیل سیٹ اور دوسرے ہاتھ میں گولڈ لیف کی پیکٹ ہے ۔۔سر کو جھٹکا دیتے ہو تو تمہارے با ل خود بخود درست ہوتے ہیں ۔۔کوٹ کے کلر درست کرتے ہو ۔زمین پہ ایسے قدم رکھتے ہوجیسے تریچمیر کا پہاڑ زمین پہ گرتا ہو ۔۔بے اغتنائی سے لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہو ۔۔یہ تم وکیل ہو بیٹھے ہو ۔یہ تم ٹھیکیدار ہو بیٹھے ہو ۔یہ تم سابق قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر ہو بیٹھے ہو ۔۔یہ تم پولیس آفیسر ہو بیٹھے ہو ۔یہ تم عام سا بہت دولت مند ہو بیٹھے ہو۔۔ کوئی عہدہ تمہارے پاس نہیں مگر سب عہدے تمہاری مٹھی میں ہیں ۔۔یہ تم ڈاکٹر ہو یہ تم انجینئر ہو ۔۔ایک فقیر ایک کونے میں بیٹھا ہے ۔۔ اس کے جوتے ایک سال کے پرانے ہیں ۔۔۔بس پالش کیا ہے ۔۔لباس پرانے ہیں ۔۔جیب میں پیسے بھی نہیں ہیں ۔۔ سگریٹ ،نسواراور پینے پلانے سے کوئی کام نہیں ۔۔پتہ نہیں کیوں اس فقیر کو تم سب ایک آنکھ نہ بھاتی ہیں ۔۔یہ تمہاری توجہ کا مرکز بھی تو نہیں ۔۔تم قہقہا لگا رہے ہو ۔تم ہنسنے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہو ۔۔ایک دوسرے کے ہاں میں ہاں ملاتے ہو ۔۔دلائل سے اپنی قابلیت جتاتے ہو ۔۔یہ لو تم نے سیاسی بحث شروع کی ہے ۔ فقیرکوہنسی آتی ہے ۔۔تمہیں سیاست کے الف با کا پتہ نہیں ۔۔تو نے تو سیاست پڑھی ہی نہیں ہے ۔۔میکاؤلی ،بسمارک ،ہوٹسن کا کوئی حوالہ نہیں نہ تمنے انہیں پڑھا ہے۔۔ ارے نہ تم نے پاکستان کا آئین پڑھا ہے ۔۔نہ دوسرے ممالک کی طرز حکومتوں سے تو واقف ہے ۔۔نہ تمہیں جمہوری اقدار کی شدبد آتی ہے ۔۔۔۔اب تم نے مذہب چھیڑا ہے ۔تمہیں قرآن و سنت کا علم نہیں ۔۔تم نے اسلامی تاریخ نہیں پڑھی ۔۔تم نے سائنس کو موضوع بحث لیا ہے ۔تم فزکس ،بیالوجی، کمسٹری اور ریاضی کے طالب نہیں رہ چکے ہو۔۔نہ تمہیں کانسپٹس کا پتہ ہے نہ تھیوریز سے واقف ہو ۔۔۔تم نے پولیسنگ پر بحث شروع کی ہے ۔تمہیں دفعات،دفعات کے گراونڈ،ایف ائی آر ،رپورٹ،گشت ،روزنامچہ،پراگرس رپورٹ پر سیر حاصل بحث کی صلاحیت نہیں ۔۔تم نے ادب کو چھیڑا ہے ۔مگر اقبال کا شعر غلط پڑھا ہے ۔۔تمہارے الفاظ سے ادب کی خوشبو نہیں آتی ۔۔تمہارے حوالاجات سب غلط ہیں ۔۔انگریزی ٹو ٹی پوٹی ہے اردو کا جنازہ نکل رہا ہے ۔۔پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس تمہارا سامع تم پہ ہنس رہا ہے ۔۔افسردہ ہوتا ہے کہ کیا علم ،ذہانت ، صلاحیت اور عقل دنیا سے اٹھائی گئی ہے ۔۔اگر یہ قوم کے ناخدا ہوں تو کیا ہوگا ۔۔یہ ہر دفتر میں ہونگے ۔۔پارلمنٹ میں ہونگے ۔۔یہ اپنی یہ صلاحیتیں لے کے کسی فنگشن میں ہونگے ۔۔قوم سے خطاب کرینگے ۔۔۔۔سقراط کے پاس ایک آدمی آیا لباس پوشاک اور ٹھاٹ باٹ سے بڑا امیر اور مغرور لگ رہا تھا ۔۔آدمی نے سقراط سے پوچھا کیا تم مجھے جانتے ہو ۔۔سقراط نے کہا ۔۔کہ بیٹھ کے دو باتیں کرو تمہیں جان بھی جاؤں گا پہچان بھی جاؤنگا ۔کہ تم کون ہو ۔۔۔آج کل دولت کو سب کچھ سمجھا جارہا ہے ۔۔دولت معیار ہے ۔ذھانت ،علم ،صلاحیت عقل سب کو دولت کے ترازو میں تولا جاتا ہے ۔۔قیمتی پوشاک معیار ہے ۔گاڑی معیار ہے ۔۔بینک بیلنس معیار ہے ۔۔مایوسی ہوتی ہے ۔۔جب استاد نالائق ہو ۔۔پولیس نالائق ہو ۔۔انتظامیہ کے بڑے آفیسر کی باتیں بے تکی ہوں ۔۔سیاستدان بے بہرہ ہوں ۔تو لازما المیہ ہے ۔۔قرآن عظیم الشان نے کہا کہ کیا تم میں سے ایک بھی اہل دانش نہیں ۔۔سوچنے کی بات ہے کہ یہ اہلیت کہاں چلی جاتی ہے ۔۔یہ تھنک ٹینک ٹوٹا ہوا کیوں ہے ۔۔کسی قومی مسئلے پر یہ ناخدا آپس میں مل بیٹھنے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتے ۔۔ان کی سوچیں اکھٹی کیوں نہیں ہوتیں ۔۔کسی اشو کے لئے پلینگ کیوں نہیں ہوتی ۔۔ایک کام دسیوں بار کیا جاتا ہے ۔۔ایک دفعہ منصوبہ بندی کے ساتھ ۲۰۰ سال کے لئے سوچ کرکیوں نہیں کیا جاتا ۔۔ایک روڈ بار بار بنایا جاتا ہے یہ ایک دفعہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیوں نہیں بنایا جاتا ۔۔قوم جتنی سادہ اور جفا کش ہوگی ۔۔اتنا اس میں حلم ،تعمیری سوچ ،خاکساری ،ملنساری ،تدبر ،اور سنجیدگی آجائے گی ۔۔ہماری دولت ہمیں معیار سے گراتی ہے ۔۔ جس قوم میں دولت بڑھتی جائے اور جفاکشی اور صلاحیتیں مرتی جائیں تو وہ قوم بڑا نقصان اٹھاتی ہے مٹ جاتی ہے ۔۔ ۔۔معرب جتنی دولت مند ہوتاجارہا ہے اتنا جفا کش ہوتا جا رہا ہے ۔۔فاروق اعظمؓ نے اس لئے تاج کسریٰ پر پاؤں رکھے اور فرمایا کہ آج کے بعد امت کا زوال شروع ہو جائے گا کیونکہ دولت کی ریل پیل ہوگی جفا کشی چھوٹ جائے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author