بنجر اراضی اور چراگاہوں کی ملکیت سے بے دخل کرنے کی سازش ہو رہی ہے، متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کا احتجاجی مظاہرہ

بنجر اراضی اور چراگاہوں کی ملکیت سے بے دخل کرنے کی سازش ہو رہی ہے، متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کا احتجاجی مظاہرہ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)بنجر اراضی اور چراگاہوں کی ملکیت سے بے دخل کرنے کی سازش کے خلاف حقیقی متاثرین ڈیم اور قدیمی باشندگان ڈیم نے چلاس ائر پورٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا،صوبائی حکومت اور واپڈا پر ملکی سالمیت اور استحکام کا ضامن میگا پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کا الزام بھی عائد کر دیا۔

نماز جمعہ کے بعد حقیقی متاثرین ڈیم کمیٹی اور سپریم کونسل کی کال پر ہزاروں متاثرین ڈیم احتجاج میں شریک ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راہنماؤں مولانا عثمان ،مفتی امیر حمزہ حاجی عبدالرحمان،حاجی اکبر و دیگر نے کہا کہ 2009سے تاحال حکومت جان بوجھ کر صرف ایک قبیلے کو نوازنے میں مصروف ہے جبکہ 75فیصد حقیقی متاثرین ڈیم جو کہ دیامر بھاشہ ڈیم سے مکمل طور پر بے گھر اور متاثر ہورہے ہیں۔ان کو دیوار سے لگا نے کی در پردہ سازشیں ہو رہی ہیں۔جو ہمیں بالکل قبول ہی نہیں ہے۔علاقے میں موجود سات داسز پر مشتمل اراضی حقیقی متاثرین کی زیر استعمال رہی ہے۔جبکہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور انتظامیہ ایک بار پھر تمام زمینی و قانونی اور آئینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے ایک جزوی متاثرہ قبیلے کو نوازنے میں مصروف ہے۔جو کہ قابل مذمت اور قانون و انصاف کے یکسر منافی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی متاثرین 2009سے اب تک داسز، بنجر اراضی اور چراگاہوں کے حوالے سے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔اور تحریری طور پر بھی ارباب اختیار کو آگاہ کرتے چلے آرہے ہیں۔لیکن مبینہ رشوت اور سازش کے ذریعے مارچ 2010کی وزارتی کمیٹی کے ڈرافٹ پر مقامی سطح پر بالکل یک طرفہ طور پر عملدرآمد کر کے دیامر ڈیم کے سب سے بڑے سٹک ہولڈر باشندگان چلاس کو نظر انداز کر دیا گیا۔جس پر حقیقی متاثرین آج تک سراپا احتجاج ہیں۔اس سے واضح ہو رہا ہے کہ واپڈا اور حکومت ڈیم کے خلاف ہی سازشوں میں مصروف اور میگا پراجیکٹ سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کی تائید و حمایت سے قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ٹاؤن ایریا چلاس میں موجود سات داسز بنجر اراضی اور چراگاہوں کا کمپنسیشن ایوارڈ حقیقی متاثرین اور قدیمی باشندگان کے نام بنایا جائے۔اگر ایوارڈ کسی مخصوص قبیلے کے نام بنایا گیا اور حقیقی متاثرین ڈیم کو نظر انداز کیا گیا تو راست اقدام پر مجبور ہونگے۔جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور واپڈا پر عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔