نبی اکرمﷺ بحیثیت معلم و مربی

نبی اکرمﷺ بحیثیت معلم و مربی

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بقلم: محمد اعجا ز مصطفوی

آج ہم اس ہستی معزز و مکرم بحیثیت معلم و مربی بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اللہ کے رسول، پیارے، دوست، برگزیدہ، افضل مخلوق، پسندیدہ، مرسل اور مرسلیں کے سردار، پرہیزگاروں کے امام، خاتم الانبیا، گنہگاروں کے سفارشی، تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر ہمارے دل و نگاہ کی تسکیں کے لیے اس عالم ناسود میں تشریف لے آئے۔

اس بابرکت ذاب پاک کا جتنا بھی شکر ادا کرو کم ہے کیونکہ اس نے ہمارے لئے اپنے اس ہستی اعلیٰ کو ہمارے لئے معلم مربی بنا کر بھیجا جس کے لئے زمیں و آسمان بنائے گئے۔جس کے سامنے نباتات، جمادات اور حیوانات سجدہ ریز ہے۔ وہ ہستی مکرم بادشوں کا بادشاہ، غریبوں کا ہمنوا، مسکینوں کے لئے ساتھی ، اپنوں کے لئے نعمت، غیروں کے لئے رحمت، نور سے زیادہ روشن، علم سے زیادہ عالم، فن سے زیادہ ماہر، بچوں کے لئے شفقت، بڑوھوں کے لئے مہربانی، جوانوں کے لئے ہمسفر ساتھی، انسانوں کے لئے انسانیت کا مجسمہ، اخلاق میں خلق عظیم، سید کون و مکان حضرت محمد مصطفیٰﷺ ہے۔

آپ ﷺ کی ذات معلم اعظم ہے اور اسی پر آپ فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں    انما انا بعثت معلما   یعنی مجھے معلم اعظم بنا کر بھیجا ہے۔

تاریخ آپ ﷺ کی معلمانہ طرز، انداز فکر و نظر  پر آج بھی حیران ہے کیوںکہ آپ ﷺ ایک ایسا معلم اعظم تھا جس نے نہ صر ف انسانیت کو انسانیت کی تعلیم دی بلکہ ہر زی روح کو علم و حکمت کی تعلیم سے روشناس کرایا یہانتکہ فرشتہ بھی آپﷺ کے سامنے طالب علم بن کر اتے۔

آپﷺ کی ہی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے کہ آپ ﷺ کے شاگردوں پر طرح طرح کی ازیتیں دے لیکن انھوں نے کبھی باطل کے اگے سرنگوں نہیں ہوئے۔ یہ آپ کی ہی تربیت کا نتیجہ تھا کہ حضرت علیؑ  منبر سے اعلان کررہے ہیں میرے مرنے سے پہلے جو پوچھنا ہے پوچھولو۔

آپﷺ ہی وہ واحد ہستی معلم و مربی ہے جس نے قیامت تک کے علوم کو ہمارے لئے تشریح کے ساتھ بیان کئے۔ ماضی و مستقبل کو حال کی طرح پیش کئے۔ آپ ﷺ علم کا شہر ہونے کے ناطے سارے علوم آپﷺ کے فیض سے ہی پوری دنیا کو ملی۔

آپ ﷺ کی شان ہی کچھ اور ہی شان ہے۔ آپ ﷺ کا جاننا بھی علم اور نہ جاننا بھی علم کا حصہ ہے۔یعنی علم بھی علم اور لا علم بھی علم ہی کہلاتا ہے۔اظہار بھی علم اور اخفا بھی علم، ارشاد بھی علم اور خاموشی بھی علم، ہاں بھی علم اور نہ بھی علم۔ الغرض آپﷺ کی ذات علم ہی علم ہے۔آپ ﷺ کی ذات علم کا سمند ر ہے بلکہ اس سے بڑاجسے میں بیان نہیں کرسکتا ۔

اسی لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

         دنیا میں احترام کے لائق ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰ ﷺ کے بعد

اخلاق میں آپ ﷺ کی ذات مکارم الاخلاق، علم میں مدینہ العلم، کردار میں بعد از خدا تو ہی قصہ مختصر، بادشاہی میں عظیم ترین بادشاہ جس کی مثال آج بھی دنیا میں کوئی دینے سے قاصر ہے۔تربیت کرنے سے آپﷺ کے شاگردکالنجوم بنے۔ علم دینے سے باب العلم بنے۔ صداقت، شجاعت، استقامت میں آپ ﷺ کی ذات انتہا ہے۔

سیاست ، معاشرت،معاملات میں دنیا آج بھی آپ کے در پر گدھے ہیں۔حکمت عظمت، رحمت میں آپ ﷺ کی ذات مثالی ہے۔

الغرض زندگی اور بعد از زندگی میں آپﷺ کی سیرت ہی اسوہ حسنہ ہے جس کی قرآن پاک میں بھی ضمانت دی ہے۔

سیرت محمدیﷺ میں زندگی گزار کر دنیا و آخرت کی کامیابی یقینی ہے۔ آپﷺکی ذات کامیابی کی کنجی ہے۔ آپ ﷺ کا تعلق ہی دنیا و آخرت کے لیے کافی ہے۔

آپﷺ سب کچھ جانتے تھے۔ کہیں آپ ﷺ نے جاننے کا اظہار کیا اور کہیں نہ جاننے کا اظہار کیا تب بھی جان کر اظہار فرمایا  اور منع کیا تو بھی جان کر کیا۔

سارے علوم کے جڑ آپﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔آپ ﷺ زیادہ تر اس لیے بھی پریشان رہتے تھے کہ کب میر ا علم دوسرں کو دے سکوں۔ آپﷺ نے کونسی علم کی تشریح نہیں فرمائی۔ ہرقسم کے علوم کی واضح انداز میں تشریح فرمایا۔علم کی ابتدا بھی آپ ﷺ ہے اور انتہا بھی۔

جس وقت آدم ؑ مٹی میں تھے اس سے سیکٹروں سال پہلے آپ ﷺکو علم نبوت عطا ہوئی تھی۔

خدا نے اگر کسی مخلوق کو خلق کیا ہے تو اسکی ابتدا مصطفی ٰ ﷺ ہی ہے۔ آپﷺ کے اسمائے گرامی سے عرش معٰلی کو قرار آئی۔آپﷺکوجنت ، جہنم، زمیں ، آسمان، عرش وفرش، یہاں تک کہ زرہ زرہ کا علم تھا۔قاب قوسین او ادنیٰ کے مقام پر علم کی ہی بات ہوئی ہے۔علم اور علم، جاننا ہی جاننا۔کسی کی یہ ہمت نہیں کہ آپ کے علم کو چیلیج کرے۔ آپﷺ کا علم تکمیل علم ہے ، آپﷺ کا ارشاد تکمیل ارشاد ہے ۔آپﷺ کا ادب تکمیل ادب ہے۔

کھانے سے لیکر عمل اخراج تک ، صبح سے لیکر شام تک، زندگی سے لیکر موت تک، بچپن سے لیکر بڑھاپے تک، ہر حالت آپﷺ نے بڑے واضح انداز میں پیش کیا۔پھربھی اگر کسی سمجھ نہ آئے تو یہ اسکی کم عقلی اور کم فہمی ہے اور کسی کی نہیں۔

جو لوگ علم مصطفیٰ ﷺ کو کمزور کرنے یا ناقص کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں انہیں چاہیں کہ اپنے علم پر نظر ثانی کرئے۔ اگر علم کے شہر میں علم نہیں تو تمھارے اور مجھ میں کیا ہے اور میری اور تمھاری علوم  کی حثییت اور اعتبار کیا؟ اگر کہیں مصطفیٰﷺ نے نہ جاننے کا اظہارکیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ وہ نہیں جانتا تھا بلکہ یہ ہے کہ وہ جان کرنہ جاننے کا اظہار فرمارہے ہیں تم نہیں سمجھ نہیں سکتے۔مصطفیٰ ﷺ کا ہرقول قول الہیٰ سمجھو ورنہ محشر میں خیر نہیں۔ وہﷺ ازن خدا کے بغیر کلام ہی نہیں کرتے ۔ آپ ﷺ کا ہر اظہار بھی علم ہے اور مخفی بھی علم ہے۔

پہلی وحی کے وقت آپ ﷺ نے نہ جاننے کا اظہار جان کر فرمایا تھا۔کیونکہ یہی حکم خدا تھا۔خدا نے جبرائیل ؑ سے تین بار پڑھانے کا حکم کیا اور ادھر مصطفیٰﷺ سے نہ جاننے کے اظہار کرنے کا حکم فرما رہے تھے ۔ آپﷺ نے حکم الہیٰ کے عین مطابق نہ جاننے کا اظہار فرمایا۔کیونکہ اس کے اند ر ایک خاص حکمت چھپی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانتے تھے تو آپ ﷺ غارحرا میں کوشہ نشیں ہوئے۔ جانتے تھے تو قبل از حکم آپﷺ نماز آدا فرماتے تھے۔جانتے تھے تو قبل از نبوت صادق و امیں رہے ۔نبوت سے پہلے سچ بولنا، امانتدار ہونا، بااخلاق ہونا اور باتمیز ہو یہ سب جاننے کا ہی مظہر ہے۔ مقام قاب قوسین او ادنی پر پہنچنا جہاں پر جبر یئلؑ بھی نہ جاسکے آپ ﷺ کے جاننے کا کھلا ثبوت ہے۔ورنہ یہ سب کس نے آپ ﷺ کو سکھایا۔ آپﷺ کا علم ابتدا      آدم سے پہلے سےہے۔

آپﷺ کا مقام اس وقت سے بلند فرمارہے ہیں۔ آپﷺ کا مقام خود رب تعالیٰ نے بیان فرمایا جس میں ہر وقت ترقی ہی ترقی ہے۔مصطفی ٰ ﷺ کے پاس ابتدا کائنات سے لیکر انتہائے کائنات تک کے سارے علوم ہیں۔ آپﷺ نے قیامت تک جو جو ہونے والا ہے سب کچھ بیان فرمایا ہے۔سائنس جو آج جان رہے ہیں وہ بھی آپ مصطفیٰﷺ جانتے تھے اور جو نہیں جانتے وہ بھی آپﷺ جانتے ہیں۔

کتابوں میں علوم کا نہ ملنا معلم کی غلطی نہیں معلم اعظم ﷺ نے سب کچھ کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔آپﷺ نے زندگی بھر کسی سوال کے جواب میں نہ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ ہرسوالی کو تسلی بخش جواب دیتے۔ سوال نہ کرنا معلم کا کام نہیں۔ اور جن موضوع پر معلم نے بیان نہ کیے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ معلم نہیں جانتے تھے بلکہ یہ کہ کوئی سوالی سوال ہی نہ کرے تو کس کو جواب دوں اور کس کو کیا سناوں۔

آج بھی اگر کسی چیز کے بارے میں علم چاہے تو در مصطفیٰﷺ سے مانگو لیکن التجا بھی کرنے کے لیے بھی توفیق اور ہمت چاہے۔ یہی  چیزیں اگر نہ ملے تو کیا شکوٰہ کرے ،سوائے اپنی بدقسمت پر رونے کے۔

مصطفی ٰﷺ کل بھی سب کچھ جانتے تھے اور آج بھی جانتے ہیں۔ ہمیں نظر نہ آنا ہماری اپنی نظر کی کمزوری ہے نہ کہ معلم اعظم ﷺ کی۔

آخر میں اللہ ہم سب کو علم مصطفیٰ سمجھنے ، سمجھانے اور صیح معنوں میں پھیلانے کی توفیق کے ساتھ ساتھ ہمت بھی عطا فرمائیں۔ (امین)۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔