حفیظ شاکر صاحب کی ’’زندگی‘‘ اور ادبی رویے 

حفیظ شاکر صاحب کی ’’زندگی‘‘ اور ادبی رویے 

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حفیظ شاکرصاحب عہدِ حاضر کے ان شاعروں میں سے ہیں ،جن کے لفظ وقعت رکھتے ہیں ۔جن کی فکر توانا ہوتی ہے۔اور جن کا فن قابل تحسین ہوتا ہے۔حلقہ اربابِ ذوق کے ایک سینئراور منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ان کا اولین مجموعہ کلام ’’میں نہیں ہوں ‘‘ علمی اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا تھا۔اب ایک طویل عرصے کے بعد’’ زندگی ‘‘ کے عنوان سے دوسری کتاب منظر عام پہ آئی ہے۔جس میں زندگی اور اس کے رویوں کو ایک فنکارانہ دردمندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔کسی ایک کتاب میں زندگی کے اتنے چہرے شاید پہلی دفعہ یوں دکھائے گئے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں ان کی کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی تھی۔گلگت کی علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی تھی۔ایک طویل عرصے کے بعد گلگت میں اس طرح کی محفل سجی تھی۔د ل دادگانِ ادب کی جیسے عید ہوئی تھی۔ تقریب میں اس خاکسار کو بھی مقالہ پڑھنے کی دعوت دی گئی تھی۔شاکر صاحب کے فن اور ان کی شخصیت پر ان کی کتاب ’’زندگی‘‘ کے ابتدائی صفحات پر ’’ زندگی نامہ ‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور مقدمہ پہلے ہی لکھا تھا۔اس موقع پر مزید ان پہ لکھنا ایک طرح سے تکرار ہوتی ۔اس لیے روایت شکنی کرتے ہوئے ،ان کی کتاب اور اس تقریب کے تناظر میں گلگت کے ادبی رویوں پر بات کی تھی۔اب کچھ احباب کے مشورے پر قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے شائع کروا رہا ہوں۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

’’گلگت کی ادبی فضا بڑی ہی بو جھل اور غبار آلود ہے۔اس پر بے دلی ،بے ذوقی اور بے یقینی کی دُھول اڑ رہی ہے۔حلقہ اربابِ ذوق ایک معتبر ادبی فورم ہے۔تین دہائیوں سے یہ ادبی حلقہ ،چراغِ ادب جلانے کی مشقت اٹھا رہا ہے۔ اس میں تیل کی کمی ہے یا پھر نا جانے اندھیرے اس قدر گہرے ہیں کہ اس کی روشنی بس چراغ کے آس پاس ہی پھیلی ہوئی ہے۔حلقے کی ادبی فعالیت اب وہ نہیں رہی جو کبھی اس کا خاصا تھی۔بس کبھی کبھار اس کا رنگ ڈھنگ نظر آتا ہے۔مہینے میں ایک آدھ دفعہ طرحی و غیر طرحی مشاعرہ ہوتا ہے۔گلگت کے چند گِنے چُنے شاعر اکٹھے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کو اپنا کلام سناتے ہیں۔بے دلی سے داد دیتے ہیں ۔چائے اور سگریٹ کے دھوئیں میں کچھ نرم گرم گفتگوہوتی ہے۔ایک ذرا ہنسی مذاق کرتے ہیں۔پھر اگلے مہینے کے لیے کوئی شعر بطورِ طرح دے کر محفل برخاست کرتے ہیں۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ شعرااور مخصوص چہروں کے علاوہ کسی اور نے شرکت کی ہو ۔کئی سالوں کے بعد کسی کتاب کی اشاعت ہوتی ہے۔پھر حلقے کی وساطت سے اس کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوتی ہے تب ایک ذراہلچل سی ہوتی ہے۔یوں چند دن اس کا چرچا رہتا ہے۔

یہ بھی غنیمت ہے۔کم از کم اس بہانے کسی ادبی و علمی محفل کے کارڑز تو چھپتے ہیں۔چند لوگوں میں کسی کتاب کے حوالے سے ،چائے کی بھاپ اڑاتی پیالیوں کے درمیان گفتگو تو ہوتی ہے ۔ورنہ ادبی بے ذوقی یہاں اس بلا کی ہے کہ بہ قولِ شاعر

وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

یہ شاعر او رادیب بھی بڑے بیچارے ہوتے ہیں۔ان کا دامنِ خیال رنگ رنگ کے پھولوں سے بھرا رہتا ہے۔دل کی زمین پہ جذبوں کی دھوپ پھیلی رہتی ہے۔مگر جسمانی طور پر جس معاشرے میں سانس لیتے ہیں اس کے مسائل اور مصائب اس قیامت کے ہیں کہ وہ اس سماج کا ایک مسائل گزیدہ فرد بن کر کرہ جاتے ہیں۔یہ محض قلم چلاتے رہیں گے تو گھر کا چولہا بھی نہیں جلے گا۔وہ زمانے گزر گئے جب شاعروں اور ادیبوں کی سرکاری سرپرستی کی جاتی تھی۔ راجوں ،مہاراجوں اور بادشاہوں کے دربار ،ان کی قدردانی کرتے تھے۔انہیں فکرِ معاش سے نجات دلاتے تھے۔

پھر وقت بدل گیا۔نواب ،راجے اور بادشاہ وقت کی دُھول میں کہیں کھو گئے۔شعر و ادب کا ذائقہ بھی بدل گیا۔پہلے قصیدہ گوئی ہوتی تھی اب حقائق گوئی کا تڑکا لگ گیا۔روحِ عصر کی ترجمانی کا غَلغلہ مچ گیا۔پھر ہر دور کے حکمران اس کا نشانہ بن گئے۔شاعر اور ادیب کلمۂ حق بلند کرنے کے زعم میں حکمرانوں سے نبرد آزما ہوئے۔یوں مزاجِ شاہاں کے لیے شاعر اور ادیب ناپسندیدہ طبقہ قرار پائے۔

اس سے ادب کا دامن تو نئے نئے رجحانات سے بھر گیا۔مگر شاہی درباروں کی نوازشیں ،قدردانیاں اور انعامات گئے موسموں کے خوا ب بن گئے۔اب شاعر اور ادیب ،فکرِ معاش اور فکرِ سخن دونوں کشتیوں پہ سوار ہوئے اور اکثر توازن برقرار نہ رکھ سکے۔کسی کی معاش کی اور کسی کی سخن کی کشتی ڈوب گئی۔بہت کم اہلِ قلم معاش کے چکروں سے بے فکر ہوکر یک سوئی سے ادب تخلیق کر سکے۔

اب تو جدید میڈیا کی شکل میں ایک اور آفت آئی ہے۔اس کی چمک دمک اور برق رفتاری سے خالص ادب کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں۔ویسے ادب کبھی مرتا نہیں۔بس وقت کے تیز رویوں میں اس کی قدر میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔اب بھی ایسی صورت حال ہے ۔سرکاری حلقے تو کب کے اس کی سرپرستی اور پزیرائی سے کنارا کش ہوگئے تھے۔اب تو عوامی حلقے بھی منہ پھیر گئے ہیں۔

ایسے نامہرباں دور میں جب سماج کا کوئی فرد ،کوئی ادارہ ادب نوازی اور قدر افزائی کا مظاہرہ کرتا ہے،یا پھر کسی کتاب سے متعلق تقریب کا انعقادہوتا ہے تو یقین نہیں آتا۔۔۔۔

ان سب جکڑ بندیوں سے بچ بچا کر ،یہ شاعر اور ادیب جب قلم پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں تو جو ادب تخلیق ہوتا ہے اس کا حال بھی زندگی جیسا ہوتا ہے۔بے ترتیب،بے جان ،باہر سے تڑکا دار ،اندر سے پھیکا پھکا……

حلقہ ارباب ذوق کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔اس سے وابستہ اہلِ قلم بھی غمِ روزگار کے ستائے ہوئے ہیں۔ان میں اکثر ملازم پیشہ ہیں۔جن کے پیشہ ورانہ تقاضے ہمیشہ جنونِ شوق کے آڑے آتے ہیں۔کبھی فرائضِ منصبی کی عدیم الفرصتی اور کبھی سرکاری مجبوریاں اور مصلحتیں۔۔۔۔یوں تخلیقی رویے ،بے شمار زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں۔

یہ وقت کا المیہ ہے کہ شعر و ادب کو بالکل بے فائدہ مشغلہ سمجھا جاتا ہے۔واقعی شاعر اور ادیب اور کچھ نا کریں محض شعر و ادب تخلیق کریں تو فاقوں سے مر جائیں ۔

کچھ جنونِ شوق کے مارے قلمکار، تھوڑانام اور دام کمانے کی غرض سے کتاب چھپواتے ہیں(مجھ سمیت) تو پبلشر کے دست برد سے بہت کچھ لٹا کر آتے ہیں تو قارئین کی بے ذوقی رہی سہی کسر نکا ل دیتی ہے۔یہ ستم ظریفی ہے کہ اکثر اچھے خاصے صاحبِ حیثیت لوگ بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ مصنف اپنی کتاب انہیں اعزازی طور پر عطا کرے گا ۔ان نادان دوستوں کو کیا پتا،ایک مصنف کو اپنی کتاب کی اشاعت کے دوران کتنے صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے اور قارئین اسے خرید کر پڑھتے ہیں تو کیسی روحانی مسرت نصیب ہوتی ہے۔یہاں بات پیسوں کی نہیں بلکہ اس قدر افزائی کی خوشی ہوتی ہے کہ اس کی کتاب اس قابل ہے ،لوگ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔ورنہ گالیاں لکھ کر بھی مفت تقسیم کرنے سے کتاب ختم ہوجائے گی۔خریدی جانے والی کتاب مصنف کے لیے ایک اعزاز کی طرح ہوتی ہے۔اس لیے کتاب خرید کر پڑھنے کا کلچر عام ہونا چاہیے۔اس سلسلے میں سرکاری سطح پر بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ قابلِ قدر اور معیاری کتب لکھنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں ۔ایسی کتب یہاں کے سکولوں ، کالجوں اور دیگر اداروں کی لائبریریوں کے لیے خریدی جائیں تو مصنف کو بھی مالی فائدہ ہوگا اور کتاب بھی قارئین کے ایک وسیع پڑھے لکھے حلقے تک پہنچ جائے گی۔

حلقہ ارباب ذوق کے سینئر شعرا امین ضیا صاحب،عبدالخالق تاج صاحب ۔جمشید دکھی صاحب اور خوشی محمد طارق صاحب اب تو چراغِ سحری ہیں ۔خاکم بدہن!اس کا وہ مطلب نہ لیا جائے جو فوراََ ذہن میں آرہا ہے ۔بلکہ ان کا شعری قد کا ٹھ صبح دم کے اس چراغ کی طرح ہے جو روشنی نہیں دیتا بس جلتے رہنے کا حق ادا کرتا ہے ۔ا سکا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان کی تخلیقی صفت میں کمی آئی ہے ۔ہاں مگر المیہ یہ ہے ان کی ادبی حیثیت سے مستفید ہونے والے کم ہیں۔طارق صاحب اور ضیا صاحب کے علاوہ باقی دونوں اکابر شعرا ابھی پیغمبرِ بے کتاب ہیں۔ان کاادبی اثاثہ معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے قابلِ قدر ہے ۔محض اس وجہ سے کہ ادبی ماحول اور شعری رویوں کا فقدان ہے ،ان کا قیمتی کلام ان کی طرح حالات اور فاسٹ میڈیا کی دھول میں اٹا ہوا ہے۔ادبی فضا کا یہ سُونا پن ان ادبی سومناتوں کی تساہل پسندی پہ نوحہ کناں ہے۔

اسی حلقے سے منحرف ہو کر ایک اور ادبی فورم بنا تھا۔دو نوجوان شاعر حبیب الرحمان مشتاق اور احسان شاہ اس کے سر خیل تھے۔یہ دونوں صاحبِ کتاب شاعر ہیں۔بہت خوب صورت اور معیاری کلام کہتے ہیں ۔ادبی فورم جسے انہوں نے فکری تحریک کا نام دیا تھا۔اس کی ابتدا میں دونوں بہت پرجوش اور فعال تھے۔کئی قابل قدر علمی اور ادبی محافل کا ان کو کریڈٹ جاتا ہے۔مگر وقت نے ایسی گردش دکھائی کہ حالات کی تیز موجوں میں تنکوں کی طرح بہہ گئے۔فکری تحریک نام کی تنظیم اب محض گئے موسموں کا نوحہ بن کر رہ گئی ہے۔مشتاق صاحب اور احسان شاہ فکرِ روزگار اور تساہل پسندی کی اس طرح لپیٹ میں آگئے ہیں کہ فکرِ سخن کی محفلیں اب صرف ریکارڑ کے طور پر ان کی الماریوں میں موجود ہیں۔

یہاں چمنستانِ ادب کی بے رونقی کا اس طرح بھی اندازہ لگائیں کہ ایک بھی ادبی رسالہ شائع نہیں ہوتا۔بہت اچھا لکھنے والے موجود ہیں ۔مگر ان کے پاس پلیٹ فارم نہیں ۔جس کی وجہ سے ان کا فن جمود کا شکار ہے۔وہ تو بھلا ہو مقامی اخبارات کا جن کا دامن لکھنے والوں کے لیے ہمیشہ کشادہ رہا ہے۔جس کی بدولت یہاں اردوزبان و ادب کو استحکام ملا ہے۔یہاں کی ابتدائی صحافت اور آج کے معیار کا موازنہ کریں تو آج کی صحافتی زبان اور اخبارات کا معیار قابلِ تحسین ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ادبی رویوں کے پھلنے پھولنے کے لیے خالص ادبی رسالوں کی ضرورت رہتی ہے۔ادبی رسائل اس معاشرے کے ادبی ،فکری اور سماجی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ادبی اور علمی حلقے اس بارے میں بھی سوچ لیں۔کئی سرکاری اور نیم سرکاری ادارے ،جن کا کام

ہی ادبی ، علمی اور ثقافتی رجحانات کی ترویج و ترقی ہے ان اداوں سے تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔بس اس کے لیے خلوص اور شوق سے ادب کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔

گلگت کے ایسے بے رنگ ادبی ماحول میں حفیظ شاکر صاحب کی کتاب ’’زندگی‘‘ نے زندگی کے کچھ خوش رنگ رویے زندہ کر دئے ہیں۔اللہ کرے یہ رویے اب پھیلتے جائیں تاکہ ادب اور کتب ہمیں ہماری اصل کی طرف لوٹادیں ۔اس فاسٹ میڈیا کی چکا چوند میں ہم بہت کچھ پانے کے شوق میں کئی قدروں اور آدرشوں سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔خدا کرے ہماری پہچان لوٹ آئے ۔مغربی فکر ایک پُر کشش کلچر کی شکل میں ہماری سماجی زندگی میں در آئی ہے۔اللہ کرے ہمارا احساس،ہماری سوچ اس دلدل سے نکل آئے۔

اس کے لیے لازم ہے کتاب کلچر ،میڈیا گزیدہ کلچر کے آکاس بیل سے خود کو چھڑا لے اور ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔

شاکر صاحب کی’’ زندگی ‘‘ سے ایک قطعہ پیش خدمت ہے۔۔۔

اب جو آئی ہے میری تازہ کتاب

زندہ لوگوں کے لیے زندہ نصاب

منفرد ذہنوں میں جتنے ہیں سوال

زندگی لائی ہے ان سب کے جواب

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔