وزرا سیکریٹریز کے آگے بے بس نظر آتے ہیں، سپیکر فدا ناشاد کی اسمبلی اجلاس دوران تنقید

وزرا سیکریٹریز کے آگے بے بس نظر آتے ہیں، سپیکر فدا ناشاد کی اسمبلی اجلاس دوران تنقید

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( فرمان کریم) سپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان حاجی فدا محمد ناشاد نے اسمبلی کے جا ری اجلاس میں صوبائی وزراء پر شدیدتنقید کرتے ہوئے کہا ہیکہ وہ اپنے متعلقہ سکریٹریز کے سامنے بے بس ہیں چاہیے تو یہ ہوتا کہ ان سکریٹریز کو وزراء چلاتے جبکہ وزراء کو سکر یٹریز چلاتے ہیں جو کہ انتہائی قابل افسوس مقام ہے حالانکہ رول آف بزنس میں صوبائی وزراء کے اختیارات کو واضح کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر سکریٹریز ان کی نہیں سنتے ہیں تو انہیں چاہے کہ وہ وزیر علیٰ جو کہ چیف ایگزیکٹیو ہیں ان کے پاس جائیں اور اپنے اختیارات حا صل کرے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سر کاری آفیسر کو ممبران اسمبلی کو یا اجلاس کی کاروائی کو حدف تنقید کا کوئی حق نہیں ۔ وزیر تعلیم بیرون دورے پر ہیں ان کے آنے کے بعد ڈائریکٹر تعلیم کے خلاف کاروائی کے لئے کہا جائے گا اگر وہ نہیں کرتا تو ہم خود ان کے اس بیان کیخلاف کاروائی کے لئے لکھے گئے۔ بدیاتی انتخابات کے انعقاد کے متعلق بات کرتے ہوےئے سپیکر کہا کہ بغیر مردمشماری کے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکتے ہیں اور اس وقت آبادی کا تنا سب بھی زیا دہ ہے وفاقی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے متعلق فیصلے کو یہاں بھی عمل در آمد کیا جا ئے۔ اور 2017 تک بلدیاتی انتخابات کو یقینی بنا یا ۔

سکردوائیر پورٹ کو حسن سدپارہ کے نام اور گلگت ائیرپورٹ کو شاہ خان کے نام کرنے کے متعلق انہوں نے کہ کہ یہ دونوں وفاقی سبجیکٹ ہیں وزیر علیٰ کو اس حوالے سے کہا جائگا کہ وہ مر کزی حکومت سے بات کریے۔ پالیمانی سکر یٹری اورنگ زیب نے ایوان کو بتایاکہ گور نیس آر ڈر 2009 اور رول آف بزنس میں صوبائی وزراء کے اختیارات محدود ہیں انہیں ملازمین کی ٹرنسفری کو سوا کچھ اختیارات نہیں۔ مکمل اختیارات حاصل کرنے کے لئے ہمیں ملکر جدہوجہد کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ اس نطام میں ہوتے ہوئے نہ وزیر علیٰ کچھ کرسکتے ہیں اور نہ ہی صوبائی وزراء۔

پی پی پی کے رکن اسمبلی عمران ندیم نے بات کر تے ہوئے کہا کہ اختیارت کو استعمال کرنے کے لئے خلوص اور جذبے کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کورنیس آرڈر میں ترمیم اور عوامی اختیارت کے حصول کے لئے جہاں تک ضرورت پڑے ہم حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری آفیسران ممبران اسمبلی کے خلاف اخبارات میں بیانات جاری کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کی میں نے گذشتہ ا جلاس میں میں نے محکمہ تعلیم میں ہونے والی تقریوں میں لی جانے والی رشوت سے متعلق بات کرتے ہوئے ثبوت دینے کا اعلان کیا تھا جس پرمحکمہ تعلیم کے ایک ڈائریکٹر نے میرے اوپر الزام لگایا کہ میں دباو ڈال کر اپنے من پسند افراد کو ملازمت دلانا چاہتاہوں انہوں نے کہا کہ میں اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کرتے ہوئے ایوان سے گذارش کرتا ہوں کہ اس کی تحقیقات کی جائے ۔ ہم ما حول کو خراب کرنا نہیں چاہتے ہیں وزراء کو چاہئے کہ وہ اپنے متعلقہ آفسران کو چاہے۔

ایم ڈبلیوایم کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رضوان نے صوبائی وزراء کے اختیارت کے متعلق بات کر تے ہوئے کہا کہ زوراء کے پاس مکمل اختیارات ہیں جس کے متعلق رول آف بزنس میں واضح کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جب صوبائی وزراء بے اختیارت ہیں تو انہیں صوبائی بجٹ میں بوج نہیں پڈنا جاہے۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراء کی جانب سے اسمبلی میں عدم شرکت سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کو اسمبلی سے کوئی دلچسپی نہیں اگر یہ سلسلہ رہا تو ہم بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔