تھوئی ۔۔۔۔۔ وادی یاسین کا ایک منفرد گاوں

تھوئی ۔۔۔۔۔ وادی یاسین کا ایک منفرد گاوں

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جاوید احمد ساجد

تھوئی ایک عجیب نام ہے معلوم نہیں کس زبان کا لفظ ہے ایک قیاس یہی ہے کہ بروشاسکی کا ایک لفظ توئی ہے جس کا مطلب چھوٹے چھوٹے پتھر وں کے ڈھیر کا ہے ، جو کہ کھیتوں میں حل چلانے سے پہاڑی علاقوں میں زمین سے نکلتے رہتے ہیں اور ان پتھروں کو چن چن کر ڈھیر لگاتے ہیں اور اس ڈھیر کو توئی کہا جاتا ہے اور تھوئی میں آج بھی جگہ جگہ یہ توئی نظر آتے ہیں اور نالوں میں یعنی گرمائی چراگاہوں میں تو بہت زیادہ ہی نظر آتے ہیں۔کہتے ہیں کہ کسی بندے نے اس جگہ کا نام پوچھا تو وہاں کے کسی باشندے نے کہا کہ کیا علاقہ ہے پتھروں کے توئی کہو نا بس اسی نسبت سے لفظ توئی سے آہستہ آہستہ بگڑ کر یہ تھوئی بن گیا۔

یاسین بلدیاتی انتظامی طور پر بھی چار حلقوں میں تقسیم ہے اور اسماعیلی لوکل کونسلات کے انتظام اورانسرام کے لحاظ سے بھی چارحصوں میں تقسیم ہے اور ہر دو کے انتظامی عمور کا چوتھا حلقہ یا چوتھا علاقائی کونسل ہے۔ یہ علاقہ برانداس سے تھوڑہ آگے گالنگ کے مقام سے شروع ہو کر اشقم غرو ،موشی بھر تک پھیلا ہو ا ہے۔تھوئی یاسین کے چاروں حلقوں میں سب سے چھوٹا اکائی ہے۔ یہاں کے لوگ بڑے محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کا زیادہ تر گذر اوقات کھیتی باڑی اور مال مویشیوں پر ہے۔تا ہم ایک بڑی تعداد کا انحصار فوج پر ہے اس کے علاوہ سرکاری ملازمتوں اور پرائیویٹ ملازمتوں میں ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ لیکن ملازمت کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی اور مال مویشی زندگی کے لازمی جز ہیں۔

یہاں کے لوگ نہایت سادہ اور خدا ترس ہیں اور بہت زیادہ محنتی اور سخت جفاکش لوگ ہیں ۔ جہاں تک پڑھے لکھے لوگوں کا تناسب ہے یاسین کے باقی تین حلقوں سے یہ تناسب زیادہ ہے۔ یہا ں کے لوگ شعبہ ء زندگی کے ہر میدان میں ہیں، اس علاقے کے باشندے پٹواری سے لے کر سیکریٹری لیول تک ہیں سکول کے چبڑاسی سے لے کر ایجوکیشن ڈائیر یکٹر اور پولیس کے سپاہی سے لے کر ایس پی تک او ر پاکستان آرمی میں سپاہی سے میجر کرنل رینک تک پہنچے ہیں ۔ انشا اللہ آنے والے دور میں جنرل بھی ہونگے۔ فوجی ملازمت میں ان کی تعداد یاسین کے تمام علاقوں سے زیادہ ہے ، یاسین میں سب سے زیادہ صوبیدار میجر، صوبیدار اور نائب صوبیدار ، پنشن اور حاضر سروس کی ایک بڑی تعداد ہے اور کمیشن افیسر بھی اس علاقے کے زیادہ ہیں ۔اور ٓارمی کے شہدا کی تعداد بھی اس علاقے کی زیادہ ہیں۔ ایک تمغہ جرآت جو کہ صوبیدار امان نے بعد از شہادت ۱۹۷۱ ء میں پایا اور ایک تمغہ خدمت سپاہی غراض نے کارگل کی لڑائی میں حاصل کیا، سابق سکریٹری حفیظا لرحمٰن کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے، ان کا چھوٹا بھائی مومن جان صاحب بھی سکریٹری ہیں اور ایک بیٹا کمال صاحب اے سی ایک بیٹا کمشنڈ افیسر اور ایک بیٹا گریڈ ۱۷ کا سرکاری افیسر ہیں ۔ حفیظ الرحمان صاحب نے ایک قابل وکیل کی حثیت سے اپنا پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور بہت عرصہ تک پبلک پروسکیو ٹر رہے اور پھر فرسٹ کلاس سیکریٹری کے عہدے سے پنشن حاصل کیا۔

تھوئی کے لوگوں کا مختلف شعبہ زندگی میں ملازمت کا تناسب کچھ اس طرح ہے۔

میڈیکل ڈاکٹر وں کی تعداد ۸ ، انجینیر ۴، جج ۱، قانون دان ۵، گزیٹڈ سرکاری افیسر ۷، میجر ۲، کیپٹن ۶، پولیس افیسرز ۲، پولیس کانسٹیبل ۵،

شعبہ تدریس سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد جو سرکاری اور آغا خان ڈائیمنڈ جوبلی سکول اور پرائیویٹ سکولوں میں ۷۰ سے زیاد ہ ہے ان کے علاوہ ۳ لیکچرار ہیں، آرمی کے کمیشن افیسر کی تعداد ۸ ہے، اس چھوٹی سی جدول سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تھوئی کے لوگ شعبہ زندگی کے ہر میدان کے فنکار ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان آرمی میں ہیں جن کی تعداد کچھ اس طرح ہے ، آرمی سے تعلق رکھنے والے سپاہی سے جے سی اوز تک کی تعداد تقریباََ ۱۰۵۰ ہے جن میں دو صوبیدار میجر، ۴۵ صوبیدار اور نائب صوبیدار، اور تقریبَاَ ۵۰ حوالدار ہیں ۔ آبادی کی تناسب سے یہاں کی ایک بڑی تعداد فوج میں ہیں۔

تھوئی کی کل آبادی تقریباََ گیارہ ہزار ( ۱۱۰۰۰) اور تقریباََ ۱۰۵۰ گھرانے ہیں اس سے اندازہ لگائے کہ فی گھر ایک سے زیادہ فوجی ملازم ہیں

سکولوں کی تعداد کچھ اس طرح ہے، سرکاری سکول ۴، ڈی جے سکول ۷، SAP سکول ۶، پرائیویٹ سکول ۴ ، اور ۲ پرائیویٹ کالج بھی قائم ہیں جو یہاں ہی لوگ چلا رہے ہیں، اور اسی طرح بہت سے لوگ بیرون ملک مقیم ہیں اور ایک کثیر زر مبادلہ کما کر پاکستان بھیج رہے ہیں

جنرل مشرف دور میں پکی سڑک اس علاقے کی آخری گاوں تھلتی تک بنایا گیا تھا ، جو کہ خستہ حالی کا شکار ہے۔ اس علاقے میں بھی دوسرے علاقوں کی طرح ایندھن خاص کر جلانے کی لکڑی کا انتہائی قلت ہے۔پہلے زمانے میں ند ی نالوں سے کئی کئی دنوں محنت مشقت کے بعد لائے جاتے تھے ۔لیکن آج کل تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ بلکہ لکڑی تو نہیں بل کہ گیلی ٹہنیاں کاٹ کر لائے جاتے ہیں اور بہت دور دراز، ندی نالوں میں جاکر مشکل سے چند گدھے بوجھ زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بیس من لکڑی کئی کئی دنوں کی محنت شاقہ کے بعد جاکر حاصل کیا جا سکتا ہے۔جو کہ سردیوں کے دنوں میں انتہائی مشکل سے گذارہ کے لئے بھی ناکافی ہے اور سردیوں میں اپنی زمینوں پر لگائے ہوے درختوں کو ہی کاٹ کر گذارہ کر تے ہیں۔ اس علاقے میں گیس اگر کہیں سے مہیا ء ہو سکے تو شاید یہ مسلہ کچھ حل ہو اس وقت بہت کم لوگ فان گیس کا استعمال کر تے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کوئی انتظام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کیا جارہا ہے۔

یہاں کی سردیاں نومبر سے شروع ہو کر تقریباََ اپریل کے آخر تک رہتا ہے اور پھر بہار اور موسم گرما اور ستمبر میں موسم خزاں اور پھر دسمبر سے سخت سردی شرع ہو جاتا ہے۔ اگر برف باری ہو جائے تو پھر اپریل کے مہینے تک زمین برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ اور سڑکوں پر برف جم جاتی ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت سے یہ سخت ہو کر ککر کی صورت اختیار کرتی ہے اور گاڑیاں پھسل کر ایکسیڈنٹ کے خطرات ہر وقت رہتے ہیں۔

اور گاڑیاں چلانے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑتی ہے۔ علاج معالجہ کی سہولت نہ ہو نے کے برابر ہے۔ صرف ایک ڈسپنسری ہے اور اس میں بھی دوائی اور ڈاکٹر میسر نہیں ۔آغا خان ہلتھ کی ایک ہلتھ سنٹر ہے جوذچہ بچہ کی سہولت کے علاوہ حفاظتی ٹیکے لگواتے رہتے ہیں۔اور آغاخان ہیلتھ سنٹر والے نرس ہی بیماروں کی علاج اپنی استطاعت کے مطابق کرتی ہیں اور دوائی وغیرہ بھی دیتی ہیں اور گوپس یا گلگت ریفر کرتی ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ یہاں کم از کم ایک دس بستروں کا ہسپتال اور ڈاکٹروں کی بھی تعینات کر ے اور لوگوں کو کم ا ز کم بنیادی صیحت کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ اور پاکستان آرمی اور فوجی فونڈیشن کی جانب سے بھی ایک ڈسپنسری اور ڈاکٹر کی تعینات کرے اور کم از کم دس ہزار کی آبادی کو صیحت کی بنیادی سہولت فراہم کرے۔ ایک بڑی تعداد میں لوگ فوجی اور فوج سے پنشنر ہیں جن کے گھر والوں کی علاج معالجہ کے خاطر ان کو گوپس یا گلگت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

مشہور فصلیں:

تھوئی اپنے گندم کی پیداوار کیلئے تو مشہور ہے ہی مگر یہاں جو، مکئی، باقلہ، باجرہ، دال مسور، مٹر (گھرک) اور دال لوبیہ، وغیرہ کی فصلیں ہو تی ہیں،

میوہ م پھل (فروٹ) : پھلوں میں خوبانی،سیب، آڈو، ناشپاتی، بادام، آلوبخارہ،اخروٹ ، گلاس(چیری) توت،شہتوت، بیر،خربوزہ، تربوزہ،وغیرہ کثرت سے پیدا ہو تا ہے ، آج کل سٹرابھری بھی کاشت کیا جاتا ہے

سبزیاں : سبزیوں میں یہاں گوبھی،گاجر شلجم ، کدو، پالک، سلاد پتہ جو کہ انتہائی لذیز ہوتاہے، مٹر،آلو، لوبیہ ( جب کچہ ہوتا ہے چھلکے کے ساتھ سبزی کے طور پکایا جاتاہے) کے علاوہ مقامی سبزی حزگار،سوانچل ، بارجو ہوئی، اشکرکا ،ہونیمینازیکی، فلیچی، بلغار، اشپتنگ، شفتل، شوٹا، لیکن سردیوں کیلئے سبزی کو خشک کر کے رکھا جاتا ہے

شکار : شکار میں مارخور، ہڑیال، چیتا،چکور، رام چکور ، مرغا بیاں اور موسمی فاختوں کا شکار کیا جاتا تھا لیکن اب بہت کم ہے۔ اسکے علاوہ مچھلی کا شکار بڑے شوق سے کیا جاتاہے۔ یہاں بھی ٹراوٹ مچھلی مشہور ہے چونکہ اس مچھلی کا گوشت لذیز ہونے کے علاوہ اس میں دوسرے مچھلیوں کی طرح کانٹے نہیں ہوتے ہیں۔اس مچھلی کی نسل کو انگریزوں نے کشمیر سے لاکر پھنڈر میں اس کی افزائش نسل کیا تھا جو اب پھیل کر پورے ضلع غذر کے دریاوں میں ملتاہے۔

تھوئی میں بسنے والی قومیں:: خوشو قتے، بیگلے، شکربیگے، آتمیں ، مورکلے، چوناکوچ، نونے، صوبہ کوچ، نوچے، یہ سارے بیگل نسل ہیں ، معشوقے، یا غزنے، خیبرے،ختو تے، بر گہے، ماشے، بسپائے، (بسپائے کے داد کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ شخص گھو ڑے سے تیز دوڑسکتا تھا) قرغزے،داشمنے،فتے، بونوکے، اور نونوکوچ، رشید بیگے، کلے

تھوئی کے گاوں : تھوئی کا پہلا گاوں غینگسیل، اشکائبر، کریم آباد، دلکوئی، داپس، درچ، مغجی رت ، حرپو، کونو، چھیر یٹے، چیکے داس (رحیم آباد) ، شوٹ، درسکن، اشقمداس، نلتی، تھلتی، خنجرآباد، اشقم غورو اورقدم آباد ۔ اس طر ح یہ ۲۱ گاوں بنتے ہیں۔

درے :

تھوئی سے ایک درہ نالہ دسپر سے درکوت جا نکلتا ہے۔دوسرا درہ ،نالہ موشی بر سے یارخون چترال نکلتا ہے ایک اور درہ نالہ خایمت سے چترال کی طرف جاتا ہے، جس کو پھرانی دو کٹم حاغوست کہا جاتاہے۔ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں چترال سے کوئی بندہ خایمت میںآ کر گرمیوں میں جو کی کاشت کرتا تھا ۔ ایک سال اس نے واپس جانے میں تاخیر کیا اور ایک روز موسم خراب ہو گیا اور اچانک برف باری شروع ہو گیا اور وہ شخص جلدی میں تھا کہ کسی بھی طریقے سے وہ درہ پار کر کے اپنے علاقے میں چلا جائے۔ اور اس نے ایک پھرانی جو کہ درختوں کی ٹہنیوں سے ایک بہت بڑا ٹوکرہ بنایا جاتا ہے جس میں بھوسہ ٹونے کا کام لیا جاتا ہے تو اس چترالی نے پھرانی میں بھوسہ اور کچھ اپنی ذاتی سامان ڈالا اور چل پڑا اور اور اس تنگ گاٹھی میں جا کر پھنس گیا اور برف باری اتنی زبردست تھی کہ وہ بہت جلد برف میں دپ گیا اور مر گیا اور یہ گاٹھی گلیشر میں تبدیل ہوگیا اور اس درے کا نام پھرانی دوکھٹم یعنی ٹو کرا پھنسا ہو ا درہ پڑگیا۔

مشہور شخصیات:

یہاں کے مشہور لوگوں میں دادا بے گل، مہری نمبردار جو کہ مشہور تلوار باز تھا، یہ بے گلے تھا، دادا بھسپہ جو کہ بھسپائے قوم کا جد امجد ایک مشہور تیر انداز بھی تھا اور ایک تیز رفتار گھوڑے سے تیز دورتا تھا کہتے ہیں کہ اس کے گٹھنے کے اوپر والی گول ہڈی نہیں تھا جس کی وجہ سے اس کے دوڑنے کی رفتار بہت زیادہ تھی اور وہ چڑھائی میں رام چکور کو دوڑ کر پگڑ سکتا تھا، اس کے علاوہ، نمبردار ہدایت شاہ، نمبردار زور آور، نمبر دار غفور جو سابقہ ڈسٹرک ممبر بھی رہا ہے، نمبر دار بدا خان، اتالیق وزیر تیغون ( صفدر) اتالیق بہادر امان شاہ، حاکم دوستان شاہ، کے علاو ہ سیکریٹری حفیظ ا ؒ رحمٰن ، سیکریٹری مومن جان، صوبیدار میجر افضل امان، صوبیدار میجر عظیم، نائب صوبیدار امان شہید ، خوش قدم شاہ شہید، نمبر دار سعید علی شاہ کونو ، غلام مراد شاہ، سعید علی شاہ، جج علی بیگ، مت شکاری، زر شکاری، مچھی شاعر، صوبیدار کبیر ، صوبیدار ابراھیم، ڈاکٹر حبیب، ذاہد شاہ مرحوم جو کہ سی ڈی اے اسلام آباد میں ڈایئریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ڈ ہونے کے بعد وفات پا گئے ایک انتہائی خدمت گذار اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے ان کی خدمات صرف یاسین نہیں بلکہ پورے غذر کی عوام کالئے تھے۔بازو لال، صوبیدار شاہ عصمت لال، پروفیسر صفدر علی، ڈایریکٹر میرزہ احمد ، ایس پی بابا خان، ڈاکٹر قیوم، اکبر شاہ سوشل ورکر، صوبیدار فیض اللہ، پھردم خان، حوالدار سورم، بلاور شاہ، ملائم بیگ ڈرائیور، شیر نبی، بوزک شکاری، بنک منیجر نظراب خان، دادا تیغون، دادا تیبول، خوشی محمد، حوالدار بیگمان شاہ، تھم (بپ) دادا ، سرفراز ، خلیفہ محمد جانی،محمد آباد المعروف قلندر خلیفہ، فقیری خلیفہ، شاہ زرین خلیفہ ، میون خلیفہ ، حوالدار خدآمان، حوالدار شاہ ظا ہر ، یاقوت استاد اور حوالدار امین شاہ اور بہت سے لوگ ہیں

 یہاں پر ایک بہت ہی مشہور شخصیت علی مراد ہے، جو کہ ایک عالم دین بھی ہے یعنی شیعہ امامی اسماعیلی کمیو نٹی کا ایک بہترین اور قابل واعظ تھا اور بعد میں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر منتخب ہو کر سیاست میں گیا اور مشرف دور میں انھوں نے بہت کام کیا اور بعد میں نون لیگ کے دور میں انتخابات سے پہلے جو نگران حکومت بنایا گیا اس میں بھی گلگت بلتستان کی قانون ساز کونسل کا رکن رہا ۔ ایک قابل اور ہر دل عزیز شخصیت ہیں اور ان کا ایک فرزند ، بھی ایک قابل انجینیر ہیں ۔

نالہ دسپر اور موشی بر کے فلک بھوس چو ٹیوں کو سر کر نے سالانہ سینکڑوں کوہ پیما اس علاقے کا رخ کر تے ہیں۔ اور سیا حوں کی ایک بڑی تعداد چترال جانے کے لئے یہاں سے گزرتے ہیں۔ یہاں ہر جگہ ایک چھوٹا بجلی گھر بن سکتا ہے لیکن ا فسوس ، منصوبہ بندی والا کوئی شخصیت نہیں جو بھی سیاسی ممبر آتا ہے وہ وقت پاس کرتا ہے جیسا کہ وہ عوامی نمائندہ نہیں بلکہ وہ ایک سرکاری ملازم ہے ۔ عوام کی خدمت کوئی نہیں کرتا،ورنہ سڑک اور بجلی کی کمی نہیں ہوتی ، حکومت اور عوامی ممبر خا ص کر موجودہ ایم این اے راجہ جہان ذیب سے گذارش ہے کہ وہ خصوسی دلچسپی لے کر اس علاقے کی ترقی کے دو بنیادی ضرورت بجلی اور سڑکوں کا ایک اچھا جھال بچھائے تو آئندہ کے لے اس کا اپنا ووٹ بنک کے علاوہ علاقے کی خدمت بھی ہو گی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔