خونریزی اور تصادم سے پہلے دیامر کے دو بڑے قبائل کو میز پر بٹھا کر تنازعہ حل کیا جائے، سعدیہ دانش

خونریزی اور تصادم سے پہلے دیامر کے دو بڑے قبائل کو میز پر بٹھا کر تنازعہ حل کیا جائے، سعدیہ دانش

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خبرنگارخصوصی)پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ دیامر کے دو بڑے قبائل کے درمیان کشیدہ حالات پر حکومت وقت کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کسی نئی خون ریزی ،تشدت اور تصادم سے پہلے دونوں فریقین کو ایک ٹیبل پر بیٹھا کے مسئلہ کو حل کریں ۔

انہوں نے منگل کے روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے کہاکہ دونوں فریقین کے عوام آمنے سامنے ہیں لیکن حکومت نام کی چیز کہیں نظر نہیں آرہی ہے ،اسمبلی اجلاس چل رہا ہے اور ایسے حساس معاملات پر بحث کروانے کے بجائے وزیراعلیٰ اور وزراء اسمبلی سے ہی غائب ہیں۔وزیراعلیٰ کو چاہئے تھا کہ اس پر کابینہ اجلاس بلاتے اور اس پر بات کرتے لیکن وہ اور ان کی وزیر عوامی مسئلہ حل کرنے میں نام ہو کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت زبانی کلامی حکومتی ریٹ قائم کرنے کی دعوے کررہی ہے اگر حکومت کی ریٹ قائم تھی تو کس طرح اتنا تشدد ہوا اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ؟کسی بھی قسم کے بڑے حادثے اور نقصان سے بچنے کے لئے حکومت سنجیدگی سے اس مسئلہ کا حل نکالے اور لڑاکر لوگوں کو تقسیم کرکے حکومت کرنے کے بجائے ان کے آپس میں بھائی چارگی پید کرکے حکومت کرنے کی کوشش کرے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس میں کوئی خون خرابہ یا کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت پر عائد ہوگی اور آنے والا وقت اور لوگ ان کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر سے منتخب نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اس ایشو کو اسمبلی کے فلور پر اٹھاتے لیکن وہ بھی وزیراعلیٰ کے حکم کے مطابق کوئی آواز نہیں اٹھا رہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔