گورنر میر غضنفر دیامر میں قراقرم یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دیامر کے رہنماوں کا بیان

گورنر میر غضنفر دیامر میں قراقرم یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دیامر کے رہنماوں کا بیان

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خصوصی رپورٹ: مجیب الرحمان)صوبائی وزراء وزیر زراعت حاجی جانباز خان وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی حیدر خان ،وزیر جنگلات عمران وکیل،وزیر وومن ڈویلپمنٹ و امور نوجوانان ثوبیہ جبین مقدم اور اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ نے دیامر میں قراقرم یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں منعقدہ اہم اجلاس میں کہا ہے کہ گورنر دیامر میں قراقرم یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ گورنر میر غضنفر نے دیامر کو جہالت کے اندھیروں میں رکھنے اور ہنزہ کیمپس کے قیام کے لئے دیامر کو جاہلوں اور طالبان کی سرزمین کہا ہے۔دیامر میں یونیورسٹی کی جگہ مدارس کے قیام کا مشورہ دیا ہے جبکہ ہنزہ میں یونیورسٹی کیمپس غیر منصفانہ طور پر وائس چانسلر پر دباؤ ڈالکر قائم کروادیا۔صدر پاکستان نے ہنزہ اور دیامر دونوں ضلاع کے کیمپسز کے قیام کی منظوری دی تھی۔جبکہ گورنر نے نازیبا کمنٹس کر کے وائس چانسلر پر دباؤ ڈالکر دیامر کیمپس کے لئے مختص فنڈز کو بھی ہنزہ کیمپس منتقل کروادیا ہے۔اور دیامر کو مکمل طور پر دیوار سے لگا کر یکسر محروم کر دیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ گورنر نے دیامر کیمپس کے حوالے سے کہا ہے کہ دیامر میں مدرسے بننے چاہئیں۔وہاں پر یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ دیامر کے لوگ طالبان اور جاہل ہیں۔گورنر کے ریمارکس دیامر کے عوام کی توہین ہیں۔عوام دیامر مدرسوں کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ عصری اور جدید علوم کی اہمیت اور افادیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔مختلف حکومتوں کے ادوار میں دیامر کو تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے۔دیامر کے لوگ صلاحیتوں کے اعتبار سے گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے لوگوں سے کسی طرح بھی کم نہیں ہیں۔اگر انہیں مواقع میسر ہوں تو وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ گورنر صرف ہنزہ کے گورنر نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے گورنر ہیں۔انہیں اتنی چھوٹی سوچ زیب نہیں دیتی ہے۔ ہم ہنزہ کیمپس کے مخالف بالکل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ قراقرم یونیورسٹی کے کیمپس استور اور غذر میں بھی بننے چاہئیں۔ تاکہ پورے خطے میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی ہو سکے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنر کے غیر منصفانہ اور ناجائز اقدامات کے خلاف صدر پاکستان کو ریفرنس بھیجا جائے گا۔اجلاس میں متفقہ طور پر صدر پاکستان ممنون حسین کو دیامر جیسے پسماندہ ضلعے میں قراقرم یونیورسٹی کیمپس کے قیام کی منظوری پر خراج تحسین پیش کیا۔اور اس اقدام کو دیامر کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے میں اہم سنگ میل قرار دیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔