ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی نمائندگی سےمعیاری ادویات کی ترسیل اور فارمیسی ٹیکنیشن کے روزگار کی فراہمی سہل ہوگی۔ چیف ڈرگ کنٹرولر گلگت بلتستان

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی نمائندگی سےمعیاری ادویات کی ترسیل اور فارمیسی ٹیکنیشن کے روزگار کی فراہمی سہل ہوگی۔ چیف ڈرگ کنٹرولر گلگت بلتستان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(مجیب الرحمان) چیف ڈرگ کنٹرولر گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ہونے والی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی نمائندگی نہ ہونے کی بناء پر دور افتادہ علاقوں میں جعلی ادویات کو روکنے اور سستی ادویات کی ترسیل میں بڑی مشکلات درپیش تھیں۔ جس کے تدارک کے لئے عرصے سے فیڈرل منسٹری اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اسلام آباد کے مابین خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھا۔مگر فیڈرل منسٹری میں حیلے بہانوں سے کام لیا جا رہا تھا۔جس بناء پر ادویات سے متعلق قانون سازی ،رجسٹرڈ ،غیر رجسٹرڈ ادویات کی پہچان جعلی ادویات اور ادویات کی قیمتوں کا تعین کا بروقت اندازہ لگانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ڈرگ انسپکٹرز انسپکشن کے دوران قیمتوں کی کٹنگ اور اسٹیکر لگا کر فروخت کرنے والے دوا فروشوں کے خلاف چارہ جوئی کرنے سے قاصر تھے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان میں نمائندگی سے نہ صرف ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ اس کاروبار میں ملوث قانون شکن عناصر کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لانا ممکن ہوگا۔ اس طرح فارمیسی کونسل گلگت بلتستان میں نمائندگی کو ختم کرنے پر سراپا احتجاج کیمسٹ اور فارماسسٹ کو بھی تسکین ہوگی۔ کیونکہ یہاں کے فارماسسٹ کو رجسٹریشن کے لئے پنجاب ،سندھ،بلوچستان اور کے پی کے میں جاکر رجسٹریشن کروانی پڑتی تھی۔

اسکے علاوہ فارمیسی اسسٹنٹ جن کو کیٹیگری بی دی گئی تھی فیڈرل فارمیسی کونسل کے اس فیصلے سے انکی بیرون ملک سروس کرنے پر قدغن لگ چکی تھی وہ ختم ہوجائے گی۔واضح رہے کہ اس وقت گلگت بلتستان سے کیٹیگری بی حاصل کرنے والے بہت سے فارمیسی اسسٹنٹ دبئی اور شارجہ میں خدمات سر انجام دے کر ماہانہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایات پر ڈرگ کنٹرول ایڈمنسٹریشن گلگت بلتستان کا ایک فارمیسی انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے فارمیسی ٹیکنیشن اور اسسٹنٹ کا دو سالہ کورس گلگت بلتستان میں ممکن ہوگا۔اور یوں یہاں سے پاس ہونے والاٹیکنیشن پاکستان کے کسی بھی صوبے میں بحیثیت فارمیسی اسسٹنٹ میدیکل سٹور چلا کر روزگار پیدا کر سکے گا۔جس سے پورے علاقے میں خوشحالی کے امکانات روشن ہونگے۔

وزیر اعلیٰ نے گزشتہ دنوں فیڈرل منسٹر ہیلتھ اور ڈرگ کنٹرول اتھارتی سے جی بی کو سنٹرل سنٹرل فارمیسی کونسل ڈرگ رجسٹریشن بورڈ ،لائسنسنگ بورڈ میں نمائندگی دلوانے پر گلگت بلتستان کے تمام فارماسسٹ اور کیمسٹس اور عوامی حلقوں نے سراہا ہے۔چیف ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے میڈیا کے نمائندے کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے گزشتہ سال 2015میں DOؒ ٰلیٹر کے ذریعے فیڈرل منسٹر سے پالیسی بورڈ میں جی بی کو نمائندگی دلوائی تھی۔جس پر آج بھی جنرل سلمان (ر)بحیثیت ممبر بورڈ کی میٹنگز میں جاتے ہیں۔اور اب یہ سنگین ایشو جس سے علاقے میں جعلی ادویات کی روک تھام اور خلاف ورزی کرنے والوں پر قوانین لاگو کرنے کی سبیل فراہم ہو چکی ہے۔جس سے یقیناً گلگت بلتستان میں معیاری ادویات کی ترسیل اور فارمیسی ٹیکنیشن کے روزگار کی فراہمی سہل ہوگی۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔