کوہستان: ایف سی اہلکار کے ہاتھوں قتل نوجوان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، مطالبات کی عدم منظوری پرمظاہرین ہرروز تین گھنٹے شاہراہ قراقرم بلاک کرکے احتجاج کرینگے

کوہستان: ایف سی اہلکار کے ہاتھوں قتل نوجوان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، مطالبات کی عدم منظوری پرمظاہرین ہرروز تین گھنٹے شاہراہ قراقرم بلاک کرکے احتجاج کرینگے

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان(شمس الرحمن کوہستانیؔ) کوہستان میں ایف سی اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان قاری عمر فاروق کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ ہزاروں لوگوں کو جگہ کم پڑنے پر دریائے آباسین پرقائم چائنہ پل اور شاہراہ قراقرم کا ایک حصہ جنازہ گاہ بنایا گیا۔ جنازے میں ضلع بھر سے عوام ، سابق و موجودہ ممبران اسمبلی، سول سوسائٹی ، صحافی ، تاجر ، وکلاء ، پولیس افسران اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔

جنازے سے قبل جامعہ مسجد کمیلہ کے خطیب مولانا عطاء الرحمن نے اعلان کیا کہ نماز ظہر کے بعد میت کو مسجد سے جلوس کی شکل میں اُٹھاکر جنازہ گاہ لے جایا جائیگاتاہم نعرے باز ی نہیں ہوگی ۔ نماز ظہر کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے متوفی قاری عمرفاروق کی میت جنازہ گاہ پہنچائی جہاں مولانا عطا الرحمن نے اُن کی جنازہ پڑھائی ۔ اس دوران ضلع بھر کے علماء بھی موجود تھے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ علماء نے مشترکہ طورپر میت کو کپڑوں میں لحد میں اُتارنے کا فیصلہ کیا اور متوفی کو شہید قراردیدیا۔ نماز جنازہ کے بعد فوری طورپر متوفی کو اپنے آبائی قبرستان کوز کمیلہ کے قبرستان میں دفنایا گیا ،جہاں علماء کرام نے عوام سے صبر کی اپیل کی۔

واضح رہے کہ متوفی حافظ قرآن اور کمیلہ میں ایک نجی بنک میں سکیورٹی گارڈ تھے جن کو ہفتے کے روز خان گل نامی ایف سی اہلکار نے جھگڑے کے دوران گولی مارکر قتل کردیا تھاجو گرفتار بھی ہوا۔ یہ واقعہ سول اور ایف سی ڈرائیور کی لڑائی سے شروع ہوا اور جلاو گھیراو اور قتل تک جاپہنچا ۔ کوہستان کے صحافی شمس الرحمن کوہستانیؔ نے اس اندوہناک وقوعے کی فوٹیج ٹیلی ویژن اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اپلوڈ کیا ہے جس میں واضح دیکھا جاسکتاہے کہ کس طرح پولیس کے پکڑنے کے باوجود ایف سی اہلکاران عام لوگوں پر سیدھا فائرنگ کررہے ہیں۔ ادھر مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف مشتعل مظاہرین نے ہرروز تین گھنٹے شاہراہ قراقرم بلاک کرکے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایف سی کوہستان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ کا بھی اعلان کیاہے۔

دوسری طرف ایف سی اہلکار کی جانب سے عام شہری کی ہلاکت کے بعد عوامی ردعمل میں اضافہ ہورہاہے ۔ مشتعل مظاہرین نے مسلسل دوسرے روز بھی احتجاج کیا ۔ اتوار کے روز سیو روڈ سے نکالی گئی ریلی داسو کے مقام پر جاکر جلسے کی شکل اختیار کرگئی جہاں ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عبدالستار اور سابق مو جودہ ارکارن اسمبلی ،علماء اور معززین بھی شریک تھے۔اس دوران ایف کے ظلم کی خوب مذمت کی گئی اور اُن کے خلاف نعرے بازے بھی ہوئے ۔ مظاہرین نے باری باری اپنے خطاب میں کہا کہ مطالبات کی منظوری تک روزانہ تین گھنٹے بین الاقوامی شاہراہ بلاک کرکے احتجاج کریں گے۔ انصاف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مظاہرین کمیٹی چیئرمین مولانا ولی اللہ توحیدی نے عوام کی جانب سے میڈیا کو بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کو اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے،ایف سی کوہستان کی ضرورت نہیں انہیں ضلع بدر کیا جائے اور مقامی نوجوانوں کے دس پلاٹون ایف سی میں بھرتی کئے جائیں ۔ کمیٹی ممبر عبدالجبار نے میڈیا کو بتایا کہ لواحقین اور مظاہرین نے مطالبہ کیاہے کہ جن ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ کی ہے اُن تمام کو گرفتار کرکے اصلحہ ظبط کرنے کے بعد اُن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کوہستان کے عوام نے فیصلہ کیاہے ایف سی کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا گیا ہے اُن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کریں گے کیونکہ یہ عوام کے قاتل ہیں ہمارے محافظ نہیں ۔

ادھر کوہستان سے رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سکرٹری برائے صنعت سرزمین خان نے میڈیاکو بتایا کہ عوام پر اندھادھند فائرنگ کرنے والوں نہیں چھوڑیں گے۔ ملزمان کے ساتھ کمانڈنٹ ایف سی کوہستان بھی برابرکا مجرم ہے جن کی ایماء پر شہری کا قتل ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی دوبیر بازار میں ایف سے نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی ۔ یہ لوگ کوہستان کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں ۔ وزارت داخلہ میں جاکر اُن کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراونگا ،ہمہ وقت حلقے کے عوام کے ساتھ ہوں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔