ہنزہ – شااہراہ قراقرم پہ تجاویزات کے خلاف کریک ڈوان،زمین مالکان اور بزنس ایسوسی ایشن کی طرف سے مزاحمت،معاوضہ ادا کرنے کامطالبہ

ہنزہ – شااہراہ قراقرم پہ تجاویزات کے خلاف کریک ڈوان،زمین مالکان اور بزنس ایسوسی ایشن کی طرف سے مزاحمت،معاوضہ ادا کرنے کامطالبہ

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (اجلال حسین) شااہراہ قراقرم ہنزہ کے مختلف مقامات پر اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ نے گزشتہ روز سرکاری زمینوں پہ تجاویزات کے خلاف کریک ڈاون کیا جہاں پر اے سی ہنزہ نے زمینوں کی چار دیواری کو گرانے کے علاوہ کیبن اور چند دکانوں کو بھی بلڈوزر سے گرا دیا۔ اس موقع پرمرتضی آباد اور علی آباد میں زمین مالکان اور بزنس ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اے سی ہنزہ کی جانب سے کی جانے والی اقدامات پر مزاحمت بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ قراقرم کے توسیع منصوبے میں زمین مالکان کو صرف 60 فیصد رقم ادا کر دی گئی ہے جبکہ بالائی ہنزہ کے عوام کو ایک روپے نہیں دیا گیا ہے۔ بغیر اطلاع اس طرح کے کاروائی پر ہم بھر پور الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے ہیں کہ شاہراہ قراقرم کے زد میں آنے والی زمینوں کو سرکار اٹھا دے مگر مالکان کو زمین کا معاوضہ ادا کرنے کے بعد اگر کوئی زمین مالک سرکاری زمین پر تجاویز کرتا ہے تو وہ قانونی لحاظ سے مجرم ہے مگر حکومت کی جانب سے زمین کے مالکان کو معاوضہ ادا کیئے بغیر زمین کو زبردستی اٹھانے کا عمل شروع کرے تو اس کے خلاف عوام سرکاری کی ہر قدم پر کھڑے ہو جائے گے۔ ہم ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہے کہ عوام کو زمینوں کا معاوضہ ادا کرے جس کے بعد عوام اپنے مد دآپ شاہراہ قراقرم کے زد میں آنے والی زمینوںک و از خود سرکار کے حوالے کرینگے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ شہریار خان نے کہا کہ ہمیں جہاں پر 60فیصد عوام کو زمینوں کا معاوضہ مل چکا ہے تجاویزات کو خالی کردے انشاللہ باقی کا رقم بھی ادا کر دیا جائے گا۔ تاہم مین بازار علی آباد میں تعمیرات جس انداز سے ہو رہی ہے وہ قانون کے خلاف ہے ہم نے اس سے قبل دو سے تین مرتبہ زمین مالکان اور بازار ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کر دیاہے جہاں پر سبزی فروش، چکن اور دیگر کاروباری لوگ جنہوں نے شاہراہ قراقرم کو اپنی جائیداد سمجھ کر قبضہ کر لیا ہے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم جہاں پر دکانوں کو توڑ کر تعمیراتی کام ہو رہا ہے ان کو ایک سے دو مہینہ دے سکتے ہیں جس کے لئے نہ صرف بازار ایسوسی ایشن بلکہ زمین مالکان کو بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔