چترال: دریا پربنےاکثر پُل ٹوٹنے کی وجہ سے لوگ چئیر لفٹ میں سفر کرنے پر مجبور

چترال: دریا پربنےاکثر پُل ٹوٹنے کی وجہ سے لوگ چئیر لفٹ میں سفر کرنے پر مجبور

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) 2015 کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے چترال کے دریا، سیلابی نالوں اور نہروں پر اکثر پُل تباہ ہوچکے تھے جن میں زیادہ تر پُل اب بھی ویران پڑے ہیں اور ان کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔ جبکہ بعض ایسے جگہ بھی ہیں جہاں دریا پر پُل کا ہونانہایت ضروری ہے مگر سرکار نے وہاں پُل ہی نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے سال سے ابھی تک لوگ اکثر چئیر لفٹ جسے مقامی زبان میں زانگو کہتے ہے کے ذریعے دریا پار سفر کرتے ہیں۔

دنین گاؤں، زنانہ ڈگری کالج اور شالدینی وغیرہ کو جانے کیلئے کوئی نزدیکی راستہ نہیں ہے، چیو پل سے گزرتے وقت آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔ ایک تو ٹریفک کا رش دوسری طرف بازار میں سڑک کے بیچ میں اکثر گاڑیاں کھڑے ہوکر سامان اتار تے ہیں جس کی وجہ سے آنے جانے والے لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم دیر چکدرہ سے تعلق رکھنے والے تاج محمد نے کڑوپ رشت بازار سے دنین تک جانے کیلئے دریائے چترال پر چئیر لفٹ یعنی زانگو لگایا ہے جس میں کثیر تعداد میں لوگ سفر کرتے ہیں اور لوگ اسی چئیر لفٹ میں بیٹھ کر دریا کے آر پار جاتے ہیں۔
تاج کا کہنا ہے کہ یہاں لوگوں کو بہت تکلیف تھی تو ہم نے ان کی تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے گولدور پل کی جگہ زانگو لگایا جہاں لکڑیوں کا پیدل پل سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا اور ایک زانگو یعنی چئیرلفٹ ہم نے دنین کیلئے لگایا ۔

اس زانگو میں سفر کرتے ہوئے محمد جان کا کہنا ہے کہ ہم صبح دفتر اسی زانگو میں جاتے ہیں اور سہ پہر کو واپس اسی زانگو میں آتے ہیں۔ بشیر محمد کا کہنا ہے کہ اسی زانگو میں سفر کرنے کیلئے آنے جانے کیلئے دس روپے ایک طرف سے اور دس روپے دوسری طرف سے ٹکٹ دیتے ہیں اگر یہاں سرکار نے پل بنایا تو ہمیں بیس روپے بچ جائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔