یونیورسٹی کیمپس کا عملاً قیام اور کلاسز کے اجراء نہ ہونے تک سراپا احتجاج رہیں گے۔ دیامر ایجوکیشنل موومنٹ

یونیورسٹی کیمپس کا عملاً قیام اور کلاسز کے اجراء نہ ہونے تک سراپا احتجاج رہیں گے۔ دیامر ایجوکیشنل موومنٹ

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان) یونیورسٹی کیمپس کا عملاً قیام اور کلاسز کے اجراء نہ ہونے تک سراپا احتجاج رہیں گے۔ کیمپس کے اعلانات پر دیامر کے عوام کو کوئی یقین نہیں ہے۔ کیمپس کے قیام کے اعلانات دیامر کے عوام کا رد عمل دبانے کی ایک کوشش لگتی ہے۔ حقیقی معنوں میں کیمپس کا قیام ایچ ای سی اور فنانس ڈویژن کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔ کیمپس کا قیام عمل میں لاکر کلاسز کا آغاز نہ ہونے تک دیامر ایجوکیشن موومنٹ چین سے نہیں بیٹھے گی۔

ان خیالات کا اظہار دیامر ایجوکیشنل موومنٹ کے راہنماؤں انضمام الحق،طاہر ایڈوکیٹ،مبشر،شیراللہ،صاحب الحق،نیازالدین،عبدالستار ،مقصود علی خان،ابوبکر صدیق و دیگر نے دیامر پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی علاقے میں تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔معیاری تعلیم کے بغیر معاشرے میں روشن اور خوشگوار مستقبل کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے سب سے بڑے ضلع کوروز اول سے ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔اور معیاری تعلیم کے مواقع فراہم ہی نہیں کئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے علاقہ تعلیمی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔اور لوگوں کے ذہنوں میں انتہا پسندانہ رجحانات جنم لے رہے ہیں۔

الف اعلان کی سروے کے مطابق ضلع دیامر تعلیمی لحاظ سے سب سے پسماندہ ضلع ہے،جو انتہائی شرمناک امر ہے۔گلگت بلتستان کے تین ڈویژنوں میں سے گلگت ڈویژن میں 2002میں یونیورسٹی بنی۔جبکہ بلتستان میں 2011میں کیمپس قائم کیا گیا ہے۔حال ہی میں دیامر کی ایک تحصیل سے بھی کم آبادی والے علاقے ہنزہ میں بھی اس کا کیمپس قائم کیا گیا ہے مگر دیامر کو تاحال محروم رکھا گیا جو انتہائی حیران کن امر ہے۔ ان راہنماؤں نے کہا کہ وہ ہنزہ سمیت گلگت بلتستان میں کیمپس کے بالکل ہی مخالف نہیں ہیں۔لیکن افسوس یہ ہے کہ مساوات اور انصاف کا گلا گھونٹا گیا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دیامر کی تعلیمی پسماندگی کے پیش نظر سب سے پہلے یونیورسٹی کیمپس اور یونیورسٹی کو دیامر میں ہی قائم کیا جا تا۔اس غیر منصفانہ تقسیم سے دیامر کے عوام کی ذہنوں میں ارباب اختیار کے خلاف شدید رد عمل پایا جا تا ہے۔اگر حکومت وقت نے عوام کی احساسات کا ادراک نہیں کیا تو مستقبل قریب میں مایوسی شدت اختیار کرے گی جس سے عوامی رد عمل سامنے آئے گا اورگلگت بلتستان کی امن و سلامتی کو خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔دیامر کے باسی خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ان کے لئے مواقع میسر ہوں گے تو یہ ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔دیامر ایجوکیشنل موومنٹ کے راہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کے آئی یو کیمپس کی منظوری صدر پاکستان ایچ ای سی اور فنانس ڈویژن سے جلد از جلد منظور کروایا جائے۔اور بلا تاخیر نئے سال کے آغاز میں ہی کلاسز کا آغاز کروایا جائے۔دیامر میں دردستان یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔چلاس ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دیا جائے۔انٹر کالج تانگیر میں کلاسز کا اجراء جبکہ کالج کو ڈگری کا لج کا درجہ دیا جائے۔داریل انٹر کالج کو بھی ڈگری کالج کا درجہ دیا جائے اور کلاسز کا جراء کیا جائے۔دیامر میں خواتین کے تعلیم کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔