ضلع کھرمنگ کا ہیڈکوارٹر

ضلع کھرمنگ کا ہیڈکوارٹر

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد ابراہیم اسدی کتی شوی

جب گانگچھے ضلع بن رہا تھا تو سکردو میں کچھ عمائدین کی خواہش تھا کہ کھرمنگ کو بھی گانگچھے میں شامل کیا جائے مگر کھرمنگ کو خدا نے ہمیشہ باشعور،پڑھے لکھے اور قائدانہ صلاحیتوں سے مالامال شخصیات سے نوازا جس میں مرحوم وزیر صادق مہدی آبادی، شہید اسد زیدی،
سیدغلام حیدر شاہ، حاجی فدا محمد ناشاد، وزیر شکیل احمد، کاظم سلیم، ؓبرادر میثم ، سید محمد علی شاہ،اقبال حسن، وزیر محمد سلیم مہدی آبادی ، سید امجد زیدی اور دیگر بہت سے شخصیات شامل ہیں۔ اُس وقت سید اسد زیدی نے کھرمنگ کو گانگچھے میں شامل کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی اور کھرمنگ کے کچھ لوگوں نے زیدی مرحوم کے اس فیصلے پر اعتراض بھی کیا۔ خیر زیدی مرحوم کے اس فیصلے کی قدر و قیمت کا اندازہ اہلیان کھرمنگ کو اس وقت ہوا جب کھرمنگ خود ایک الگ ضلع بن گیا۔ مگر تعجب اور افسوس ہوتا ہے کہ آج شہید زیدی کے سیاسی جانشین محترم امجد زیدی صاحب روزانہ ضلعی ہیڈکوارٹر کے حوالے سے تعصبات پر مبنی بیانات طولتی ہیڈکوارٹر نہ بننے کی صورت میں خون خرابہ ہو گا جیسے سخت بیانات سے زیدی مرحوم کے سیاسی بصیرت اور پورے کھرمنگ کی نمائندگی کو فراموش کر رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے ہیڈ کوارٹر گوہری ہی فائنل ہو گیاہے اور سرکاری نوٹیفیکشن بھی جاری ہو گیا ہے۔ مزید ہیڈکوارٹر پر بات کرنا اور لوگوں کے درمیان اختلافات کا سبب بننا غیردانشمندانہ فعل ہے ۔ دوسری بات کھرمنگ میں گوہری کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں جہاں ایک ہی مقام پر تمام سرکاری دفاتر کا قیام ممکن ہو ۔ البتہ گوہری سے نیچے مہدی آباد (سترق پی کھر) ہیڈکوارٹر کے لئے موزوں جگہ تھا جو وسیع ہونے کے ساتھ پانی ،بجلی،انٹرنیٹ اور دیگر تمام ضروری سہولیات بھی موجود تھیں۔ تیسری بات دنیامیں اوپر والے نیچے آنے کارواج تو ہے مگر نیچے والے سپیشل گاڑی بک کر وا کر اوپر جانے کا رواج نہیں ۔

چوتھی بات اوپر والوں کے لئے گوہری صبح وشام راستے میں ہی پڑتے ہیں جہاں صبح سکردو آنے والی گاڑی میں بیٹھ گئے اور شام کو سکردو سے واپس جانے والے  گاڑی میں واپس چلے گئے ۔
مگر (داپا کتی شو سے لے کر غاسنگ منٹھوکھا )کے لئے سپیشل گاڑی بک کر کے ہیڈ کوارٹر تک جانا اور لیٹ ہونے کی صورت میں و ہیں قیام بھی کرنا اس سے بہتر ا ن لوگوں کے لئے سکردو ایک لاکھ درجہ بہتر نہیں ہے۔۔۔۔؟یقیناًسوفیصد ۔

لیکن ضلع میں جہاں بہت سارے فائدے ہیں وہیں کچھ نقصانات بھی اور اس لئے داپا کتی شو سے لیکر خود گوہری تک کے عوام کو اپنے حصے کی قربانی دینے کی ضرورت تھی اور جو ضلع بننے کے لئے ضروری بھی تھا گوہری پر اتفاق کر کے دیا اس سے زیادہ قربانی ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔اب ان بیان بازیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے یہ صرف اخبارات میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے ہیں یا چند سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ہیں ۔ان بیانات سے ہم سمجھتے ہیں سوائے نقصانات کے فائدہ کوئی نہیں ہے ۔البتہ ایک بیان کھرمنگ کے ایک ذمہ دار شخصیت محترم کاظم سلیم صاحب کی جانب سے آیا اور مقامی اخبارات میں شائع بھی ہو ا نہایت ہی معقول ہے وہ یہ ہیں ۔؛ ضلع کھرمنگ سیاسی اور سماجی کارکنوں کو بالغ نظری دکھانے کی ضرورت ہے ۔ضلع کھرمنگ میں انتظامی اداروں کا قیام خوش آئند اور آگے کی سمت ایک خوشگوار قدم ہے اگرچہ ایک طرف ہمارے منتخب نمائندوں کی غیر معمولی مصروفیات اور دوسری طرف مناسب منصوبہ بندی کا فقدان اور صاحبان اختیار کے فرائض منصبی میں کوتاہی کے باعث یہ نو زائدہ ضلع اب بھی ؛ھنوز زایدہ نشدہ است کے محاورے کا مصداق بنا ہوا ہے ان حالات میں ہیڈ کوارٹر کو ایشو بنانا غیر دانشمندانہ فعل ہے ۔ایک سال قبل بھی سیاسی اور سماجی رہنماوٗں سے گزارش کیا تھا کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کا معاملہ خالصتا تکنیکی نوعیت کا ہے اس لئے سرکار کے ذمہ داروں کو مشترکہ علاقائی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہیڈ کوارٹر کا تعین کرنا چاہئے تکنیکی نوعیت کے محکمانہ امور میں مداخلت سیاسی رہنماؤں کا استصحاق ہے اور نہ ہی مینڈیٹ ۔( داپا کتی شو) مہدی آباد سے گنگنی برولمو تک کھرمنگ اور ایک ہی انتظامی اکائی ہے اس پوری اکائی کے حقوق کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں افہام وتفہیم پیدا کر کے مشترکہ علاقائی مفاد کا تحفظ سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے ۔اس بات سے قطع نظر ہے کہ ہیڈ کوارٹر کو طولتی میں ہونا چاہئے یا گوہری میں ہمارے منتخب نمائندہ جناب اقبال حسن صاحب کی طرف سے گوہری میدان کو خالصہ سرکار قرار دینا نہایت ہی غیر سنجیدہ اور خلاف حقیقت امر ہے کیونکہ کھرمنگ میں ایک انچ زمین بھی خالصہ سرکار نہیں بلکہ یہاں کے پشتنی باشندوں کی ملکیت ہیں ۔اب ایک نقطہ اعتراض اہلیان گوہری کی بجا ہے وہ معاوضہ طلبی کا مطالبہ اس پر جناب امجد زیدی خاموش ہیں ۔ تو دوسری طرف سرکاری نمائندگان خصوصا اقبال حسن صاحب کو خالصہ سرکار والی بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھا نہ جانے ان کو یہ بیان داغنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔؟ بحر حال ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

اس میں پہلی بات تو یہ طے ہے گلگت بلتستان میں کوئی جگہ خالصہ سرکار نہیں ہے یا تو ذاتی ملکیت میں ہے یا مختلف دیہاتوں کے مشترکہ چراگاہ ہیں جس کو ثابت کرنے کے لئے سب کے پاس (نقشہ حقوق گھاس چرائی ) موجود ہیں ۔ جو وزیر وزارت لداخ کے زمانے سے رائج ہے ۔
لہٰذا خالصہ سرکار کی نفی ہو گئی۔اہلیان گوہری کے درمیان کافی عرصے سے جو تنازعہ چلے آرہے ہیں میرے خیال میں انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ذاتی ملکیت ثابت کرنے کی کوشش کی جس کا ناجائز فائدہ حکومت نے اٹھایا ہوگا ۔ اگر دونوں فریقیں اس کو اپنی اپنی چراگاہوں کی صورت میں دعویٰ دائر کرتے تو فیصلہ دونوں میں سے ایک کے حق میں ضرور آتے ۔ایک اور اہم بات جس میں کافی وزن بھی ہے اور سوشل میڈیا پرعام بھی ہے وہ یہ ہے اگر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے پہاڑوں کو معاوضہ اربوں روپے دے سکتے ہیں تو بلتستان کے مختلف علاقوں کے زمینوں کو کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟

لہٰذا خالصہ سرکار کی نفی ہو گئی۔اہلیان گوہری کے درمیان کافی عرصے سے جو تنازعہ چلے آرہے ہیں میرے خیال میں انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ذاتی ملکیت ثابت کرنے کی کوشش کی جس کا ناجائز فائدہ حکومت نے اٹھایا ہوگا ۔ اگر دونوں فریقیں اس کو اپنی اپنی چراگاہوں کی صورت میں دعویٰ دائر کرتے تو فیصلہ دونوں میں سے ایک کے حق میں ضرور آتے ۔ایک اور اہم بات جس میں کافی وزن بھی ہے اور سوشل میڈیا پرعام بھی ہے وہ یہ ہے اگر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے پہاڑوں کو معاوضہ اربوں روپے دے سکتے ہیں تو بلتستان کے مختلف علاقوں کے زمینوں کو کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟
لہٰذا معاوضہ اور میونسپل گوہری والوں کا بنیادی حق ہیں اس مطالبے پر حکومت کو بیان بازی کی بجائے عملی طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس پر ہم اہلیان کھرمنگ ایک اور یک زبان تھے ہیں اور رہیں گے ۔اب چند باتیں ہم سب کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے آپ اگر سمجھتے ہیں گوہری سے آگے ہیڈکوارٹر کو لے کر جانا ضروری ہیں اور اس پر (داپا کتی شو ،مہدی آباد) اور دیگر علاقوں کے تحفظات سے کوئی سروکار نہیں ہے تو یہ سب کی خام خیالی ہے اس کے دو نقصانات ہیں ۔
نمبر ایک کھرمنگ ضلع بن ہی نہیں سکتا ۔کیونکہ ان علاقوں کے لوگوں کو سکردو ہی آسان رہے گا
نمبر دو بن بھی گیا تو ہیڈ کوارٹر متنازعہ ہی رہے گا ۔ جس کی وجہ سے سرکاری مختلف دفاتر پورے کھرمنگ میں پھیلے ہوئے ہونگے جو سب کے عذاب سے کم نہیں ہوگا ۔
لہٰذا اہلیان کھرمنگ اور حکومت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس کو کسی بھی اختلافات کی نظر نہ ہونے دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔