دیامر کے عوام بجلی اور پانی کی کمی اور گندم کی عدم دستیابی سے پریشان

دیامر کے عوام بجلی اور پانی کی کمی اور گندم کی عدم دستیابی سے پریشان

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس( خصوصی رپورٹ)دیامر مسائلستان بن گیا ،داریل تانگیر سے لیکر تھک نیاٹ اور گوہرآباد تھلیچی تک عوام زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔تانگیر اور چلاس میں گزشتہ کئی ماہ سے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوام رُل گئے ہیں ۔داریل میں گندم بحران کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ،جبکہ تھک نیاٹ کے عوام کو بھی وقت پر گندم نہیں مل رہا ،جس کی وجہ سے عوام دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ،مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔چلاس شہر میں بجلی بحران کے ساتھ ساتھ شہری پانی کی بوند بوند کو بھی ترسے ہوئے ہیں ،پانی کی غیر قانونی کنکشن اور محکمہ واسا کی نااہلی کی وجہ سے شہر کربلا کا منظر پیش کررہا ہے ،شہر میں پانی کی سپلائی منصفانہ بنیادوں پر نہیں کی جارہی ہے ،جس کی وجہ سے عوام زہنی ازیت کا شکار ہیں ۔شاہین کوٹ،جلیل گاوں،فاروق آباد اور دیگر محلوں میں بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے ۔نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہر طرف اندھیر نگری چوپٹ راج ہے ۔ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے،شہر میں مہنگا ئی کا جن بھی قابو سے باہر ہے ،سبزی فروشوں سے لیکر پھل فروشوں تک سب اپنی اپنی من مانیوں میں غریب عوام کا خون چوسنے میں مصروف عمل ہے ،شہر میں اشیائے ضروریہ کی قمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔سبزی فروشوں کے ساتھ ساتھ قصاب والے بھی غیر معیاری اور پرانا گوشت فروخت کرنے لگے ہیں ،اور غریب عوام کو گوشت کی جگہ خالی ہڈیا ں ڈال کر عوام کو لُوٹ رہے ہیں ،اور رہی سہی کسر مرغی فروش والے نکال لیتے ہیں ،شہر میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا نام و نشان تک نہیں ہے ،مرغی فروش اپنی مرضی پر مرغی بیچ رہے ہیں ۔دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر چلاس شہر میں ہونی والی اندھیر نگری پر متعلقہ حکام کو خواب خرگوش کی نیند سے بیدار کرائیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔