ہنزہ کو چار گھنٹے ملنے والی بجلی بھی غائب، دلفریب وادی پر اندھیروں کا راج

ہنزہ کو چار گھنٹے ملنے والی بجلی بھی غائب، دلفریب وادی پر اندھیروں کا راج

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (اجلال حسین ) ہنزہ کے عوام کو مزید اندھیرے کا سامنا ، عوام کو 24گھنٹے میں چار گھنٹے ملنے والی بجلی بھی غائب ، تھرمل جنریٹر ایک بار پھر سے جواب دے گئی۔چار گھنٹوں کے لئے ملنے والی بجلی پھر غائب ہنزہ کے عوام کی قسمت میں ایک بارپھر تاریکی کا سامنا ہو گا، گزشتہ روز ہنزہ میں نصب ون میگاواٹ تھر مل جنریٹر میں فنی خرابی ہو نے کے باعث ہنزہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں مزید اضافہ ہو گیا عوام کو 24گھنٹوں میں شام کو صرف چار گھنٹے کے لئے تھرمل جنریٹر سے بجلی فراہم کرتے تھے مگر وہ بھی خراب ہونے کی وجہ سے ہائیڈیل پاور ون میگاواٹ مشین سے ہنزہ کے عوام کو 48گھنٹے میں اب چار گھنٹا بجلی فراہم ہو گی۔

محکمہ برقیات کے حکام نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ تھرمل جنریٹر میں فنی خرابی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بجلی کے لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ ہمارے پاس صرف ون میگاواٹ بجلی دستیاب ہے اس مشین سے جتنا بجلی فراہم ہوگی عوام میں تقسیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھرمل جنریٹر میں جو خرابی پیدا ہوگئی انشااللہ جلد از جلد ٹھیک کرکے عوام کو سابقہ حساب سے بجلی دینے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔عوام ہنزہ نے وزیر اعلی گلگت بلتستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ برقیات کے پاس موجود اضافی تھرمل جنریٹر جو کہ وہ بھی خراب پڑا ہے اس کی مرمت کے لئے اقدامات کیا جائے تاکہ ہنگامی بجیادوں پر اس کو بھی استعمال کرتے ہوئے عوام کو بجلی فراہم کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔جبکہ مایون شناکی میں 500کلوواٹ اور حسن آباد نالے میں 2میگاواٹ جبکہ مسگر ون میگاواٹ بننے والی پاور منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے کہ دن ہو یا رات ان منصوبوں پر کام کرتے ہوئے نلتر پاور منصوبے کی طرح قبل از وقت مکمل کرے تاکہ ہنزہ میں بڑھتی ہوئی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ پر قابوپایا جا سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔