عشیریت میں 50 کلوواٹ بجلی گھر کا افتتاح، چترال میں 55 چھوٹے بجلی گھر بنائے جارہے ہیں

عشیریت میں 50 کلوواٹ بجلی گھر کا افتتاح، چترال میں 55 چھوٹے بجلی گھر بنائے جارہے ہیں

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)لواری ٹاپ سے نیچے گاؤں بوزیگہ براڈام میں چترال روڈ کے بالمقابل واقع 50 کلو واٹ کے پن بجلی گھر کا افتتاح کیا گیا۔ یہ بجلی گھر پختونخواہ انرجی ڈیو لپمنٹ ارگنائزیشن (پیڈو) کی مالی معاونت سے ضلع بھر میں بننے والے 55 بجلی گھروں میں سے ایک ہے جو کہ اے کے آر ایس پی چترال نے گذشتہ سال کنسلٹنگ ایسوسی ایٹ پشاور کی زیر نگرانی مقامی آبادی کی پارٹنر شب سے تعمیر کیاتھا۔

افتتاح کے موقع پر چترال سے صوبائی اسمبلی کے کی ممبر بی بی فوزیہ نے باقاعدہ اس منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اے کے آرایس پی کور آفس اسلام آباد کے پروگرام منیجر ایم انیڈ ای شیرزاد علی خان، پیڈو پراجیکٹ کی ٹیم ، کنسلٹنگ ایسو سی ایٹ کا نمائندہ ، ویلج کو نسل کے ناظم ، کسان کونسلر، یوتھ کونسلر اور علاقے کے لوگ بھی موجود تھے۔ پروگرام منیجر ایم اینڈ ای نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیااور خیبر پختونخواہ حکومت اور ضلعی نمائندو ں کا بھی اس سلسلے میں شکریہ ادا کیاکہ مذکورہ پراجیکٹ صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جوکہ حکومت نے عوامی شراکت کے تحت اے کے آر ایس پی چترال کے ذریعے ضلع بھر میں 55 منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ حکومت کے ساتھ اس پارٹنر شپ میں اے کے آر ایس پی چترال کا ایک اچھاتجربہ رہااور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس پارٹنرشپ کو جاری رکھاجائے گا۔

انجینئر محمد ضیاء اللہ نے پراجیکٹ کے بارے میں شراکاء کو تفصیلی بریفنگ دیا۔

ایم ۔ پی ۔ اے نے اپنی مختصر سی خطاب میں اے کے آر ایس پی اور مقامی لوگوں کو مبارکباد دی اورکہا کہ پورے ملک میں توانائی کا بحراں شدت اختیار کرگیاہے اور خوش قسمتی سے صوبے کے اندر 35000 میگاواٹ تک کی بجلی پیدا کرنے کی گنجائیش موجود ہے۔ توانائی کے موجودہ بحران کو حل کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ضلع چترال کے اندر 55 چھوٹے بجلی گھر وں کے لئے فنڈز مہیا کردیے ہیں جن میں زیادہ تر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور باقی ماندہ اس سال کے اندر مکمل ہو جا ئیں گے اور ضلع کے اندر توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مقامی آبادی پر زور دیاکہ وہ اس پن بجلی کو چلانے کے لیے ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ تیا ر کریں ۔

آخر میں پراجیکٹ ڈائر یکٹر محمد درجات نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور مقامی تنطیمات کے لوگوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی بھر پور کوششوں سے مذکو رہ پراجیکٹ کامیا بی سے اپنی تکمیل کو پہنچا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔