خیال سےملاقات ۔۔۔ آواز اُٹھانا

خیال سےملاقات ۔۔۔ آواز اُٹھانا

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر حمایت خیال

بقول فیض احمد فیض:

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم وجاں بچا کے چلے

شب روز یونہی چلتے جارھے ہیں. ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ جاری ھے. کچھ دنوں سے دن و رات کا آرام و سکون غائب ھے. خصوصاً اسلام آباد سکینڈل کے بعد. پھر ایک دن کسی بہن کا کھلا خط جو کی وزیر اعلی کے نام تھا پڑھا. ہمت آئی کہ اب بھی زندہ دل لوگ بیباک اور نڈر لوگ موجود ہیں. شاید انہی لوگوں کی وجہ سے نظام دنیا چل رھا ھے.. ورنہ حکمرانوں کی بے حسی کچھ اور منظر پیش کرتی ہے..

آج میں حمایت نے ایک عجیب سا سوال کیا.. خیال…! مجھ یہ سمجھ نہیں آیا کہ ھمارے معاشرے میں لوگ اپنی آواز اٹھانے کیلئے ہڑتال، احتجاج، اخبارات میں تنقیدی بیانات کے بعد اب حکمرانوں کے نام کھلے عام خطوط لکھتے جا رھے ہیں… کیا ھم اس طرح ان نیم زندہ حکمرانوں کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں….!؟ اگر نہیں تو وہ کون سے طریقے ہیں جن کے ذریعے ھم ان کو اپنے طرف متوجہ کر سکیں گے…؟ ھمارے اچھے خاصے، پڑھے لکھے لوگ اب خواب دیکھنے لگے ہیں. اس طرح کے افعال کا ھمارے معاشرے میں کیا اثر پڑے گا…… ؟

کیا ھمارے حکمران اور شرفاء پاکستان میں موجود ۲۷ کروڑ زندہ لوگوں کی حالت زار سے واقف نہیں.. ..؟
اگر واقف ہیں تو کوئی حل نہیں موجود…؟ اگر حل موجود ھے تو مسائل سے نجات کیوں نہیں دلا دیتے…..؟

یار حمایت عجیب سوال کیا آپ نے.. ھمارے حکمران دیکھنے اور سننے کی طاقت رکھتے ہیں… پاکستان کے مسائل سے بھی آگاہ ہیں. مگر ان کے پاس وقت موجود نہیں ھے….. ان لاکھوں مسائل سے واقف ہیں. ھمارے معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو ملک کو ان مسائل سے نکال سکتے ہیں. مگر وہ لوگ اپنے آشیانوں میں زندگی گزار رھے ہیں……. حکمران طبقہ اس لئے کچھ کر نہیں سکتے کہ وہ مصروف ہیں… ….
اول تو انہیں اپنا کاروبار چلانا ھوتا ھے.
دوئم انہیں بیرون ممالک سیر و تفریح کیلئے جانا ھوتا ھے..
سوئم یہ کہ بیرون ممالک سے آنے والے مہمانوں کی خدمت…

چہارم انہوں نے خود کو مالک تصور کیا ھے.. آپ جانتے ھو کہ مالک فقط حکم چلاتا ھے. کام تو اس کے ملازم کر رھے ھوتے ہیں. مالک جب چاہے، جسے چاہے حکم دے سکتا ھے … نکال سکتا ھے… اور اپنے دائرے میں لا سکتا ھے. سوائے ان کے جو ضمیر فروش نہیں..

یار حمایت … ان کا بھی خاندان ھوتا ھے.. ان کےلئے بھی بیگم صاحبہ کا حکم، حکم آخر اور حکم اول ھوتا ھے. ان کے گھر پہ بھی تمھارےجیسےضدی بچے موجود ھوتے ہیں . جن کی ھر خواہش کو پورا کرنا ھوتا ھے…..

ان لوگوں نے کبھی کچھ نہیں کرنا. احتجاج، ہڑتال، دھرنے سے اگر کام نہیں ھو پا رھا تو تم پہ لازم ھے کہ تخت و تاج گرا دو. ایسا نہیں. تخت و تاج گرانے کا ھرگز یہ مقصد نہیں کی تم انہیں مار ڈالو. تخت و تاج گرانے سے پہلے اپنے معاشرے کو سدھارو … ھر شخص کو اس حقوق و فرائض سے آگاہ کر دو. حمایت …..! ناراض مت ھونا. کیا تم خود کرپشن نہیں کر رھے…..؟ یقین جانو ھم سب کرپٹ لوگ ہیں…. ھماری کرپشن اپنی اوقات کے مطابق ھے…. جتنی کرپشن اور بد ایمانی ھم کر سکتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں…. سب سے پہلے اپنے آپ کو ٹٹولیں…. دوسروں کو پہلے ان کی غلطی سے آشنا کرائیں پھر سکھائیں کیسے وہ غلطی ختم ھو سکتی ھے. آگاھی اھم مہم ھے. آگاہی کے بعد احساس ذمہ داری کا احساس دلاو. کیسے ، کب، کیوںکر، کسی کام کو انجام دیا جاتا ھے.

وہ لوگ کیسے صراط مستقیم میں آ سکتے ہیں جنہوں نے اپنی قوم کی عزت نیلام کی ھو. کچھ غلطیوں کا ازالہ ممکن نہیں. ایک شخص جب حقوق العباد کو پامال کر کے اپنے قدموں تلے روند ڈالتا ھے. ایسے گناہ کی تلافی نہیں موجود. فقط اس غلطی کا ازالہ یہ ھے کہ وہ اپنی قوم کے سامنے اقرارِ جرم کرے.. پھر قوم اُس سے معاف بھی نہ کرے… اس کے کالے کرتوتوں کے مطابق سر بازار سزا سنا دی جائے. جب حقوق عوام کے لٹائے جائیں تو وہ ایک مخصوص ٹولہ کیسے معاف کر سکتا ھے… انہیں کیسے کوئی معاف کر سکے گا جن لوگوں کی وجہ سے ۲۸ لاکھ عوام کے سر جھک گے…

میرے عزیز ….. ایک خط کیسے انہیں راہ راست پہ لا سکتا ھے …..ان لوگوں کو جو اکثر شرم و حیا کی سرحدیں پار رہتے ہیں… اگر کوئی ایک بھی باضمیر شخص ھوتا تو سب سے پہلے وہ مستعفی ھو جاتا. لیکن حمایت ….! یہ کیسے ممکن ھو سکتا ھے. جس کرسی کے حصول کیلئے ضمیر فروشی کیا ھو… رشتے ناطے توڑے ھوں… قوم سے غداری کی ھو…. لوٹا گیری اور ھر قسم کے گناؤنے کام کے بعد ملی ھو…. ایسا کبھی نہیں سوچنا….. ہاں ایسا کبھی نہیں سوچنا کہ کوئی مستعفی ھوگا ، کسی کو سزا سنا دی جائے گی …

حمایت …. بات یہ ھے. عوام کو آپس میں الجھا کر خود سیاستدان ملے ھوئے ہیں. انہوں نے آپس میں دوستیاں کی ھوئی ھیں. کوئی اپوزیشن اور مخالف نہیں. یہ لوگ ایک دوسرے کو راہیں ہموار کر دیتے ہیں….

رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں

کہاں اغیار سے ھے دشمنی میری
کہاں اغیار ظالم ہیں
یہاں اپنے، اپنوں کو ڈستے ہیں
کہاں پودوں کو کیڑوں سے خطرہ ھے

میں کیسے
حق و باطل… کو پہچان لوں گا
یہاں باطل بھی حاکم ہیں
یہاں جابر بھی حاکم ہیں
یہاں منصف بھی حاکم ہیں
یہاں سپاہ حاکم ھے
یہاں سالار حاکم ہیں
اے میرے مظلوم ساتھی…
مصنف و سپاہ و حاکم کی
اطاعت تجھ پہ لازم ھے….؟
میرے حاکم ……..
تو کچھ اس طرح سے کمال کرتے ھو
رسم و رواجوں کو پامال کرتے ھو
خود ھی کالک لگائے پھرتے ھو
خود ھی بستی جلائے رہتے ھو
دکانیں لوٹ کر… پربت چھان لیتے ھو

تمھارا یہ ستم بھی کیسا ستم ھے
جس کا کہیں بھی ماتم نہیں ھے
میرے حاکم تم بھی کمال کرتے ھو
عزتیں پامال کرتے ھو
عظمتیں پامال کرتے ھو
محنتیں پامال کرتے ھو
محبتیں پامال کرتے ھو
میرے حاکم….
کہاں اغیار سے ھے دشمنی میری
تم کیسے ھمارے ھو….
اور تم سے دشمنی کیسی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔