دہشتگردوں کا یاسین سے کوئی تعلق نہیں

دہشتگردوں کا یاسین سے کوئی تعلق نہیں

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج کل دہشت گردی کا پوری دنیا میں ہی ذکر رہتا ہے جیسے کل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حلف برداری کے موقع پر بھی ذکر کیا ۔ ہر ذی شعور انسان یہ ماننے پر مجبور ہے کہ دہشت گردی کا نہ مذہب ہے نہ اس کا کسی سرزمین اور نہ ہی کسی ایک علاقے ایک ملک یا کسی مذہب سے کوئی تعلق ہے اور جو لوگ دہشت گر دی کرتے ہیں ان کا بھی ان میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہیں ہوتا نہ وہ مسلمان ہیں نہ عسائی ہیں نہ یہودی ہیں نہ بدھ مت ہیں نہ کیمونسٹ ہیں نہ ہی سوشلسٹ ہیں۔ دہشت گرد کو کسی سے بھی ہم منسلک نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ دہشت گرد ہے، انسانیت کا دشمن ہے، وہ درندہ ہے ، وہ بھیڑیا ہے ، وہ خون خوار ہے، جو انسانی خون پینے کا عادی ہے، جو بے گناہوں کے خون پینے کا عادی ہے، جو معصوم بچوں ، بے گناہ، ماں باب کے خون پینے کا عادی ہے ، دنیا میں لاکھوں لوگوں کا خون بہا کر بھی اس کو آرام نہیں آتا، وہ تاگ میں رہتا ہے جو بھی موقع آتا ہے وہ اسے خالی جانے نہیں دیتا۔

میں آج ذکر کرنا چاہتاہوں ، گلگت بلتستان کی سرزمین شہداء، گلگت بلتستان کی ہی نہیں پاکستا ن کی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن و امان کی داعی ضلع غذر کی۔ جہاں حالیہ واقعات نے ہر ایک کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ تونہیں جو اس پر امن علاقے کی امن کو خراب کر نے کی کوشش کی جارہی ہو، یا اس علاقے کو بھی ترقی کی دھارے میں شامل کر نے کی ایک خبر کہ سی پیک کے ذریعے ایک سڑک غذر سے چترال اور صوبہ کے پی کے سے ملانے کا ہے کو سبوتاژ کر نے کی کوشش تو نہیں ، یا غذر میں اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کسی اور گناونی سازش کے تحت غذر کے پر امن لوگوں کو آپس میں لڑائی جھگڑااور فسادات میں ملوث کر کے یہاں سے کسی قسم کا غلط فائد ہ اٹھانے کی کوشش تو نہیں کیا جا رہاہے، جو بھی ہے کسی قسم کی بھی سازش ہے اس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے اپیل کر تے ہیں کہ جلد از جلد اس کا سد باب کیا جا ئے اور اگر اس میں ملوث لوگوں کو پکڑ لیا گیا ہے تو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور یہ بھی خیا ل رکھا جائے کہ کسی بے گناہ کو خوامخوا ہ کی کسی نا کردہ گناہ کی سزاوار قرار نہ دیا جائے ۔ چاہے یہ کسی کے ایجنٹ ہوں یا کسی کے آلہ کار ہوں چاہے اس کاتعلق کہیں سے بھی ہو، اور اگر مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد اور ٹھوس شواہد ملے تو ان کو قرار واقع سزا دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ کسی بھی قسم کی امن و امان کے راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے۔ اور حکومت کو چاہیے کہ ضلع بھر میں سکیوریٹی کو داخلی اور خارجی راستوں میں ہائی الرٹ کرے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ حالیہ پریس کانفرنس جو ،آئی جی نے کیا ہے اور اگر یہ درست ہے کہ جو لوگ پگڑے گئے ہیں ، تو ان کو بھی جلد سے جلد تحقیقات کے بعد سزا دی جائے اور ان کا تعلق اگرکسی دوسرے ضلع یا کسی دوسرے علاقے سے بنتا ہے تو اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ ان چند شر پسند لوگوں کی وجہ سے آپس کی تعلقات پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔

یہ اس صورت میں ہی ممکن ہے کہ گلگت بلتستان کے سب لوگ مل کر اس کا مقابلہ کریں اور کوئی با اثر شخصیت اس میں مداخلت نہ کرے اور عدالت کو جلدی اور بالکل انصاف پر مبنی اور جلد سے جلد فیصلہ سامنے لائے اور تحقیقات کا عمل بھی انتہائی شفاف ہو ۔ اور ہر کام تعصبیت سے بالا تر ہو کر کیا جائے۔
جہاں تک یاسین سے پکڑے جانے والوں کا تعلق ہے ان کا یاسین کے عوام سے کسی قسم کا تعلق نہ جوڑا جائے یہ ان کی ذاتی فعل ہے اور اگر یہ لوگ قصوروار ہیں تو ان کو بھی جلد سے جلد شفاف تحقیقات کے بعد عدالت سے جلد سزا دلوایا جائے اور ہم یاسین کے تمام لوگ ان کی اس حرکت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے یاسین کے سادہ لوح عوام کا کوئی تعلق نہیں اور حکا م سے اپیل ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر کڑی نظر رکھا جائے اور خاص کر ایسے لوگوں کی جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں شدید مذمت کر تے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی ہمت نہ ہو۔ یاسین کے لوگوں کی خدمات اور ان کی وفاداری کاذ کر میں یہاں نہیں کرونگا ،وہ پوری قوم جانتی ہے۔ لیکن چند ایک لوگوں کی وجہ سے پوری یاسین کے عوام پر انگلی اٹھانا انصاف نہیں جب کہ آج تک یاسین کے لوگوں نے فسادات کے گڑ جگہوں پر بھی انگلی نہیں اٹھایا ہے۔ ہم شکر کرتے تھے کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کے حالات بہتر ہو گئے تو یہ ایک دوسرا اشوشہ نہ بن جائے اور میں یاسین کے عوام سے بھی درخواست کر ونگا کہ وہ بھی ایسے شر پسند لوگوں کا خود بھی سد باب کرنے میں حکومت کی مدد کریں اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھیں اور ان کی حرکا ت سے حکام کو بھی با خبر رکھا جائے ۔ ہمیں اپنے علاقے کی امن و امان اور اخوت سے بڑھ کر کوئی شے عزیز نہیں ۔ علاقے کی امن و امان کو خراب کر نے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔ میں حکام بالا سے یہ تقا ضا بھی کرونگا کہ یاسین میں جماعت خانوں کو دھمکی دینا ایک لمحہ فکریہ ہے حکام کو اس بات پر جلد سے جلد اس بات کی سدباب کیا جانا چاہیے کہ اس دھمکی کے پیچھے کون ہے یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ ایک تحصیل میں اور وہ بھی یاسین جیسے پر امن علاقے میں عبادت خانوں پر پولیس کی تقرری میں نماز ادا کرنا انتظامیہ کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ایسی نوبت کیسے آیا ۔ اس بات کا سد باب نہایت اہم ہے اور جلد عوام کو اس کاجواب چاہیے کہ ایسا کیسے ہو سکا ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو
جناب عالی اگر پریس کانفرنس جو کہ غالباََ دھرایا یعنی کچھ عرصہ پہلے بھی کیا ہوا پریس کانفرنس کو دوبارہ دھرایاگیا نظر آتا ہے اور یہ کہ غذر سے صرف ایک روڈ کی شاید کشادگی سی پیک کا حصہ قرار دیا گیا ہے جو کہ ابھی تک زبانی جمع خرچ ہے کو سبو تاژ والی بات کچھ سوچی سمجھی ہی نظر آتی ہے۔ جناب عالی ضلع غذر جسے سرزمین شہداء کہا جاتا ہے وہاں کسی نالے سے مقامی کسی شخص سے اگر کچھ ہتھیا ر برآمد ہوے تو ایسے ہتھیار گلگت بلتستان ہی کے بعض ضلعوں میں ایک زمانے میں گدھوں کے پلندوں سے بھی بر آمد ہوئیں تھی لیکن کسی کو راء کا ایجنٹ قرار نہیں دیا گیا اور پاکستان کے ایسے علاقے جہاں لوگ کھلے عام کلا شنکوف اٹھا کر یاگلے میں لڑکا کر چلنا فخر سمجھتے ہیں ۔ تو ایسے میں بغیر کسی تحقیقات کے اور ثبوت یہ کہنا کہ یہ راء کے ایجنٹ ہیں اور سی پیک کو سبوتاش کرنے کی سازش ہے تو کیا لوگوں کو دس سال قبل خواب آیا تھا کہ کسی نے پاکستان

یہ چار ہتھیار کسی نالے میں چھپا کر رکھا تھا کہ یہ ہتھیا ر کب استعمال کرنا ہے۔کیا پاکستان میں کسی بھی سیاست دان کی کسی بھی کامیابی پر جو بے تہاشہ ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے وہ سب کے سب قانونی اسلحہ ہے اور کیا یہ بھی اسی قسم کی گناونی جرائم کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا جو چند ہتھیار وں کی برآمد پر پورے علاقے کے بے گناہ لوگوں کو بے وجہ بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ سی پیک کا سب سے لمبا روٹ جو کوہستان کے علاقے سے گذر رہی ہے کو ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں لوگ ان ہتھیاروں کا کھلے عام نمائش کرتے پھر رہے ہیں ۔ کراچی ہی میں بھی شاید آج بھی نو گو ، ایریاز ہیں یا ہو سکتا ہے ان کو صاف کیا ہو ۔ ان پر کسی دوسرے ملک کے ایجنٹ ہو نے کا الزام لگانے کی تو ابھی تک جرات نہیں ہوئی اور ایک انتہائی پر امن علاقے کو بد نام کرنا انتہائی افسوس ناک بھی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔