گانچھے: ریسکیو 1122 اسٹاف ، ایمبولینسز ، اور دیگر مشینریز کی کمی کا شکار

گانچھے: ریسکیو 1122 اسٹاف ، ایمبولینسز ، اور دیگر مشینریز کی کمی کا شکار

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے (اے آر رینگ چن ) گلگت بلتستان کا سب سے دور افتادہ اور سب سے بڑا ضلع گانچھے میں ریسکیو 1122 ابتدا سے ہی سٹاف ، ایمبولینسز ، اور دیگر مشینریز کی کمی کا شکار ہیں ۔ ضلع میں ریسکیو 1122 سروس شروع ہوے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ گانچھے کی سیٹ پر بھرتی ہونے والے کئی سٹاف دوسرے علاقوں میں ڈیوٹی کے لئے لے گئے ہیں۔ ضلع بھر کے لئے صرف دو ایمبولینس موجود ہیں جو ضلع کے تین تحصیلوں میں ایمرجنسی کی صورت حال و دیگر ریسکیو کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ 24 گھنٹے ضلع بھر میں ریسکیو کی خدمات دینے کے لئے صرف 45 کے قریب ملازمین ہیں جس میں دفتری عملہ بھی شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو کے کاموں میں انتہائی اہمیت کے حامل تیراک سرے سے موجود ہی نہیں ۔اسطرح کرین سمیت دیگر کئی اہم مشینریز سے بھی ابھی تک گانچھے ضلع محروم ہیں ۔ ضلع کے انتہائی کٹھن اور پُر خطر راستے بھی ریسکیو کے کاموں میں مشکلات کا باعث بنتے ہیں ۔ اسکے علاوہ ریسکیو 1122 ضلع گانچھے کے ملازمین بھی کئی سرکاری مراعات سے محروم ہیں ۔ ا ن مسائل کے باوجود ریسکیو 1122 کے عملے ضلع بھر میں انسانیت اور ہر ذی روح کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔جو قابل تعریف اور لائق تحسین ہے اور ضلع بھر کے عوام ریسکیو 1122 کے تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ عوا می حلقوں نے صاحب اقتدار و اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو 1122 گانچھے میں سٹاف کی کمی و دیگر مسائل حل کریں اور ضلع کے تینوں تحصیلوں میں ریسکیو 1122 کے پوانئٹ بنایا جائے تاکہ مسائل میں گھیرے ضلع میں ریسکیو کے مسائل کچھ کم ہو سکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔