گانچھے : محکمہ فشریز گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ہفت روزہ ورکشاپ کے اختتامی تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد

گانچھے : محکمہ فشریز گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ہفت روزہ ورکشاپ کے اختتامی تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے (اے آر رینگ چن) محکمہ فشریز گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ہفت روزہ ورکشاپ کے اختتامی تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی دپٹی کمشنر گانچھے ڈاکٹر فہد ممتاز تھے اسکے علاوہ تقریب میں رحمت علی ڈپٹی ڈائریکڑ محکمہ فیشریز گلگت بلتستان،محمد اکرام ڈپٹی ڈائریکڑ فشریرز گلگت ، پرنسپل ڈگری کالج خپلو محمد عالم ،اسسٹنٹ کمشنر خپلو صاحب الدین اسسٹنٹ کمشنر ڈغونی محمد رضا، اکاونٹ آفیسر گانچھے مبارک علی ، سوشل ویلفیر آفیسر غلام نبی و دیگر سمیت ضلع بھر کے پرائیویٹ فیش فارم مالکان نے شرکت کیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رحمت علی ڈپٹی ڈائریکڑ محکمہ فیشریز گلگت بلتستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ٹاوٹ مچھلی کی پیداور کے لئے گلگت بلتستان کی پانی انتہائی موزوں ہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قلیل پانی میں بھی کثیر تعداد میں مچھلی پیدا کر سکتے ہیں ۔ آبادی میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ ہمیں مچھلی کی پیداوار میں بھی اضافے کی ضرورت ہیں کیونکہ پروٹین کی ضروریات کو پورا کرنے میں مچھلی کی گوشت کا بہت اہم کردار ہوتے ہیں اس کے علاوہ ماہی گیری کے ذریعے سیاحت کی فروغ ، لوگوں کی ذرائع آمدن میں اضافہ سمیت کئی فائدئے ہیں اس سلسلے میں محکمہ فریشرز گلگت بلتستان اقدامات کر رہے ہیں ایک ٹن مچھلی کی پرورش کے لئے ایک کیوسک صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہیں بد قسمتی سے پانی کی مقدار روز بہ روز کم ہو رہے ہیں جس کے سبب مچھلی کی پیداوار میں مشکلات کا سامنا ہو رہے ہیں اس کے لئے ہمیں ان جہگوں پر فارمز بنانے کی ضرورت ہیں کہ جہاں پانی کی قلت کا سامنا نہ ہو اس سلسلے میں ضلع گانچھے انتہائی موذں علاقہ ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکڑ محکمہ فیشریز گلگت بلتستان نے ڈپٹی کمشنر گانچھے سے سوغا میں محکمہ زراعت والوں کے پاس موجود قدرتی جھیل کی ملکیت فریشریز ڈیپارمنٹ گانچھے کو منتقلی کی درخواست بھی کیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گانچھے نے کہا کہ شدید سردی کے باوجود محکمہ فشریز گانچھے نے کا میاب ورکشاپ کا انعقادکرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت ، معدینات ، ماہی پروری ، ڈرائی فروٹ کے ذریعے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں مگر آج تک ان شعبوں کو فروغ دینے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیا گیا ۔ عوام میں آگاہی کی کمی اور بڑئے مارکیٹوں تک رسائی نہ ہونے کے سبب یہاں کی لوگ حصول روزگار کیلئے صرف سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں کوئی بھی سرکاری ملازم اربوں روپے کا مالک نہیں بن سکتے جب تک وہ کرپشن نہ کرے اس کے مقابلے میں کاروبار میں آدمی محنت کے زریعے دن دگنی رات چکنی ترقی کر سکتے ہیں اور کاروبار نبیوں کا پیشہ رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ فشریز گانچھے سے ٹریننگ حاصل کرنے والے افراد سے امید کرتے ہیں کہ وہ ماہ پروری کی شعبہ میں کام کریں گے اور مزید لوگوں کو بھی اس پیشے کے بارے میں آگاہی فراہم کر کے ضلع بھر میں پرئیویٹ فش فارم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گئے اور ٹراوٹ مچھلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے ۔محمد اکرام ڈپٹی ڈائریکڑ فشریرز گلگت نے خطاب کرتے ہوئے کہا دس سالہ پروگرام ہے ۔ ابھی گلگت بلتستان کا ہر فرد سال میں صر ف 38 گرام مچھلی کا گوشت کھاتے ہیں جبکہ پاکستان میں اوسطہ ایک آدمی سال میں دو کلو مچھلی کا گوشت کھاتے ہیں محکمہ فیشریز گلگت بلتستان کا اگلے دس سال میں فی نفر اس کو بڑھا کر دو کلو تک لانا ہے اس لئے مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت ہیں ۔ مچھلی کی پیدا وار کو بڑھانے کے لئے اگلے دس سالوں میں دو سو سے زائد پرائیویٹ مچھلی فارمز بنانے کی ضرورت ہیں ابھی گلگت بلتستان میں 80 فیش فارمز ہیں ۔پانچ کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہیں ۔ جس میں فیش فارمز مالکان کو مالی ، تکنیکی ، معاونت کرتے ہیں اس پروجیکٹ کا تین سال مکمل ہوچکے ہیں ان تین سالوں میں مختلف افراد نے 67 نئے فیش فارمز بنائے ہیں ۔ بنیادی مقصد مچھلی کی پیداور کو بڑھانا ہے اس سلسلے میں ورکشاپ ، سمینارز اور ٹریننگ دیا جا رہا ہے ۔ ضلع گانچھے میں 22 فیش فارمز نے محکمہ سے تربیت حاصل کئے جن میں کچھ نئے فیش فارم مالکان بھی شامل ہیں ۔نثار حسین نے پرائیویٹ فیش فارمرز کی نمائندگی کرتے ہوئے نے کہا محکمہ ماہی پرواری نے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے ذرائع آمدنی میں اضافہ کرنے ، اور بہترین خوارک کی پیداور کا راستہ دیکھایا اور تعاون کر رہے ہیں اور ایک ہفتے کی تربیتی ورکشاپ کے بعد اب ہم بھی مزید لوگوں کو مچھلی پالنے کے فوائد سمجھا سکتے ہیں انھوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ڈی سی گانچھے سے خپلو میں پانی کی آلودگی کے بارئے میں نوٹس دلاتے ہوئے کہا کہ مچھلی پالنے کے لئے سب سے زیادہ صاف پانی کی ضرورت ہیں مگر خپلو میں روز بہ روز پانی کی آلودگی میں اضافہ ہو رہے ہیں اور لوگوں نے اپنے گھروں کے سیورج لائینوں کو نالوں میں چھوڑا ہوا ہے جس کے وجہ سے نہ صرف مچھلی بلکہ انسانوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا ہے انھوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام میں آگاہی پھیلا نے کے لئے اقدامات کریں اور پانی کو صاف رکھنے کے نلئے بھی کچھ اقدامات کریں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔