مرد بحران جناب آصف علی زرداری

مرد بحران جناب آصف علی زرداری

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیر برہان

ایک ایسا شخص جس کے لیے رائیونڈ کے شاھی محل میں پاکستان کے گیارہ بڑے دبنگ صحافیوں کو بیس بیس لاکھ روپے دیے گئے کہ اس کو “بدنام” کیا جائے، اور ٹھیک اسی نشست میں اس کا نام ٹریڈ مارک کے طور پر “مسٹر ٹین پرسنٹ” طے کیا گیا..

پھر کیا بنا؟؟ پاکستان کی طوائف میڈیا نے اس کا وہ ڈھول پیٹا کہ ہم سب اس ہٹلری پروپیگنڈا میں لٹو ہوگئے.
پی پی کی حکومت ٹوپی سرکار کی مدد سے ہٹ جانے کے بعد وہ مسلسل بارہ برس تک جیل میں رہا. اس کی زبان میں کیلیں ٹھوکی گئی…. صعوبتیں دی گئی، لیکن اس پر ایک بھی جرم ثابت نہ ہو سکا… اور وہ مسکراتے رہے.
اس نے شہید بی بی کے لیے دنیا جہاں میں لابیاں بنائی، لیکن وہ “حبِ علی کم بغضِ معاویہ” کا شکار رہے… وہ بھٹو کے نسل سے پیوند لگا کر وہی کھرا، بیباک رہا…

پاکستان میں اب تک میں نے کسی بھی سیاستدان کے اعصاب اتنے مضبوط نہیں دیکھے جتنے میں
مسٹر زرداری کے دیکھ رہا ہوں… اس کی مسکراہٹ میں یا تو کمال کی معصومیت ہے یا مانا جائے کہ دنیا میں اس سے بڑا فطین اب تک نہ پیدا ہوا ہے اور نہ شاید کہ ہو!

جب پاکستان ٹوٹنے کے عین نزدیک پہنچا تب اس نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر سندھ میں شہید بی بی کی شہادت پر ابھرنے والے انتقام پر ٹھنڈا پانی ڈال کر سب کو چپ کروادیا!
وہ صدر بنے….
اس کے بعد:
پاکستان میں پہلی بار، این ایف سی ایوارڈ تبدیل ہوا… لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
پاکستان میں پہلی بار کسی قوم کو اس کی شناخت ملی اور وہ سرحد کی لعنت سے نکال کر پختون کہلوائے، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
پاکستان میں پہلی بار دہشتگردی کو سائنسی نکتہ ہائے نظر سے نمٹایا جانے لگا جس میں اچھے اچھے “مقدس ادارے” بر سر روزگار نظر آئے اور سب نے دیکھا، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
پاکستان میں پہلی بار “اداروں” کو پارلیمان کے سامنے سر جھکا کر بریفنگ دینی پڑی اور ایسا ایک بار نہیں تین بار ہوا، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اربہا روپے بچانے کے لیے پہلی بار .. ہاں پہلی بار پڑوسی ممالک (انڈیا اور ایران) سے ٹرید شروع ہوا… جو کہ دو برسوں کے بعد بلین ڈالرز پاکستان کو بچت ہوگی، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
پاکستان میں پہلی بار انتہائی مکروہ کردار سامنے نظر آنے لگے، (میرا اشارہ کہاں ہے وہ آپ سب سمجھتے ہیں) لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں.
اور پتہ نہیں کیا کیا……
لیکن قیمت؟ کیا سمجھتے ہیں آپ کہ یہ سب ایدھی کی خیرات میں ملنے والے کمبل ہونگے؟
کیا سمجھتے ہیں آپ کہ جنہوں نے ان عوامل کو باندھے رکھا تھا وہ چپ رہیں گے؟
کبھی میمو تو کبھی کرپشن… کیا کیا…. الزامات کے سارے نشتر زرداری.. گالیوں کی بوچھاڑ زرداری… گندے سے گندے ایس ایم ایس زرداری….
پاکستان کے تمام محرکات، وہ وفاقی ہوں یا صوبائی، مذہبی ہوں یا سرخے، جمہوری ٹھپہ لگے ہوں یا ٹوپی والی سرکار کا، قومپرست ہوں یا موقعہ پرست،
ان سب کا مطعون زرداری….
امریکا کا دشمن بھی زرداری،
پاکستان کی ایجنسیوں کا بھی دشمن زرداری،
عدلیہ کا نشانہ بھی زرداری،
بی بی اخلاقی بیگم عرفِ عام میڈیا کے تمام تیروں کا شکار بھی زرداری…..
تو سوال یہ ہے کہ وہ ہے کیا؟ وہ کس کا ہے…. وہ کس کا کام کر رہا ہے؟
اپنے تمام تر بادشاہانہ طرزِ زندگی سے نکل کر کیا وہ واقعی ایسا ہے؟ ذرا عصبیت کی تمام عینکیں اتار کر جواب تو دیں!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔