ہندوستانی یوم جمہوریہ اور جمہوری تقاضے

ہندوستانی یوم جمہوریہ اور جمہوری تقاضے

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : سید عبدالوحید شاہ

تقسیم ہند کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے ۱۹۳۵ کا ایکٹ ہی بطور آئین مان لیا تا وقتیکہ وہ اپنا اپنا دستوری بندو بست نہ کر لیں ۔ چنانچہ ہندوستان کی سرکار نے ڈاکٹر امبید کر کی راہنمائی میں آئین ساز کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی نے دیئے گیے زائیچے کے مطابق تقریبا تین سال کی محنت کے بعد یہ آئینی مسودہ تیار کر لیا ۔ آئین ساز اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ آئین با قاعدہ طور پر ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ کو لاگو و نافذالعمل ہوا ۔۲۶ جنوری کی تاریخ کا چناو ٗ اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ ۲۶ جنوری ۱۹۳۰ کو ہی انڈین نیشنل کانگریس نے برطانوی سرکار سے آزادی کے لئے پرنا سوا راج کا اعلان کیا تھا ۔ پرنا سواراج مکمل خودمختاری کا نام تھا ۔جس کے پس پردہ وہ برطانوی راج کا خاتمہ کر کے خود مسلمانوں کواپنی غلامی کے شکنجے میں پھنسانا چاہتے تھے ۔ لہٰذا اسی مناسبت سے اس یوم کو یوم جمہوریہ کا نام دیا گیا ۔ہندوستانی آئین روزاول سے عملی تضادات کا مجموعہ رہا ہے ۔ جس ڈاکٹر امبید کر کو آئین ساز کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا وہ دلت یا اچھوت ذات سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کی اپنی قابلیت اور ذہانت الگ ، مگر ہندو برہمن کی عیاری و مکاری نہ بھانپ سکا ۔ چنانچہ ڈاکٹر امبیدکر کو یہ اہم ہدف دے کر اقوام عالم کی آنکھوں میں شروع دن سے یہ دھول جھونکی جا رہی ہے کہ ہندوستان اپنی بنیادوں اور اصولوں کی بناء پر سیکولر ، آزاد خیال اور اقلیت پرور ملک ہے ۔مگر اسی آئین کے نافذ ہونے سے پیشتر ہی ہندو بنیا اپنی اصلی نیت اور ارادے نافذ کرنا شروع ہوگیا تھا ۔ جس کے نتیجے میں ریاست حیدر آباد ، جونا گڑھ ، کشمیر سمیت دیگر کئی ایک چھوٹی بڑی ریاستوں کو بزور بازو و ازلی مکرو فریب اپنے قبضہ تسلط میں لا چکا تھا ۔

ہندوستانی آئین میں جس قدر بنیادی انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ریاستوں کی خودمختاری کی بات کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس معاملہ روا رکھا گیا اور اب تک جاری ہے ۔ہندو اکثریتی علاقہ ہونے کے سبب مسلمان ، عیسائی ،بدھ،سکھ حتیٰ کہ خود ہندو کی اپنی کمتر سمجھی جانے والی ذاتیں بھی اس جمہوریت سے پناہ مانگتی پھر رہی ہیں ۔آئے روز اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی داستانیں دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچتی ہیں اور اب تو علٰیحدگی کی تحریکیں اس قدر زور پکڑ رہی ہیں کہ ہر ریاست خودمختاری اور آزادی کی متمنی ہے اور بعض ریاستوں میں مقامی آبادی مسلح ہو کر اپنے حق آزادی کے لئے بر سر پیکار ہے جس کو جمہوری ہندوستان تسلیم کرنے کی بجائے بزور بازو دبائے جا رہا ہے ۔ہندوستانی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں تین بنیادی وجوہات و مطالبات پر مبنی ہیں ۔ بعض ریاستیں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور معاشی نا انصافی کی جدوجہد کی خاطر اٹھ کھڑی ہوئی ہیں تو بعض مذہبی آزادی کی سلبی اور جبرو تسلط کے نظام کے خلاف مجتمع ہیں جب کہ کچھ ریاستوں کا تو روز اول سے ہی اس جمہوریت اور اس کے قبیح ثمرات سے بری ہونے کا مطالبہ ہے ۔ان ریاستوں میں کشمیر ، آسام ، تبت ، لداخ ، سکھ (خالصتان پنجاب) کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کی طویل فہرست ہے ۔ تامل ناڈو اور نکسل وادی کی جدو جہد کو جتنی بھی کوشش سے ہندوستانی ذرائع ابلاغ دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرے ، بہرحال اس تحریک کو مسلنے میں ناکام رہا ہے ۔اسی نوعیت کی پنجاب میں سکھ تحریک اور اس کے نتیجے میں خالصتان کا مطالبہ ہندوستان کی کمر توڑنے کے مترادف ہے اور ان تمام جمہوری دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے جن کا ڈھونگ رچا کر ہندوستان اقوام متحدہ میں ویٹو طاقت کی استدعا کرتا رہا ہے ۔

یوم جمہوریہ پر ہندوستان اپنی تمام تر عسکری و قومی طاقت کا مظاہرہ کرے گا اور اقوام عالم پر اپنی کھوکھلی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کرے گا جس میں ہندوستان کا اصلی چہرہ ان ٹینکوں کی پریڈ کے پیچھے چھپایا جاے گا کہ جن کو چلانے والی بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکار چند روز قبل ہی اپنی حالت زار سماجی ذرائع ابلاغ پر بیان کر چکے ہیں ۔جہاں کرپشن کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان کو طشت ازبام کیا گیا ۔دلچسپی کا امر یہ ہے کہ اس یوم کی تقریبات میں دنیا کی ان تمام طاقتوں کو یا ان کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے جو انسانی حقوق ، جمہوری روایات اور آئینی بالا دستی کی امین و دعویدار ہیں ۔مگر ایسی تقریبات میں شرکت ہندوستانی گھناونے عوامل اور جبرو استبداد کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے ۔

انسانی حقوق کی پامالی اور حق خود ارادیت کا سب سے بڑا ثبوت اور مشق ستم ریاست جموں و کشمیر ہے جہاں مسلمانوں کی اسی فیصد آبادی ہونے کے باوجود ان کی مرضی منشا اور دستوری وآئینی الحاق کی پامالی کرتے ہوئے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے اور اب باہرسے ہندو وں کی آبادی کو لاکر کشمیر بسانے کی ترکیب کی جا رہی ہے تا کہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکے ۔خود ڈاکٹر امبید کر کے ان ارمانوں کا خون اور ان خواہشات کی نفی موجودہ مودی سرکار نے بدرجہ اتم کر دی ۔ آج دلت اقلیت ہندوستان میں کسی صورت بھی محفوظ نہیں اور نہ مسلمان بائیس کروڑ ہونے کے باوجود اپنی مذہبی آزادی کا اظہار کر پا رہے ہیں ۔ عیسائی اقلیت کو زبردستی ہندو دھرم اپنانے کا سلسلہ تو عروج پر ہے اور مسلمان اکثریت علاقوں میں مساجد کو منہدم کرنا ان کی توہین کرنا تو روز کامعمول ہے ۔ہندوستان کا یہ جمہوری چہرہ اقوام عالم اور امن پسند معاشرے کے لئے اگرچہ نیا نہیں مگر پر خطر ضرور ہے ۔ عالمی امن اور با لخصوص جنوبی ایشیا میں بنتے بگڑتے اتحاد اور بدلتے حالات کا تقاجا ہے کہ ہندوستان اپنی ان جمہوری روایات اور آئینی ذمہ داریوں کو کما حقہٗ پورا کرے اور خطے میں فساد کی بجائے امن و آشتی کا سبب بنے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔